امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ رواں سال ختم ہوجائے گی اور ممکنہ طور پر نومبر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد جنگ کا خاتمہ ہوگا، جس کے نتیجے میں پیٹرول کی قیمتیں تیزی سے نیچے آئیں گی۔
رائٹرز کے مطابق آئرلینڈ میں آئرش اوپن گالف چیمپئن شپ کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ملک کی معیشت ترقی کررہی ہے اور ایران کا معاملہ وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد یا ممکنہ طور پر اس سے پہلے ختم ہوجائے گا۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ “پٹرول کی قیمت چٹان کی طرح نیچے آئے گی”۔ انہوں نے کہا کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرسکتا اور نہ ہی اسے جوہری ہتھیار بنانے دیے جائیں گے۔
ایران کے ساتھ مذاکرات کے امکان سے متعلق سوال پر ٹرمپ نے کہا کہ ایران معاہدہ کرنے کے لیے بہت زیادہ خواہش مند ہے اور مسلسل رابطے کررہا ہے تاہم وہ ایسا کوئی معاہدہ نہیں کریں گے جو امریکا کے مفاد میں نہ ہو۔
خلیجی ممالک کی جانب سے پیر کو ایران کے ساتھ اجلاس کے سوال پر امریکی صدر نے کہا کہ انہیں اس پر کوئی اعتراض نہیں، یہ خلیجی ممالک کا معاملہ ہے۔ ٹرمپ کے مطابق اگر وہ خوش رہ سکتے ہیں تو یہ ٹھیک ہے، اسی طرح اسرائیل اور دیگر متعلقہ ممالک بھی مطمئن ہوں تو انہیں کوئی مسئلہ نہیں۔
تیل کی قیمتوں پر ایران جنگ کے اثرات
امریکی صدر کا پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کا دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ نے عالمی تیل کی سپلائی کے حوالے سے خدشات میں اضافہ کردیا ہے۔ حالیہ دنوں میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
رائٹرز کے مطابق 10 ستمبر کو برینٹ خام تیل کی قیمت 6.34 فیصد اضافے کے بعد 107.63 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی جبکہ امریکی ڈبلیو ٹی آئی 6.69 فیصد اضافے کے بعد 102.48 ڈالر فی بیرل تک گئی۔
11 ستمبر کو قیمتوں میں کچھ کمی ضرور آئی تاہم برینٹ اب بھی 104.61 ڈالر فی بیرل پر رہا اور ہفتہ وار بنیاد پر قیمت میں 8 فیصد سے زیادہ اضافے کی جانب گامزن تھا۔
رائٹرز کے مطابق مشرق وسطیٰ سے تیل کی سپلائی میں خلل اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل سے متعلق غیر یقینی صورتحال نے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں رسک پریمیم بڑھا دیا ہے۔
ایران اور خلیجی ممالک کا عمان میں اجلاس
دوسری جانب ایران اور خلیجی ممالک کے نمائندوں کا اجلاس پیر کو عمان میں متوقع ہے، جس میں آبنائے ہرمز کے ذریعے تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے عبوری انتظام پر بات ہوگی۔
ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے انتظام سے متعلق ایک مفاہمت کے بعد خلیجی ممالک کو بھی مذاکرات میں شامل کیا جارہا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اجلاس کا مقصد خطے کے ممالک کے درمیان بہتر تفہیم پیدا کرنا اور علاقائی سلامتی کو مضبوط بنانا ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے مطابق پیر کو مسقط میں عرب ممالک کے وزرائے خارجہ ایک مشترکہ ایران عمان بحری راستے سے متعلق معاہدے پر دستخط کرسکتے ہیں اور اس معاہدے سے متعلق عالمی بحری تنظیم کو بھی آگاہ کیا جائے گا۔
تاہم ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ عمان کے ساتھ طے پانے والا انتظام آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھولنے کے مترادف نہیں ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین تیل کے بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے اور اس میں پیدا ہونے والی رکاوٹ عالمی توانائی منڈی، تیل کی قیمتوں اور درآمدی ممالک کے اخراجات پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔
یوں ٹرمپ کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے بعد پیٹرول کی قیمتوں میں بڑی کمی کی پیش گوئی کا انحصار اس بات پر بھی ہوگا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی یا معاہدہ کس حد تک تیل کی عالمی سپلائی اور آبنائے ہرمز سے بحری تجارت کو معمول پر لانے میں کامیاب ہوتا ہے۔



