اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت میں ضلعی انتظامیہ نے دفعہ 144 کے نفاذ کا مراسلہ جاری کرتے ہوئے شہر میں کسی بھی قسم کے اجتماع یا اکٹھ کی اجازت نہ دینے کا اعلان کردیا۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے مطابق اسلام آباد میں کسی بھی نوعیت کے اجتماع، جلسے یا اکٹھ پرپابندی عائد ہے اور شہریوں کوہدایت کی گئی ہے کہ وہ پابندی کی خلاف ورزی سے گریزکریں۔
مراسلے میں کہا گیا ہے کہ پیس فل اسمبلی اینڈ پبلک آرڈرایکٹ 2024 کے تحت بھی اسلام آباد میں اجتماعات پر پابندی عائد ہے، ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا کہ مذکورہ قانون کے تحت عائد پابندی پرعملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق کسی بھی شخص یا گروہ کی جانب سے پابندی کی خلاف ورزی کی صورت میں قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
مراسلے میں مزید کہا گیا ہے کہ پیس فل اسمبلی اینڈ پبلک آرڈر ایکٹ 2024 کی خلاف ورزی پر 3 سال تک قید کی سزا مقرر ہے، اس لیے شہری قانون کی پاسداری کریں۔

ضلعی انتظامیہ نے متعلقہ اداروں کو بھی ہدایات جاری کرتے ہوئے پابندی پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔
دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد اسلام آباد میں عوامی اجتماعات سے متعلق پابندیوں کا اطلاق ہوگا، جبکہ شہریوں کو کسی بھی اجتماع یا اکٹھ میں شرکت سے قبل انتظامیہ کی جانب سے جاری احکامات اور قانونی ضوابط کو مدنظر رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
دوسری جانب حکومت پنجاب نے صوبے بھر میں دفعہ 144 نافذ کردی جبکہ مختلف شہروں کے لیے رینجرز کی خدمات بھی طلب کرلی گئی ہیں۔
صوبائی حکومت کی جانب سے جاری مراسلے کے مطابق صوبے میں 23 ستمبر سے 5 اکتوبر تک دفعہ 144 نافذ کی گئی ہے جس کے تحت پانچ یا اس سے زائد افراد کے عوامی اجتماعات، ریلیوں اور جلسوں پر پابندی ہوگی۔
مراسلے میں کہا گیا ہے کہ انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق دہشت گرد تنظیمیں عوامی اجتماعات کو ٹارگٹ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔ اجتماعات، ریلیاں، جلسے، دھرنے، جلوس اور مظاہرے دہشت گرد حملوں کیلئے ممکنہ آسان ہدف بن سکتے ہیں۔
مزید کہا گیا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ممکنہ دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے فوری حفاظتی اقدامات میں معاونت کی درخواست کی جس پر سیکرٹری داخلہ نے ضابطہ فوجداری 1898 کی دفعہ 144 (6) کے تحت عوامی اجتماعات پر فوری پابندی عائد کر دی۔
رینجرز کے دستوں کی تعیناتی کیلئے حکومت پنجاب نے وفاقی وزارت داخلہ کو مراسلہ لکھا جس میں راولپنڈی، اٹک، جہلم اور میانوالی میں تعیناتی کیلئے رینجرز کے دستے فراہم کرنے کی درخواست کی گئی۔
مراسلے کے مطابق راولپنڈی، اٹک، جہلم اور میانوالی میں رینجرز کے دستے 5 اکتوبر 2026 تک تعینات ہوں گے۔
ترجمان محکمہ داخلہ کے مطابق راولپنڈی میں رینجرز کی 3 کمپنیاں، اٹک میں 5 ونگز، جبکہ جہلم اور میانوالی میں ایک ایک کمپنی تعینات ہوگی۔
ترجمان نے واضح کیا کہ رینجرز کی تعیناتی کیلئے کابینہ کمیٹی برائے امن و امان کے 59ویں اجلاس میں منظوری دی گئی جبکہ وفاقی وزارت داخلہ کو مراسلہ پنجاب پولیس کی درخواست پر سکیورٹی میں معاونت کیلئے لکھا گیا۔
ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ عوام کی جان و مال کا تحفظ حکومت پنجاب کی اولین ترجیح ہے۔


