کراچی: میئر کراچی نے وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال کے مناظرے کے چیلنج کو قبول کرتے ہوئے کہا کہ وہ جب کہیں مناظرے کے لیے تیار ہوں۔ شہر قائد میں ترقیاتی منصوبے اسی طرح سے جاری رہیں گے۔
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی وزیر صحت اور سابق میئر کراچی مصطفیٰ کمال نے کہا تھا کہ میدان میں آجائیں تو میں آج فیلڈ میں ہوں۔ مصطفیٰ کمال ہفتے میں صرف ایک دن کراچی آتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ 300 ارب روپے خرچ کیے تو وہ دستاویزات دکھا دیں کہ انہوں نے کہاں خرچ کیے۔
انہوں نے وفاقی وزیر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مصطفیٰ کمال خود ٹھنڈے کمرے میں بیٹھے ہوتے ہیں اور بہت جلد غصے میں آجاتے ہیں، غرور اور تکبر اچھی چیز نہیں ہوتی۔ وفاقی وزیر صحت اپنی صحت کا بھی خیال رکھیں۔
میئر کراچی نے کہا کہ میرے مخالف میری مخالفت نہیں کریں گے تو پھر وہ مخالف نہیں رہیں گے، مجھے کبھی گمان نہیں کہ میرے مخالف میری تائید کریں گے۔ جبکہ کراچی والے بوری بند لاشوں، ہڑتالوں اور تشدد والا کراچی نہیں چاہتے اور میں نے معصومانہ سوال کیا تھا کہ پیسے کب منظور کرائے تو مصطفیٰ کمال ابھی ٹویٹ کریں کہ 300 ارب کب کونسل سے منظور کرائے۔
انہوں نے مصطفیٰ کمال کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ وسیم اختر اور مرتضیٰ وہاب میں فرق ہے کیونکہ اب پہیہ جام نہیں بلکہ پہیہ چلے گا۔ بتائیں خیابان سحر، ملائیشیا، دبئی یا اسلام آباد میں کہاں آکر ملوں؟
مرتضیٰ وہاب نے مصطفیٰ کمال اور ایم کیو ایم کے حوالے سے بھی سخت تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے قائد کے خلاف بات کرنے والے کو کیا بولا جاتا تھا، سب کو پتہ ہے۔ لندن والے کو کیا پتہ تھا کہ کیا کر رہے ہیں، وقت بدلا تو بھائی برا ہوگیا۔
انہوں نے کہا کہ مصطفیٰ کمال نے ایم کیو ایم اور پتنگ کا نشان خود ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ خالد مقبول کو مصطفیٰ کمال نے را کا ایجنٹ قرار دیا، پھر مصطفیٰ کمال خالد مقبول سے ٹکٹ لے کر رکن قومی اسمبلی اور وزیر بنے۔
مرتضیٰ وہاب نے مزید کہا کہ مصطفیٰ کمال کی اب پارٹی کا چیئرمین بننے کی خواہش ہے، جبکہ وسیم اختر کے لیے مصطفیٰ کمال کہتے تھے کہ خالد مقبول نے انہیں گورنر نہیں بننے دیا۔
میئر کراچی نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مفت آئی ٹی کورسز کرائے جائیں گے کیونکہ دنیا بھر میں شعبہ آئی ٹی روزگار کے لیے بہترین موقع بن چکا ہے۔ عوام کے درمیان رہ کر اختیارات کو دیانتداری سے استعمال کریں گے اور ایسے منصوبے لائیں گے جن سے عام آدمی کی زندگی میں بہتری آئے۔


