وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ نئے انتظامی یونٹس کی بات کسی قوم یا زبان کیخلاف نہیں بلکہ انتظامی معاملات بہتر بنانے کے لیے کی جا رہی ہے، نئے صوبے سندھ کو عروج پر لے جائیں گے۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نئے انتظامی یونٹس سے متعلق منفی باتیں کی جا رہی ہیں ، سندھ میں نیا انتظامی یونٹ بننے سے کوئی قتل و غارت گری نہیں ہو گی، ہم پاکستان کو توڑنے نہیں بلکہ جوڑنے کی بات کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ نئے یونٹس بننے سے صحت اور تعلیم کا نظام بہتر ہو گا، پیپلز پارٹی کرپشن چھپانے کیلئے سندھ کارڈ استعمال کرتی ہے۔ کتوں کے بھوکنے سے قافلے رکا نہیں کرتے۔
پاکستان میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کا مطالبہ ایک عرصے سے سیاسی بحث کا حصہ ہے، تاہم سندھ کی تقسیم کے معاملے پر پاکستان پیپلز پارٹی کا مؤقف واضح طور پر مخالف رہا ہے۔ پیپلز پارٹی سندھ کو ایک جغرافیائی اور سیاسی اکائی کے طور پر برقرار رکھنے کو صوبائی خود مختاری اور 18ویں آئینی ترمیم سے جوڑتی ہے۔
وفاقی وزیر نے پریس کانفرنس میں مزید کہا کہ صوبوں کے تقسیم کی بات ذوالفقار علی بھٹو نے آئین میں لکھی ہے، بار بار کہتا ہوں، 18 ویں ترمیم نے چار نئے ملک بنا دیئے ہیں، اگر نئے صوبوں کا اعلان ہو جائے تو ان کو خزانہ ملنا بند ہو جائے گا۔ ییلو لائن بنانے والا ورلڈ بینک کا پیسہ کھا گیا ، صوبائی حکومت نے وہ لوٹے ہوئے پیسے ورلڈ بینک کو واپس کیے۔
ان کا کہنا تھا کہ کراچی کا برا حال کر دیا گیا ہے، پیپلز پارٹی کے دورمیں روزگار نہیں، کراچی میں امن کی صورتحال ناقص ہے، ڈاکو چند روپوں کی خاطر لوگوں کی جان لیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کراچی میں قتل وغارت کو ختم کرنے والی واحد جماعت ایم کیو ایم ہے، ہم نے اپنے لیڈر کو پہلے سمجھایا، جب بات نہیں بنی تو ان کو چھوڑ دیا۔
مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ یہ ملک ریاست سے بد دل لوگ پیدا کرنے والا ملک بن گیا ہے، ستر سال سے آپ عوام کو فوج سے لڑاتے آ رہے ہیں، یہ مسلئہ اب سر اُٹھا کر بولنے لگا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب پر حوثی حملے قابل مذمت ہیں، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ ہے ، قوم وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی قیادت میں متحد ہے، فیلڈ مارشل پوری دنیا میں پزیرائی حاصل کر رہے ہیں۔
خیال رہے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم) چھوٹے اور زیادہ صوبوں کی حامی ہے۔ ماضی میں ایم کیو ایم نے 19 صوبوں کی تجویز بھی دی، جس میں جنوبی پنجاب، ہزارہ اور سابق فاٹا کو الگ صوبے بنانے کی بات شامل تھی۔



