مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن یا حکومت نے نئے صوبوں کی کوئی تجویز متعارف نہیں کرائی، اگر ہم نئے صوبوں کے معاملے پر پرعزم ہوتے تو اس پر بات کرتے۔
سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ صوبوں کے معاملے پر جب پارلیمان میں بات آئے گی تو مسلم لیگ ن اپنا موقف دے گی۔ پارلیمان میں تقاریر کے بعد پارلیمانی یا قائمہ کمیٹیاں بنیں گی، کمیٹیوں میں نجانے کتنے ماہ لگیں گے، اس کے بعد کوئی نتیجہ نکلے گا۔
انہوں نے کہا کہ صوبوں پر محسن نقوی کابینہ ، سینیٹ اور اسمبلی میں بات کریں گے تو پوچھ لیں گے، یہ کہنا کہ کوئی چاہے نہ چاہے صوبے بنیں گے، عوامی رائے کی ضد ہے، یہ کہنا کہ کوئی چاہے یا نہ چاہے صوبے بنیں گے، عوامی رائے کی ضد ہے، کچھ معاملات صرف غور و خوض اور مشاورت کی حد تک ہوتے ہیں، جب کوئی معاملہ ہم نے متعارف ہی نہیں کرایا تو اس پر بات کیا کریں؟
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ سندھ اسمبلی میں نئے صوبوں کے حوالے سے جس قسم کا ردعمل دیا گیا وہ غیر ضروری تھا، معاشی فورم میں صوبوں کے حوالے سے کی گئی تقریروں پر اس طرح کے ردعمل کی ضرورت نہیں تھی، پیپلز پارٹی نے صوبوں کے معاملے پر جذباتی تقریریں کرکے اپنے ووٹرز کو خوش کیا۔
انہوں نے کہا کہ صوبوں کے خلاف کھڑی ہونے والی جماعت کی بھی سیاسی مجبوری ہے۔ پیپلز پارٹی کے لیے صوبوں کا معاملہ صرف انا کا نہیں بلکہ بقا کا معاملہ ہے، اگر پیپلز پارٹی صوبوں کی مخالفت نہیں کرے گی تو فارغ ہوجائے گی۔
جنوبی پنجاب اور بہاولپور
لیگی رہنما رانا ثناء اللہ نے کہا کہ جنوبی پنجاب صوبے کی قرارداد تقریباً 10 سال پہلے پیش ہوئی تھی اور سب کا موقف تھا کہ جنوبی پنجاب صوبہ بننا چاہیے، مسلم لیگ ن کا موقف تھا کہ اگر جنوبی پنجاب صوبہ بننا ہے تو اس کے ساتھ بہاولپور بھی صوبہ بننا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب اسمبلی تحلیل ہوتی ہے تو قرارداد غیر مؤثر ہوجاتی ہے اور پنجاب اسمبلی کی جنوبی پنجاب سے متعلق قرارداد بھی اب غیر مؤثر ہوچکی ہے۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ جنوبی پنجاب کے مسلم لیگ ن کے اراکین صوبہ بننے کے حامی ہیں لیکن بہاولپور کو الگ صوبہ بنانے کے حامی نہیں، بہاولپور کے بغیر جنوبی پنجاب صوبے میں صرف دو ڈویژنز رہ جاتی ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ مسلم لیگ ن کے حالیہ اجلاس میں نئے صوبوں کے حوالے سے کوئی خاص بات نہیں ہوئی۔ محسن نقوی کابینہ، سینیٹ یا اسمبلی میں صوبوں کے معاملے پر بات کریں گے تو ان سے پوچھ لیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے نئے صوبوں کی حمایت کی تو ٹکے ٹوکری ہوجائیں گے، نئے صوبوں کی حمایت کی بھی ایک قیمت ہے اور وہ قیمت صوبوں کی حمایت کرنے والوں کو ادا کرنا ہوگی۔
نہروں کے منصوبے کا حوالہ
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ نہروں کا منصوبہ انتظامی یونٹس یا صوبوں کی تقسیم سے بھی بڑا منصوبہ تھا، اس منصوبے سے لاکھوں ایکڑ اراضی پر گرین انقلاب آنا تھا، عرب ریاستوں نے سرمایہ کاری کرکے لاکھوں ایکڑ اراضی حاصل کرنا تھی اور پاکستان پوری دنیا کے لیے خوراک کی باسکٹ بن سکتا تھا۔
انہوں نے کہا کہ نہروں کے معاملے پر پیپلز پارٹی آن بورڈ تھی اور صدر سے بھی پوچھا گیا تھا تاہم جب منصوبے کو مخالفت کا سامنا کرنا پڑا تو پیپلز پارٹی نے اپنا وعدہ چھوڑ دیا، عام سندھی شہری احتجاج کرتے ہوئے ہائی وے پر آکر بیٹھ گئے، پانچ روز احتجاج کے باعث درآمد، برآمد اور پیٹرول کی ترسیل بھی رک گئی۔
مشیر وزیراعظم نے کہا کہ اس کے بعد نہروں کے منصوبے کا کسی نے نام بھی نہیں لیا۔
نئے صوبے اور بلدیاتی نظام
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ نئے صوبے، انتظامی یونٹ یا خودمختار مقامی حکومت کا معاملہ بتدریج آگے بڑھتا ہے، پرویز مشرف کا ضلعی حکومتوں کا نظام ناکام ہوگیا تھا، بعد میں بلدیاتی نظام میں ترامیم ہوتی رہیں اور نہ وہ نظام ادھر کا رہا نہ ادھر کا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بلدیاتی انتخابات کرانے کے لیے تیار ہے اور الیکشن کمیشن کا بھی حکم موجود ہے۔
اسلام آباد کے مقامی حکومت کے قانون کے حوالے سے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ اسلام آباد کا لوکل گورنمنٹ ایکٹ پنجاب کے قانون سے ملتا جلتا ہے، قانون سازی کے اختیارات اسلام آباد کو دینے کی تجویز چھ، آٹھ ماہ پہلے دی گئی تھی جو تاحال زیر التوا ہے تاہم اس تجویز پر تبصرے شروع ہوگئے کہ یہ تو اسلام آباد کو صوبہ بنانے کی تجویز ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر وزیراعظم یا کابینہ سمجھتے ہیں کہ صوبوں کے سوال پر ریفرنڈم ہونا چاہیے تو معاملہ کابینہ سے پارلیمنٹ جائے گا اور مشترکہ اجلاس اس کی منظوری دے گا تاہم پیپلز پارٹی کے بغیر موجودہ پارلیمنٹ سے اس حوالے سے اکثریتی ووٹ کیسے حاصل کیا جاسکتا ہے؟
جماعت اسلامی کے لانگ مارچ پر رانا ثناء اللہ کا موقف
جماعت اسلامی کے احتجاج کے حوالے سے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ جماعت اسلامی نے ہمیشہ احتجاج اور لانگ مارچ قانون کے مطابق کیے ہیں اور جماعت اسلامی کے لانگ مارچ سے کسی تشدد کی توقع نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے لانگ مارچ میں کارکن تو ہوں گے لیکن عوام کی شمولیت کا امکان نہیں۔
تحریک انصاف کے اسلام آباد مارچ کے حوالے سے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ رپورٹس ہیں کہ مارچ میں مسلح افراد شامل ہوسکتے ہیں، امکانات ہیں کہ فتنہ خوارج یا دہشت گرد اس اجتماع سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افواج کو غیر مستحکم کرنے والوں کے لیے یہ مارچ اچھا موقع ہوسکتا ہے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہوگی کہ ایسے عناصر کو اٹک پل پر ہی روکیں۔
پیٹرولیم لیوی پر جماعت اسلامی سے مذاکرات
پیٹرولیم لیوی کے معاملے پر رانا ثناء اللہ نے کہا کہ حکومت کے آئی ایم ایف سے مذاکرات جاری ہیں، انہوں نے بتایا کہ 100 روپے ٹیکس اکٹھا ہوتا ہے تو اس میں سے 42 روپے وفاق کو جبکہ ساڑھے 57 روپے صوبوں کو جاتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ دفاعی اخراجات اور قرضوں کی ادائیگی کے بعد وفاق کے پاس کچھ نہیں بچتا، اگر پیٹرولیم لیوی ختم کردی جائے تو وفاق کو دیگر مد میں ٹیکس عائد کرنا پڑیں گے، لیوی دفاع اور قرضوں کی ادائیگی کے لیے استعمال ہورہی ہے۔
مشیر وزیراعظم رانا ثناء اللہ نے کہا کہ پیٹرولیم لیوی کے معاملے پر جماعت اسلامی سے پیر کو ٹیکنیکل ٹیم مذاکرات کرے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی کے تحفظات پر مسلم لیگ ن کے اجلاس میں بھی بات ہوئی ہے، بلاول بھٹو نے تحفظات دور کرنے کا کہا ہے اور یہ تحفظات جلد دور ہوجائیں گے۔
رانا ثناء اللہ نے محسن نقوی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہر دوسرے ہفتے کابینہ کے اجلاس میں محسن نقوی ان کے سامنے بیٹھے ہوتے ہیں اور ہر کابینہ اجلاس میں، بات بنے یا نہ بنے، محسن نقوی نے بات ضرور کرنی ہوتی ہے۔



