عالمی یوم قلب کے موقع پر ماہرین صحت نے ہائی بلڈ پریشر کے شکار افراد کو مفید مشورے دے دیے۔
پاکستان میں 42 فیصد بالغ افراد کے ہائی بلڈ پریشر میں مبتلا ہونے کا تخمینہ ہے، تاہم باقاعدہ معائنے، ادویات اور صحت مند طرز زندگی سے بلڈ پریشر کنٹرول کرکے دل کے دورے، فالج اور دیگر پیچیدگیوں کا خطرہ کم کیا جا سکتا ہے۔
ان خیالات کا اظہار ماہرین امراض قلب نے عالمی یوم قلب پر منعقدہ اسکریننگ کیمپوں میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے بیماری کی بروقت تشخیص، باقاعدہ علاج اور صحت مند عادات اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
دنیا میں ہر تین میں سے ایک بالغ فرد ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہے اور اکثر اس مرض کی کوئی واضح علامت ظاہر نہیں ہوتی، مسلسل بلند بلڈ پریشر کا علاج نہ ہونے کی صورت میں وقت کے ساتھ خون کی نالیوں، دل، دماغ اور گردوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
ایک مرتبہ بلڈ پریشر کی ریڈنگ بلند آنے سے مرض کی حتمی تشخیص نہیں کی جا سکتی، اس کے لیے دوبارہ پیمائش اور طبی معائنہ ضروری ہے، کیمپوں میں جن افراد کی ریڈنگ بلند آئی، انہیں مزید طبی معائنے اور باقاعدہ فالو اپ کا مشورہ دیا گیا۔
ہائی بلڈ پریشر، بلند کولیسٹرول، ذیابیطس، موٹاپے، تمباکو نوشی، غیر صحت بخش غذا اور جسمانی سرگرمیوں کی کمی امراض قلب کے اہم عوامل ہیں۔ ان عوامل پر قابو پا کر بیماری کے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے۔
بلند بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کا دل کے دورے یا فالج کا سبب بننے سے پہلے پتا لگایا جا سکتا ہے، اس کے لیے کمیونٹی اور بنیادی مراکز صحت کی سطح پر جانچ کی سہولتوں کے ساتھ تجویز کردہ علاج جاری رکھنا ضروری ہے۔
شرکا کو نمک کا استعمال کم کرنے، تمباکو سے پرہیز، غذائی عادات بہتر بنانے اور جسمانی طور پر فعال رہنے کی ترغیب دی گئی، انہیں بلڈ پریشر، بلڈ شوگر اور کولیسٹرول کی باقاعدہ جانچ کا مشورہ بھی دیا گیا۔
ماہرین صحت میں قومی ادارہ برائے امراض قلب کی ایسوسی ایٹ پروفیسر آف الیکٹروفزیالوجی ڈاکٹر غزالہ عرفان ، پمز کارڈیک سینٹر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر فضل عزیز میاں اور پمز کے کنسلٹنٹ کارڈیالوجسٹ اور ایسوسی ایٹ پروفیسر آف کارڈیالوجی ڈاکٹر سید ناصر علی شاہ شامل تھے۔
واضح رہے کہ گیٹز فارما کے تعاون سے پاکستان کے 19 شہروں میں 50 سے زائد مفت ہیلتھ اسکریننگ کیمپ منعقد کیے گئے، ان کیمپوں میں 10 ہزار سے زیادہ بالغ افراد کے بلڈ پریشر کی جانچ کی گئی جبکہ کولیسٹرول ٹیسٹ کی سہولت بھی فراہم کی گئی۔

