ویانا: سپریم کورٹ آف پاکستان کی جسٹس عائشہ اے ملک کو قانون و انصاف، مساوات اور انسانی حقوق کے لیے خدمات کے اعتراف میں انٹرنیشنل لیڈر لائف ٹائم ایوارڈ سے نواز دیا گیا۔
ترجمان سپریم کورٹ کے مطابق جسٹس عائشہ اے ملک نے ویانا میں منعقدہ ویمن اِن لا کانفرنس 2026 میں شرکت کی، جہاں انہیں جسٹیشیا ایوارڈز میں عالمی اعزاز دیا گیا۔
ترجمان کے مطابق ایوارڈ جسٹس عائشہ ملک کی قانون و انصاف، مساوات اور انسانی حقوق کے لیے خدمات کا اعتراف ہے جبکہ خواتین کی قانونی شعبے میں مؤثر شمولیت کے لیے ان کی خدمات کو بھی سراہا گیا۔
جسٹس عائشہ اے ملک نے کانفرنس کے دوران قانونی استدلال میں صنفی تناظر کی اہمیت پر زور دیا اور خواتین کے حقوق اور قانونی شعبے میں خواتین کی مؤثر نمائندگی کی ضرورت اجاگر کی۔
ویمن اِن لا کانفرنس کی 2026 کی سرکاری پروگرام تفصیلات کے مطابق کانفرنس میں خواتین کے حقوق، صنفی مساوات اور قانونی شعبے میں خواتین کے کردار سمیت مختلف موضوعات پر گفتگو کی گئی جبکہ جسٹیشیا ایوارڈز گالا بھی کانفرنس کا حصہ تھا۔
پاکستان کی پہلی خاتون سپریم کورٹ جج
جسٹس عائشہ اے ملک نے 24 جنوری 2022 کو پاکستان کی سپریم کورٹ کی پہلی خاتون جج کی حیثیت سے حلف اٹھایا تھا۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے ان سے حلف لیا تھا، ان کی تقرری کو پاکستان کی عدالتی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا گیا۔
سپریم کورٹ میں تقرری سے قبل جسٹس عائشہ ملک لاہور ہائیکورٹ کی جج رہ چکی ہیں۔ انہوں نے قانون کی تعلیم پاکستان کالج آف لا لاہور اور ہارورڈ لا اسکول سے حاصل کی، جبکہ وکالت کے شعبے میں بھی خدمات انجام دیں۔
خواتین کے حقوق سے متعلق عدالتی کردار
جسٹس عائشہ ملک کو خواتین کے حقوق اور قانونی مساوات سے متعلق معاملات میں ان کے عدالتی کردار کے باعث بھی نمایاں مقام حاصل رہا ہے۔ لاہور ہائیکورٹ میں جج کی حیثیت سے انہوں نے خواتین سے متعلق اہم مقدمات کی سماعت کی، جبکہ 2021 میں زیادتی کے مقدمات میں خواتین کے لیے متنازع اور غیر سائنسی ورجِنٹی ٹیسٹ کے استعمال کے خلاف فیصلہ بھی دیا تھا۔
جسٹس عائشہ اے ملک کو ملنے والا تازہ عالمی اعزاز نہ صرف ان کی عدالتی و قانونی خدمات کا اعتراف قرار دیا جا رہا ہے بلکہ پاکستان کی عدلیہ میں خواتین کی نمائندگی کے حوالے سے بھی اسے اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔
ترجمان سپریم کورٹ کے مطابق عالمی سطح پر جسٹس عائشہ اے ملک کو ملنے والا یہ اعزاز پاکستان کے لیے باعثِ فخر ہے۔



