متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ سندھ حکومت نئے صوبوں کے حق میں نہیں، نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس سے بچنے کیلئے تبدیلیاں کی جا رہی ہیں۔
ہم نیوز کے پروگرام صبح سے آگے میں گفتگو کرتے ہوئے فاروق ستار کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اور سندھ کے وڈیروں کو تو وزیر داخلہ محسن نقوی کا شکریہ ادا کرنا چاہیے ، 18 سال میں پیپلز پارٹی نے سندھ میں تباہی مچائی، اب اگر ان کا بوجھ بانٹا جا رہا ہے تو ان کو خوش ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ اسمبلی میں لوکل گورنمنٹ ایکٹ نامناسب وقت پر سازش کے طور پر لایا گیا، یہ قانون 2013 سے لاگو ہے، لوکل گورنمنٹ ایکٹ آرٹیکل 140 اے کی نفی ہے۔ اس کی تصحیح ہونی چاہیے، ہم اس حوالے سے سپریم کورٹ بھی گئے تھے، جہاں سے ہمارے حق میں فیصلہ آیا تھا۔
فاروق ستار نے شہروں اور دیہات کو براہِ راست انتظامی اختیارات اور وسائل دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ نئے انتظامی یونٹس ملک کی سیاسی، معاشی اور سماجی ترقی کے لیے ضروری ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ قانون میں تبدیلی کرکے یہ نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کیلئے ہونے والے مکالمے کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر ریفرنڈم کرایا جائے اور اس کے نتیجے میں سندھ کے 6 ڈویژن میں انتظامی یونٹ بنتے ہیں، اور جب لاڑکانہ کے عوام کو پتا چلے گا کہ ان کے حصے کے 6 سو ارب روپے ایک وزیراعلیٰ کے پاس جاتے تھے لیکن یہ پتہ نہیں چلتا تھا کہ یہ پیسے کہاں چلے گئے۔ جب حیدر آباد ، نوابشاہ ، سکھر، میر پور خاص اور کراچی کو 6 سو ارب روپے ملیں گے تو وہاں کے وزیراعلیٰ کا احتساب آسان ہو گا اور بدانتظامی اور بدترین حکمرانی کو روکنا بھی آسان ہو گا۔
فاروق ستار نے کہا کہ کسی ترمیم کی ضرورت نہیں، وڈیروں ، جاگیر داروں اور سرداروں نے چند ہزار خاندانوں کی اجارہ داری کو چار صوبوں کے ذریعے قائم رکھنے کیلئے عوام کی شراکت داروں کو روکا ہے، پرویز مشرف کے زمانے میں جو اختیارات بلدیاتی اداروں کو دیئے گئے تھے وہ بھی رول بیک کر دیے گئے۔ اب یہ جو تھوڑے بہت اختیارات دے رہے ہیں اس کے ذریعے یہ نئے صوبوں اور یونٹس کا قیام روکنا چاہتے ہیں لیکن یہ کوشش ناکام ہو گی۔
ان کا کہنا تھا کہ کسی آئنی ترمیم کیلئے صوبوں سے نہیں پوچھنا چاہئے، کیا اس کیلئے کوئی صوبہ اجازت دے گا؟ ان لوگوں کا آمرانہ ذہن ہے، یہ صوبے بنانے کی اجازت نہیں دیں گے۔
ایم کیو ایم کے رہنما نے مزید کہا کہ سندھ حکومت نے کراچی کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا ہے، مارچ میں سندھ بلدیاتی نظام کے 4 سال پورے ہو جائیں گے، 6 سال میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے اپنے میئر کو بھی اختیارات نہیں دیئے۔
کون سی جماعت نئے صوبوں کی حامی، کون مخالف؟
متحدہ قومی موومنٹ پاکستان چھوٹے اور زیادہ صوبوں کی حامی ہے۔ ماضی میں ایم کیو ایم نے 19 صوبوں کی تجویز بھی دی، جس میں جنوبی پنجاب، ہزارہ اور سابق فاٹا کو الگ صوبے بنانے کی بات شامل تھی۔ اس کے علاوہ استحکام پاکستان پارٹی جنوبی پنجاب سمیت نئے صوبے بنانے کی حمایت کرتی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف ماضی میں جنوبی پنجاب صوبے کی حمایت کرتی رہی ہے، 2018 میں جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کے لیے اقدامات بھی کیے گئے تھے تاہم موجودہ سیاسی صورتحال میں پارٹی کا موقف واضح نہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی تاریخی طور پر جنوبی پنجاب صوبے کی حامی رہی ہے لیکن موجودہ بحث میں پارٹی پنجاب کی تقسیم کے معاملے پر محتاط مؤقف رکھتی ہے اور سیاسی اتفاقِ رائے کے بغیر صوبوں کی تقسیم کی مخالفت کرتی دکھائی دیتی ہے۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) مختلف ادوار میں جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کی حمایت کرتی رہی ہے۔ 2018 میں شہباز شریف نے جنوبی پنجاب صوبہ اور بہاولپور صوبے کی بحالی کے لیے آئینی ترمیمی بل لانے کا اعلان کیا تھا، موجودہ صورتحال میں صوبوں کے حوالے سے مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کے مختلف بیانات سامنے آئے ہیں جن میں سے بعض نے نئے صوبوں کی حمایت اور کچھ نے مخالفت کی ہے۔



