اسلام آباد: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کا اجلاس ہوا، جس میں مختلف اہم مالی، انتظامی اور اقتصادی امور پر غور کیا گیا۔
اجلاس میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے آئندہ سربراہی اجلاس کے انتظامات سمیت متعدد معاملات کی منظوری اور متعلقہ وزارتوں کو اہم ہدایات جاری کی گئیں۔
وزارت خزانہ کے مطابق پاکستان میں ایس سی او سربراہی اجلاس ستمبر 2027 میں منعقد ہوگا۔ اجلاس میں ایس سی او سربراہی اجلاس کے لیے 30 بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری کی خاطر 6.6 ارب روپے کی ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ (ٹی ایس جی) منظور کی گئی۔
اس مقصد کیلئے ابتدائی طور پر 12.6 ارب روپے کی رقم طلب کی گئی تھی تاہم ای سی سی نے 12.6 ارب روپے کے بجائے 6.6 ارب روپے کی ٹی ایس جی کی منظوری دی۔
ای سی سی نے کابینہ ڈویژن کو ہدایت کی کہ اضافی گاڑیوں کی ضرورت کا جامع تجزیہ کیا جائے۔ کمیٹی نے واضح کیا کہ اگر تجزیے کے بعد اضافی گاڑیوں کی ضرورت برقرار رہتی ہے تو معاملہ دوبارہ ای سی سی کے سامنے پیش کیا جائے۔
اس طرح گاڑیوں کی خریداری کے معاملے میں ضرورت اور اخراجات کا تفصیلی جائزہ لینے پر زور دیا گیا۔
اجلاس میں تمباکو کی کم از کم قیمت اور سیس کی شرح میں نظرثانی سے متعلق سمری بھی زیر غور آئی تاہم اسے موخر کردیا گیا۔
ای سی سی نے متعلقہ حکام کو تمباکو کی قیمتوں سے متعلق تجویز پر مزید ٹھوس اور جامع تجزیہ پیش کرنے کی ہدایت کی تاکہ معاملے پر مناسب غور کے بعد فیصلہ کیا جاسکے۔
اعلامیے کے مطابق ای سی سی نے گوادر فری زون سے گدھے کے گوشت اور کھالوں کی برآمد کی تجویز بھی منظور کرلی۔
اجلاس میں فاطمہ فرٹ اور ایگری ٹیک کو 30 ستمبر تک گیس کی فراہمی جاری رکھنے کی منظوری بھی دی گئی۔
ای سی سی نے دانش اسکولز اتھارٹی فنڈ کیلئے 5 ارب روپے کے سیڈ منی کی منظوری دی، اجلاس کو بتایا گیا کہ دانش اسکولز فنڈز کیلئے مختص رقم اینڈومنٹ فریم ورک کے تحت برقرار رکھی جائے گی۔ اس کے علاوہ اجلاس میں پاکستان اسکلز امپیکٹ بانڈ پر ہونے والی پیشرفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔
ای سی سی نے وزارت وفاقی تعلیم کو پاکستان اسکلز امپیکٹ بانڈ پر خاطر خواہ پیشرفت یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے پیشرفت سے آگاہ کرنے کیلئے 30 ستمبر کی ڈیڈ لائن مقرر کردی۔
دریں اثنا وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت پاسکو اور یوٹیلٹی اسٹورز کی بندش سے متعلق پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے الگ اجلاس بھی ہوا۔
اجلاس میں دونوں اداروں کی بندش کے عمل، اثاثوں، اسٹاک، واجبات اور باقی ماندہ انتظامی امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔

اجلاس میں یوٹیلٹی اسٹورز کے ریکس اور دیگر منقولہ اثاثوں کی نیلامی کے حوالے سے ہونے والی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا جبکہ ادارے کی جائیدادوں کی تلفی یا منتقلی کیلئے کیے جانے والے انتظامات پر بھی غور کیا گیا۔
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ یوٹیلٹی اسٹورز کے تصدیق شدہ وینڈر واجبات کی ادائیگیاں کردی گئی ہیں جبکہ باقی ماندہ اسٹاک کو مقررہ طریقہ کار کے تحت نمٹایا جا رہا ہے۔
وزیر خزانہ نے یوٹیلٹی اسٹورز سے متعلق زیر سماعت مقدمات کا بھی نوٹس لیا اور ہدایت کی کہ بندش کے عمل کے ساتھ تمام قانونی، مالی اور انتظامی تقاضے بھی مکمل کیے جائیں۔
پاسکو کے حوالے سے اجلاس میں ادارے کی بندش کے عمل، اسٹاک اور باقی ماندہ کام کی تکمیل کا جائزہ لیا گیا۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ صوبوں میں موجود پاسکو اسٹاک کی منتقلی کیلئے انتظامات کیے جا رہے ہیں، انہوں نے صوبائی حکام سے قریبی رابطہ کاری کے ذریعے بندش کا عمل بروقت مکمل کرنے کی ہدایت کی۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاسکو اور یوٹیلٹی اسٹورز کی بندش کے عمل میں پیشرفت کا تسلسل برقرار رکھا جائے اور باقی ماندہ کام مربوط انداز میں مکمل کیا جائے۔
انہوں نے واضح کیا کہ تمام ذمہ داریاں متعین کرکے عملی مدت کار کے ساتھ باقی کام مکمل کیا جائے تاکہ بندش کے عمل میں غیرضروری تاخیر نہ ہو۔
وزیر خزانہ نے ہدایت کی کہ دونوں اداروں کی بندش کا عمل مکمل شفافیت کے ساتھ آگے بڑھایا جائے اور عوامی وسائل کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔
انہوں نے متعلقہ حکام پر زور دیا کہ اثاثوں، اسٹاک، واجبات اور قانونی معاملات سمیت تمام امور مقررہ طریقہ کار کے مطابق نمٹائے جائیں۔



