اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں انکشاف ہوا ہے کہ 2018 سے 2026 کے دوران 1256 نجی کمپنیوں نے ٹیکس قوانین کے چھٹے اور آٹھویں شیڈول کے تحت مجموعی طور پر 216 ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ حاصل کی۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کو پیش کی گئی دستاویزات کے مطابق مذکورہ کمپنیوں نے اس عرصے کے دوران تقریباً 1.12 کھرب روپے مالیت کا سامان درآمد کیا جبکہ مجموعی طور پر صرف 35 ارب روپے کے قریب ٹیکس ادا کیا۔
ایف بی آر کی یہ دستاویزات پہلے سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی سربراہی میں قائم ذیلی کمیٹی کے سامنے پیش کی گئی تھیں، جس کے بعد انہیں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے سامنے رکھا گیا۔
ایف بی آر کے مطابق ٹیکس مراعات کا بنیادی مقصد سابق وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) اور صوبائی زیر انتظام قبائلی علاقوں (پاٹا) میں صنعتی سرگرمیوں، سرمایہ کاری اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینا تھا۔ ان علاقوں کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے بعد معاشی منتقلی کے عمل میں صنعتوں کو ٹیکس مراعات فراہم کی گئی تھیں۔
تاہم دستاویزات میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ٹیکس چھوٹ حاصل کرنے والی تمام کمپنیاں واقعی ان ہی علاقوں میں اپنی پیداواری سرگرمیاں انجام دے رہی تھیں یا نہیں۔
1047 کمپنیوں کو چھٹے شیڈول کے تحت 160 ارب روپے کی چھوٹ
دستاویزات کے مطابق 1047 نجی کمپنیوں نے چھٹے شیڈول کے تحت تقریباً 160 ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ حاصل کی جبکہ مزید 209 کمپنیوں نے آٹھویں شیڈول کے تحت تقریباً 26 ارب روپے کی مراعات سے فائدہ اٹھایا۔
ٹیکس مراعات حاصل کرنے والی کمپنیوں میں ملک کے معروف برانڈز بھی شامل ہیں، جنہوں نے ان مراعات کے تحت مختلف اشیا درآمد کیں۔
دستاویزات میں انکشاف کیا گیا کہ بعض ایسی فیکٹریوں نے درآمد شدہ سامان کے استعمال کے سرٹیفکیٹس حاصل کیے جن کے کاروباری پتے ٹیکس سے مستثنیٰ علاقوں میں درج تھے تاہم ان کی پیداواری سرگرمیاں ملک کے دیگر حصوں میں جاری تھیں۔
ایسی جگہوں میں کراچی، لاہور اور فیصل آباد جیسے بڑے صنعتی و تجارتی مراکز بھی شامل تھے۔
اس صورتحال نے یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ ٹیکس سے مستثنیٰ علاقوں کے نام پر درآمد کیے گئے خام مال اور دیگر سامان واقعی انہی علاقوں میں استعمال ہوئے یا نہیں۔
1.12 کھرب کی درآمدات، 750 ارب روپے کا حساب نہ مل سکا
ایف بی آر کی دستاویزات کے مطابق مذکورہ کمپنیوں نے 2018 سے 2026 کے دوران تقریباً 1.12 کھرب روپے مالیت کا سامان درآمد کیا۔
تاہم ریجنل ٹیکس آفس پشاور کے ان لینڈ ریونیو حکام نے صرف تقریباً 389 ارب روپے مالیت کے درآمدی سامان کے استعمال کے سرٹیفکیٹس جاری کیے۔
یوں تقریباً 750 ارب روپے مالیت کی درآمدات کا ایف بی آر ریکارڈ میں مکمل حساب موجود نہیں، جس پر سینیٹ کمیٹی نے بھی تشویش کا اظہار کیا۔

دستاویزات کے مطابق اس بات کی بھی تصدیق نہیں ہوسکی کہ باقی درآمد شدہ سامان واقعی ان مخصوص ٹیکس سے مستثنیٰ علاقوں میں استعمال ہوا تھا۔
اس صورتحال پر سینیٹ کمیٹی نے سوال اٹھایا کہ درآمد شدہ سامان کی نگرانی کس طرح کی گئی اور کیا ٹیکس مراعات واقعی ان مقاصد کے لیے استعمال ہوئیں جن کے لیے یہ سہولت دی گئی تھی۔
کمیٹی نے اس امر پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ اگر ٹیکس سے مستثنیٰ علاقوں سے باہر کام کرنے والی کمپنیوں کو بھی ان مراعات کا فائدہ پہنچا تو وہ فیکٹریاں جو مکمل ٹیکس ادا کر رہی ہیں یا مراعات تک رسائی نہیں رکھتیں، انہیں مسابقتی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔
ایف بی آر کا مؤقف، قومی خزانے کو نقصان نہیں ہوا
ایف بی آر کے ان لینڈ ریونیو آپریشنز کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ ٹیکس چھوٹ کے باعث قومی خزانے کو نقصان نہیں ہوا کیونکہ قابل اطلاق سیلز ٹیکس سکیورٹی انسٹرومنٹس کے ذریعے محفوظ کیا گیا تھا۔
تاہم سینیٹ کمیٹی نے ایف بی آر کے اس مؤقف سے اتفاق نہیں کیا، کمیٹی کا کہنا تھا کہ کسی سکیورٹی انسٹرومنٹ کو ضبط یا کیش کرانے کا امکان حقیقی طور پر ٹیکس وصول ہونے کے برابر نہیں سمجھا جاسکتا۔

کمیٹی نے ان سکیورٹی انسٹرومنٹس کی تعداد اور مالیت کی تفصیلات بھی طلب کیں جو تاحال زیر التوا ہیں، خصوصاً ان معاملات میں جہاں استعمال کے سرٹیفکیٹس کی درخواستیں منظور یا مسترد ہوچکی ہیں۔
ایف بی آر حکام نے بتایا کہ متعدد معاملات میں متعلقہ فریقین نے پشاور ہائی کورٹ سے حکم امتناع حاصل کر رکھا ہے۔
حکام کے مطابق بعض مقدمات میں سپریم کورٹ نے بھی سکیورٹی انسٹرومنٹس کیش کرانے سے متعلق کارروائی روک رکھی ہے جبکہ کچھ معاملات میں یہ پابندیاں تقریباً ایک سال سے برقرار ہیں۔
فاٹا انضمام کے بعد بھی ٹیکس مراعات جاری رہیں
سینیٹ کمیٹی کو بتایا گیا کہ 25ویں آئینی ترمیم کے ذریعے سابق فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے بعد بھی ٹیکس مراعات فوری طور پر ختم نہیں ہوئیں۔
ایف بی آر حکام کے مطابق ان ٹیکس چھوٹ اور مراعات میں بعد ازاں توسیع کی گئی اور یہ سہولتیں 2026 تک جاری رہیں۔
حکام نے بتایا کہ یکم جولائی 2025 سے ٹیکس سے مستثنیٰ علاقوں کے اندر فراہم کیے جانے والے سامان پر 10 فیصد سیلز ٹیکس عائد کیا گیا جبکہ ان علاقوں سے باہر فراہم کیے جانے والے سامان پر 16 فیصد سیلز ٹیکس لاگو کیا گیا۔

اسی طرح انکم ٹیکس میں بھی سابق فاٹا کے لیے استثنیٰ یکم جولائی 2026 تک برقرار رہا، جس کے بعد سابق فاٹا کا ٹیکس سے مستثنیٰ درجہ ختم ہوگیا۔
اس اقدام کا مقصد سابق قبائلی اضلاع کو عبوری دور مکمل ہونے کے بعد ملک کے عمومی ٹیکس نظام میں شامل کرنا تھا۔
چھٹے اور آٹھویں شیڈول میں کیا سہولت حاصل تھی؟
سیلز ٹیکس ایکٹ کے چھٹے شیڈول کے تحت مخصوص اشیا اور کیٹیگریز کو مکمل سیلز ٹیکس سے استثنیٰ حاصل تھا جبکہ آٹھواں شیڈول بعض اشیا یا لین دین پر مکمل چھوٹ کے بجائے کم شرح سے سیلز ٹیکس وصول کرنے کی اجازت دیتا ہے۔
سابق فاٹا اور پاٹا سے متعلق مراعات کا مقصد ان علاقوں میں قائم اہل صنعتی یونٹس کو مشینری، پلانٹ اور خام مال درآمد کرنے میں سہولت دینا تھا تاکہ صنعت کاری اور سرمایہ کاری کو فروغ مل سکے۔
تاہم سینیٹ کمیٹی نے مراعات سے فائدہ اٹھانے والی کمپنیوں کی نگرانی، درآمدی سامان کے استعمال کے سرٹیفکیٹس اور سامان کی اصل منزل و استعمال کے حوالے سے اہم سوالات اٹھائے ہیں۔
سینیٹ کمیٹی کے سامنے آنے والے یہ انکشافات اب اس بات کی مزید جانچ کی راہ ہموار کر سکتے ہیں کہ علاقائی ترقی کے لیے دی جانے والی ٹیکس مراعات کا فائدہ واقعی سابق فاٹا اور پاٹا میں قائم صنعتوں کو پہنچا یا ملک کے دیگر حصوں میں سرگرم کمپنیوں نے بھی اس نظام سے فائدہ اٹھایا۔



