وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا ہے کہ دہشتگرد جہاں سے بھی آئے وہ دہشتگرد ہی ہے اس کی کوئی درجہ بندی نہیں ہوتی۔
لیڈرشپ کورس کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آپ سب سے ملاقات کرکے بہت اچھا لگا، سرکاری افسران ایمانداری اور لگن سے کام کریں، پاکستان کی ترقی اورعوام کی خدمت کیلئے ہمیں اپنی خدمات بہتر بنانی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بھارت کو جنگ میں بھرپور جواب دیا،مسلح افواج دہشتگردی کا بھرپور مقابلہ کررہی ہیں، دنیا میں پاکستان کا ایک نیا تشخص اجاگر ہورہا ہے۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ جب تک اندرونی نظام درست نہیں ہوتا،داخلی سکیورٹی کوخطرہ رہےگا، سب سے پہلے ہم سب پاکستانی ہیں، کچھ چیزیں واضح ہیں جن پرتوجہ دینی چاہیے، ہمارا زوال وہاں سےشروع ہواجہاں ہمارا تسلسل ختم ہوا، پالیسی کا تسلسل نہ ہو تو ملک ترقی نہیں کرسکتا۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے18ویں ترمیم میں صوبوں کواختیارات منتقل کردیے، بدقسمتی سے صوبے اپنے اپنے ملک بن گئے ہیں، آج پنجاب اور دیگر صوبوں کا سسٹم دیکھ لیں،آج پنجاب دیکھ لیں،دہشتگردی کنٹرول میں ہے۔
افغانستان کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان ہمارا ہمسایہ ملک ہے لیکن جب ہمسایہ ملک اپنی سرزمین اور آپ کی سرزمین کو آپ کے خلاف استعمال کرے تو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
چاروں صوبوں میں مختلف مائنڈ سیٹ
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا تھا کہ چاروں صوبوں میں مختلف مائنڈ سیٹ ہے، پنجاب میں آج بھی دہشتگردی ویسے نظر نہیں آتی، پنجاب نے اپنے سیکیورٹی ادارے مضبوط بنائے، ان کی نگرانی ہورہی ہے، کوئی بھی دعویٰ نہیں کر سکتا مگر کچھ بھی ہوسکتا ہے۔
کوئی بھی اصلاحات کی جاتی ہیں ان کی آئیڈیالوجی بیان کرنا ضروری ہے، سی ٹی ڈی پنجاب جیسے کام کر رہی ہے، آئی جیز کے ساتھ میں باقاعدگی سے میٹنگز کرتی ہوں،لوگ کہتے ہیں یہ کام سی ایم کا نہیں ہے، میرے لیے کوئی نو گو ایریا نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں ٹاپ لیول کی فیصلہ سازی کرتی ہوں، لیڈرشپ میں فیصلہ کرنے میں ڈریں گے تو ملک آگے نہیں بڑھے گا،مافیا کلچر، ڈالا کلچر، جس کے پاس پیسہ ہے اس کی چلتی ہے، یہ کلچر پنجاب میں آچکا تھا، اب یہ کلچر پنجاب میں نظر نہیں آئے گا۔صوبے میں جرائم کی شرح میں70فیصد تک کمی ہوئی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کچے کے علاقے میں ریاست کی عمل داری کوبحال کیا، جب تک کریمنلز کو پکڑ نہ لیں آرام سے نہیں بیٹھ سکتے،دیہات میں مویشی چرا لیے جاتے تھے،اب جاؤ تو لوگ کہتے ہیں ہمارے مال مویشی محفوظ ہے۔
دہشت گردوں نے خیبرپختونخوا کا حسن تباہ کردیا، خیبرپختونخوا پہلے کیا ہوا کرتاتھا، اب دیکھ لیں۔گورننس، پرفارمنس اور انسٹیٹیوشن میں بہتری کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔
اپنا ڈیٹا بنایا، اپنی ریسرچ کی
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جب میں نے حلف لیا تو رمضان آگیا، سوچا غریبوں کو رمضان پیکج دیں،مجھے پتا چلا ایک ہی ڈیٹا تھا، ان میں بھی امیروں کے نام تھے، میں نے اپنا ڈیٹا بنایا، اپنی ریسرچ کی، خوشی سے بتارہی ہوں کہ پنجاب سوشل اکنامک رجسٹری بنائی تاکہ مجھے جس کو سپورٹ کرنا ہے تو پتا ہو کتنے لوگوں کی کیا ضرورت ہے۔
پنجاب اب ایک بٹن کے کلک پر ہے، میرے پاس 100 پلس پراجیکٹس ہیں جو میں نے شروع کیے،صوبے میں اس وقت تقریباً ایک لاکھ 30 ہزار گھر بنا چکے ہیں، ایک لاکھ گھر زیر تعمیر ہیں۔
خواتین کی حوصلہ افزائی
مریم نواز نے مزید کہا کہ خواتین ان ڈرائیو چلارہی ہیں، دکانیں کاروبار چلا رہی ہیں، میری کابینہ میں خواتین ہیں جو اپنے اپنے کام کی ماسٹر ہیں، صوبے میں خواتین ڈی سیز، ڈی پی اوز نظر آئیں گی۔
سیف سٹی پولیس میں خواتین کام کر رہی ہیں، ان کے لیے کوئی کوٹہ نہیں ہے، اقلیتوں کے لیے بھی کوئی کوٹہ نہیں، جو میرٹ پر ہے وہ آجائے، پنجاب میں سی ٹی ڈی جیسے کام کر رہی ہے، ہر جگہ وہ موجود ہیں۔
میں خواتین کی حوصلہ افزائی کرتی ہوں، اگر کوئی برا سلوک ہورہا ہے، ورچوئل پولیس اسٹیشن تک رسائی کریں، خواتین آپ کو رسپانڈ کریں گی، 5 سے 6 لاکھ کیسز ہم ڈیل کر چکے ہیں۔
گرین بسز کی فراہمی
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ واسا اس وقت پورے پنجاب میں ہے، سب کے پاس مشینری ہے،میں نے اعلان کیا ہے جو سڑک بنے گی اس کے ساتھ گرینری ہوگی۔ای موبلیٹی پر کام کیا، گرین بسسز آپ دیکھتے ہیں، یہ خواتین اور طالب علموں، بزرگوں کے لیے فری ہے۔
لوگوں کو اسٹیٹ آف دی آرٹ ماڈرن گرین الیکٹرک بسیں دی گئی ہیں، پورے پنجاب میں یہ انفراسٹرکچر ہم ڈویلپ کر رہے ہیں، کوئی بھی ڈاکومنٹ مریم کی دستک پر رجسٹریشن کرائیں، حل کر کے گھر تک پہنچائے جائیں گے۔
جہاز پر تنقید کرنے والوں کو جواب
وزیراعلیٰ مریم نواز نے جہاز پر تنقید کرنے والوں کو جواب دیا کہ میرے جہاز پر بات ہوتی ہے، وہ میرا نہیں رائیونڈ نہیں لے جانا، وہ یہیں رہنا ہے، میں نے کہیں بھی جانا ہو اسےاستعمال کرنا ہے، دوسرے صوبوں نے 16،16بلینز کا ہیلی کاپٹر رکھا کہیں اس کا نام نہیں،
بارشوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پنجاب میں پچھلے دو سال میں مون سون ایک دم سے شروع ہوجاتا ہے لیکن بارش کے بعد دو گھنٹے میں پانی کلیئر ہوجاتا ہے۔

