ویانا: آسٹریا نے ایرانی جوہری توانائی ادارے کے سربراہ محمد اسلامی کو دارالحکومت ویانا آنے سے روک دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق آسٹریا کی جانب سے محمد اسلامی کے حوالے سے یہ اقدام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے دباؤ پر کیا گیا۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ محمد اسلامی کے لیے اقوام متحدہ کی پابندیوں سے استثنیٰ حاصل کرنے کی ایرانی درخواست امریکی حکومت کی براہِ راست مداخلت پر مسترد کردی گئی۔
ایرانی سرکاری ٹی وی (IRIB) کے مطابق ایرانی جوہری توانائی ادارے کے سربراہ محمد اسلامی کو 14 ستمبر کو آئی اے ای اے کے ہیڈکوارٹر میں ہونے والی سالانہ کانفرنس میں شرکت کرنا تھی تاہم ویزا جاری نہ ہونے کے باعث وہ کانفرنس میں شریک نہ ہوسکے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے آسٹریا کی جانب سے ایرانی وفد کو ویزے جاری نہ کرنے کے فیصلے کو بلاجواز قرار دیتے ہوئے شدید احتجاج کیا۔
انہوں نے کہا کہ آسٹریا کو ایرانی وفد کے ارکان کو داخلے کے ویزے جاری کرنے چاہئیں تھے۔
اسماعیل بقائی کے مطابق ایران نے باضابطہ احتجاج ریکارڈ کرانے کے بعد تہران میں تعینات آسٹریا کے ناظم الامور کو وزارت خارجہ طلب کرلیا ہے۔
ایرانی حکام نے محمد اسلامی کو ویانا آنے سے روکنے کے معاملے میں امریکی دباؤ کو ذمہ دارقرار دیا ہے، آسٹریا میں ایک سفارتی ذریعے نے بھی امریکی دباؤ کے باعث محمد اسلامی کو داخلے کی اجازت نہ ملنے کی تصدیق کی ہے۔
ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق محمد اسلامی کو دوران سفر رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑا اور انہیں واپس تہران بھیج دیا گیا۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ آسٹریا نے محمد اسلامی کو اقوام متحدہ کی پابندیوں سے استثنیٰ دلانے کی کوشش کی تھی، تاہم یہ درخواست منظور نہیں ہوئی۔
تہران نے مؤقف اختیار کیا کہ اس اقدام کا مقصد ایران کی آواز کو عالمی سطح پر پہنچنے سے روکنا ہے۔



