لاہور میں آذربائیجان سے تعلق رکھنے والی خاتون سے مبینہ اجتماعی زیادتی کے کیس میں نیا موڑ سامنے آگیا۔
متاثرہ خاتون نے ویڈیو بیان میں ملزم احمد تنویر کو بے گناہ قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف مقدمہ ختم کرنے کی اپیل کردی تاہم پولیس نے واضح کیا ہے کہ عدالتی مجسٹریٹ کے سامنے پہلے سے ریکارڈ شدہ بیان کی روشنی میں تفتیش میرٹ پر جاری رہے گی۔
خاتون ڈیانا نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا کہ احمد تنویر نے نہ ان پر تشدد کیا اور نہ ہی ان کا موبائل فون چھینا۔ ان کے مطابق ملزم نے ان کا موبائل فون اور دیگر سامان واپس کردیا تھا، اس لیے اس کے خلاف مقدمہ ختم کیا جائے۔ خاتون نے ویڈیو میں یہ بھی دعویٰ کیا کہ انہوں نے پہلے دباؤ میں آکر بیانات دیے تھے تاہم انہوں نے مبینہ دباؤ کی نوعیت یا اس کے پس منظر کی وضاحت نہیں کی۔
یہ بیان خاتون کے اس پہلے بیان سے مختلف ہے جو انہوں نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت جوڈیشل مجسٹریٹ کے روبرو ریکارڈ کرایا تھا اس بیان میں انہوں نے مبینہ زیادتی کے معاملے میں تین افراد کے نام لیے تھے۔
غیر ملکی خاتون ڈیانا کا ایک اور بیان جاری
سمجھ سے باہر ہے کہ پولیس نے احمد تنویر کو کس بنیاد پر گرفتار کیا ہے
میں اس وقت بھی عدالت جا کر بیان دینا چاہتی تھی
مجھے کہا گیا ہے کہ اپکی جان کو خطرہ ہے مجھے زبردستی پاکستان بھیجا گیا
مجھے اپنی مرضی سے اظہار کرنے اور فیصلہ کرنے کا موقع نہیں دیا گیااس سارے معاملے میں ایسا سلوک کیا گیا جئسے میں مجرم ہوں اور مجھے نکالا جا رہا ہے
میں ملزم محسن اور عزیر کو بھی معاف کرتی ہوں اس معاملے کو اگے نہیں بڑھانا چاہتی
— Waqas Awan (@WaqasAwan666) October 23, 2026
ڈی آئی جی انویسٹی گیشن سید ذیشان رضا کے مطابق خاتون کا بیان پہلے ہی عدالت میں ریکارڈ ہوچکا ہے اور پولیس اسی بنیاد پر کیس کی تفتیش جاری رکھے گی، تیسرے ملزم کو بھی ہر صورت تفتیش میں شامل کیا جائے گا اور تحقیقات میرٹ پر مکمل کی جائیں گی۔
پولیس کے مطابق زیر حراست دیگر دو ملزمان نے بھی تیسرے مشتبہ شخص کے مبینہ کردار سے متعلق بات کی ہے، ڈی آئی جی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو کو تفتیش پر اثرانداز ہونے کی کوشش قرار دیا۔
دوسری جانب سیشن کورٹ نے احمد تنویر کی عبوری ضمانت میں 27 اکتوبر تک توسیع کردی تھی، تاہم سماعت کے بعد پولیس نے انہیں عدالت کے احاطے کے باہر سے گرفتار کرلیا۔
ملزم کے وکیل صفدر شاہین پیرزادہ نے مؤقف اختیار کیا کہ پولیس اہلکار عدالت کے باہر تعینات تھے اور انہیں خدشہ تھا کہ ان کے مؤکل کو کسی دوسرے مقدمے میں بھی ملوث کیا جاسکتا ہے۔
احمد تنویر کی گرفتاری کے خلاف الگ درخواست بھی دائر کی گئی، جس میں الزام لگایا گیا کہ کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کے اہلکاروں اور سادہ لباس میں ملبوس افراد نے عبوری ضمانت کے باوجود انہیں حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کیا۔
درخواست میں خدشہ ظاہر کیا گیا کہ انہیں غیر قانونی حراست میں رکھا جاسکتا ہے یا پولیس مقابلے میں ہلاک کیا جاسکتا ہے۔ درخواست گزار نے عدالت سے ملزم کی بازیابی، پیشی اور سکیورٹی یقینی بنانے کی استدعا کی۔
سماعت کے دوران عدالت نے سیشن کورٹ کے سکیورٹی انچارج کو طلب کیا اور ہدایت کی کہ احمد تنویر کو بحفاظت ان کی گاڑی تک پہنچایا جائے۔
پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز نے بھی سوشل میڈیا پر بیان جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ملزم کے صاحب ثروت خاندان کی جانب سے خاتون کو الزامات واپس لینے کے لیے ڈیڑھ سے دو کروڑ روپے کی پیشکش کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ انہوں نے ضمانت دینے والے جج کو رشوت دیے جانے کے الزامات کا بھی حوالہ دیا۔
In a recent rape case, it was revealed that the accused’s wealthy family allegedly offered 1.5–2 crore to the victim in exchange for withdrawing her allegations, despite her statement already having been recorded under Section 164. It was further alleged that the judge who granted bail to the accused had also been bribed. If these allegations are true, they raise deeply disturbing questions about the integrity of the justice system and the vulnerability of rape survivors to financial pressure and the misuse of power. I will continue to keep a close eye on such cases to ensure that no rapist or perpetrator escapes justice simply because he has money, influence, or connections. Justice must never be for sale, and no one should be above the law.
— Maryam Nawaz Sharif (@MaryamNSharif) October 23, 2026
مریم نواز کے مطابق اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ انصاف کے نظام اور متاثرین پر مالی دباؤ کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھاتے ہیں۔ تاہم مالی پیشکش اور رشوت سے متعلق یہ الزامات تاحال آزادانہ طور پر ثابت نہیں ہوئے۔
پولیس کے مطابق آذربائیجان سے تعلق رکھنے والی 20 سالہ خاتون مبینہ واقعے سے چند روز قبل لاہور پہنچی تھیں۔ تفتیشی حکام کے مطابق دو خواتین نے ان سے دوستی کی اور انہیں ایک کیفے لے گئیں، جہاں تین مرد بھی موجود تھے۔
پولیس کے دعوے کے مطابق بعدازاں خاتون کو ایک اپارٹمنٹ منتقل کیا گیا، جہاں انہیں مبینہ طور پر نشہ آور چیز دے کر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان بعد میں انہیں ایئرپورٹ کے قریب چھوڑ کر فرار ہوگئے۔ واقعے کا مقدمہ لاہور کے تھانہ ڈیفنس سی میں درج کیا گیا تھا۔
خاتون کا تازہ ویڈیو بیان تفتیش میں ایک نئی پیش رفت ہے تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ تمام شواہد اور تینوں مشتبہ افراد کے کردار کا جائزہ لے کر قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
