متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ سندھ حکومت نئے صوبوں کے حق میں نہیں ، نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس سے بچنے کیلئے تبدیلیاں کی جا رہی ہیں۔
ہم نیوز کے پروگرام صبح سے آگے میں گفتگو کرتے ہوئے فاروق ستار کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کو تو وزیر داخلہ محسن نقوی کا شکریہ ادا کرنا چاہیے ، 18 سال میں پیپلز پارٹی نے سندھ میں تباہی مچائی ، اب اگر ان کا بوجھ بانٹا جا رہا ہے تو ان کو خوش ہونا چاہیے، انتظامی یونٹس سے جواب دہی کا معاملہ آسان ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ سندھ اسمبلی میں لوکل گورنمنٹ ایکٹ نامناسب وقت پر سازش کے طور پر لایا گیا۔ لوکل گورنمنٹ ایکٹ آرٹیکل 140 اے کی نفی ہے۔
ایم کیو ایم کے رہنما نے مزید کہا کہ سندھ حکومت نے کراچی کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا ہے، مارچ میں سندھ بلدیاتی نظام کے 4 سال پورے ہو جائیں گے، 6 سال میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے اپنے میئر کو بھی اختیارات نہیں دیئے۔
کون سی جماعت نئے صوبوں کی حامی، کون مخالف؟
متحدہ قومی موومنٹ پاکستان چھوٹے اور زیادہ صوبوں کی حامی ہے۔ ماضی میں ایم کیو ایم نے 19 صوبوں کی تجویز بھی دی، جس میں جنوبی پنجاب، ہزارہ اور سابق فاٹا کو الگ صوبے بنانے کی بات شامل تھی۔ اس کے علاوہ استحکام پاکستان پارٹی جنوبی پنجاب سمیت نئے صوبے بنانے کی حمایت کرتی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف ماضی میں جنوبی پنجاب صوبے کی حمایت کرتی رہی ہے، 2018 میں جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کے لیے اقدامات بھی کیے گئے تھے تاہم موجودہ سیاسی صورتحال میں پارٹی کا موقف واضح نہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی تاریخی طور پر جنوبی پنجاب صوبے کی حامی رہی ہے لیکن موجودہ بحث میں پارٹی پنجاب کی تقسیم کے معاملے پر محتاط مؤقف رکھتی ہے اور سیاسی اتفاقِ رائے کے بغیر صوبوں کی تقسیم کی مخالفت کرتی دکھائی دیتی ہے۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) مختلف ادوار میں جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کی حمایت کرتی رہی ہے۔ 2018 میں شہباز شریف نے جنوبی پنجاب صوبہ اور بہاولپور صوبے کی بحالی کے لیے آئینی ترمیمی بل لانے کا اعلان کیا تھا، موجودہ صورتحال میں صوبوں کے حوالے سے مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کے مختلف بیانات سامنے آئے ہیں جن میں سے بعض نے نئے صوبوں کی حمایت اور کچھ نے مخالفت کی ہے۔



