تہران: ایرانی بحریہ کے کمانڈر شاہرام ایرانی نے امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایران ضرورت پڑنے پر دشمن افواج کو کسی بھی مقام پر مفلوج کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایرانی بحریہ کے کمانڈر شاہرام ایرانی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ایرانی کارروائیوں نے مخالفین کو حیران کیا اور ان کی جنگی صلاحیتوں کو متاثر کیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایرانی بحریہ نے دشمن کے جنگی جہازوں کی آپریشنل صلاحیت طویل عرصے تک متاثر کی۔
کمانڈر ایرانی بحریہ نے واضح کیا کہ دشمن کو اپنے مقاصد کے حصول سے روکنا ایرانی بحریہ کا بنیادی مشن ہے، جبکہ مخالف افواج کی مسلسل نگرانی کی جارہی ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ نے جنوبی کوریا کو خلیج فارس اور آبنائے ہرمز سے دور رہنے کی تنبیہ کر دی۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ ایران اور جنوبی کوریا کے تعلقات 64 سال سے زائد عرصے پر محیط ہیں، جنوبی کوریا کے ساتھ تعلقات باہمی احترام پر مبنی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایرانی عوام اس وقت امریکی جارحیت کے خلاف دفاع میں مصروف ہیں، خلیج فارس یا آبنائے ہرمز میں کسی بھی ملک کی فوجی موجودگی جارحیت تصور ہو گی، آبنائے ہرمز میں امریکی کارروائیوں میں کسی بھی ملک کی شرکت قابل قبول نہیں۔
اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ کسی بھی خودمختار ملک کو امریکی دباؤ اور دھمکیوں کے سامنے نہیں جھکنا چاہیئے، امریکا نے خطے پر وحشیانہ جنگ مسلط کی اور اب اس کی ادائیگی پوری دنیا سے کرانے کی توقع کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور اسرائیل کے حملے سے قبل آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھلی ہوئی تھی، امریکا کی جارحیت کے نتیجے میں تجارتی جہاز رانی کا نظام متاثر ہوا اور توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے، امریکا دنیا کے سامنے اپنے ہی پیدا کردہ خلل کو ایران کے نام کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اپنی شروع کی گئی جنگ کی وجہ ایران کے طرزعمل کو قرار دینا چاہتا ہے۔
اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ امریکا کی جانب سے صرف ایران کو خطے میں افراتفری کا ذمہ دار قرار دینا سراسر مضحکہ خیز ہے۔



