ایران کے قشم جزیرے کے قریب ایرانی تجارتی بحری جہاز پر حملے کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور 3 زخمی ہو گئے۔
ایرانی سرکاری میڈیا آئی آر آئی بی کے مطابق قشم کے گورنر امیر تیموری نے بتایا کہ بحری جہاز کو مقامی وقت کے مطابق صبح تقریباً 5 بجے جزیرہ ہنگام اور جزیرہ قشم کے ساحل شِب دراز کے علاقے میں نشانہ بنایا گیا۔
گورنر امیر تیموری نے مزید کہا کہ جہاز پر امریکی دہشتگرد دشمن کی جانب سے حملہ کیا گیا ہے۔
دوسری جانب برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے بتایا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہاز کو نامعلوم ہتھیار سے نشانہ بنایا گیا، تاہم فوری طور پر کسی جانی نقصان یا نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان آبنائے ہرمز کی صورتحال پر عمان میں اہم ملاقات ہونے والی ہے۔
آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہاز پر حملے کی نئی اطلاع نے مشرق وسطیٰ میں توانائی کی سپلائی کے حوالے سے خدشات بڑھا دیے ہیں، گزشتہ ایک ہفتے کے دوران برینٹ خام تیل کی قیمت دوبارہ 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ امریکا میں ڈیزل کی قیمت بھی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی ہے۔
واضح رہے، آبنائے ہرمز میں ایران اور امریکا کے مابین شدید کشیدگی کے باعث تجارتی جہازوں پر مسلسل حملوں کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ اگست میں یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے ایک تجارتی بحری جہاز کو نشانہ بنایا گیا تھا، جس کے نتیجے میں 3 پاکستانی ملاح جاں بحق اور ایک شدید زخمی ہوا تھا۔
چار روز قبل تقریباً 20 لاکھ بیرل آئل لے جانے والے ایک ٹینکر کو عراقی علاقائی پانیوں میں ڈرون کے ذریعے نشانہ بنایا گیا تھا۔



