کراچی: سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم نے بات سنے بغیر سندھ اسمبلی میں شور شرابہ کیا اور ایوان سے چلی گئی، ایم کیو ایم نے آج بھی اپنی پرانی روایت برقرار رکھی ہے۔
سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے صوبائی اسمبلی اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم نے بلدیاتی انتخابات کا بائیکاٹ کرکے میدان سے راہ فرار اختیار کی تھی، بلدیاتی انتخابات سے ایک روز قبل بائیکاٹ کیا گیا کیونکہ ایم کیو ایم کو معلوم تھا کہ عوام میں اس کی کوئی مقبولیت نہیں۔
انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم کی کارکردگی اس وقت صفر ہے اور وہ آج صرف سیاسی گیم کھیل رہی ہے، بلدیاتی انتخابات کا سن کر ایم کیو ایم والوں کے ہاتھ پاؤں پھول گئے تھے۔
سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ اسمبلی فلور پر ایم کیو ایم کا رویہ الگ ہوتا ہے، جبکہ پارٹی نے بانی متحدہ سے بغاوت کرکے انہیں چھوڑا تھا۔ ایم کیو ایم کو اپنے موجودہ مؤقف کی وضاحت کرنا ہو گی۔
شرجیل میمن نے خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال کے ایک دوسرے پر لگائے گئے الزامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر رہنماؤں کے ایک دوسرے کے خلاف بیانات غلط ہیں تو انہیں معافی مانگنی چاہیے۔ مصطفیٰ کمال نے خالد مقبول صدیقی کو ’را‘ کا ایجنٹ کہا تھا، اگر یہ بات جذبات میں کہی گئی تو مصطفیٰ کمال کو معافی مانگنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ بلدیاتی قانون میں ترمیم اس لیے کی گئی کہ انتخابات ہونے تک پرانے لوگ ہی نظام چلاتے رہیں، اور ہر نظام میں تبدیلی کی گنجائش ہوتی ہے۔ جبکہ پیپلز پارٹی زبردستی کوئی چیز منظور نہیں کر رہی۔
شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ سندھ واحد صوبہ ہے جہاں بلدیاتی نظام کام کر رہا ہے، جبکہ پنجاب حکومت نے بلدیاتی انتخابات سے متعلق الیکشن کمیشن کے احکامات کو ہوا میں اڑا دیا۔ لیکن پیپلز پارٹی الیکشن کمیشن کے تمام احکامات پر عمل درآمد کرتی ہے۔


