کوٹ لکھپت جیل میں قیدیوں کے درمیان تصادم کے معاملے پر آئی جی جیل خانہ جات میاں سالک جلال نے 6 افسران و اہلکاروں کو معطل کردیا، معطل کیے جانے والوں میں 2 اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ، ایک چیف وارڈر اور 3 وارڈرز شامل ہیں۔
نوٹیفکیشن کے مطابق افسران و اہلکاروں کو فرائض میں غفلت اور نااہلی کے الزام میں 90 روز کیلئے معطل کیا گیا ہے۔
آئی جی جیل خانہ جات نے انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کی روشنی میں مذکورہ افسران و اہلکاروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی۔
حکام کے مطابق کوٹ لکھپت جیل کے کچن ایریا میں 2 گروپوں کے درمیان جھگڑا ہوا تھا، جس کے دوران ایک قیدی کی جانب سے خود ساختہ کٹر سے حملہ کیا گیا۔
واقعے کے نتیجے میں سزا یافتہ قیدی محمد اشرف جاں بحق جبکہ ایک قیدی زخمی ہوگیا تھا۔
واقعے کے بعد جیل انتظامیہ کی جانب سے معاملے کی تحقیقات کیلئے انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، جس نے جیل میں تعینات متعلقہ افسران اور اہلکاروں کی ذمہ داریوں اور فرائض کا جائزہ لیا۔
6 افسران و اہلکاروں کے خلاف کارروائی
انکوائری کمیٹی کی رپورٹ میں فرائض کی انجام دہی کے حوالے سے غفلت اور نااہلی کی نشاندہی کے بعد آئی جی جیل خانہ جات نے 6 افسران و اہلکاروں کو معطل کرنے کا حکم دیا۔
نوٹیفکیشن کے تحت 2 اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ، ایک چیف وارڈر اور 3 وارڈرز کو 90 دن کیلئے معطل کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق واقعے میں قیدی محمد اشرف کی ہلاکت اور ایک قیدی کے زخمی ہونے کے معاملے کو بھی انکوائری میں شامل کیا گیا۔
جیل میں سکیورٹی اور قیدیوں کی نگرانی سے متعلق امور کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ اہلکاروں کی ذمہ داری کا تعین کیا گیا۔
دوسری جانب ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ اور سپرنٹنڈنٹ جیل کے حوالے سے انکوائری رپورٹ سیکریٹری داخلہ کو بھجوا دی گئی ہے۔
متعلقہ افسران کے کردار اور ذمہ داری سے متعلق مزید کارروائی انکوائری رپورٹ کی روشنی میں کی جائے گی۔
جیل حکام کے مطابق واقعے کے بعد انتظامی اورحفاظتی امورکا جائزہ بھی لیا جا رہا ہے تاکہ مستقبل میں قیدیوں کے درمیان اس نوعیت کے واقعات کی روک تھام کیلئے ضروری اقدامات کیے جاسکیں۔



