وزیرخزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ غیر ملکی اور مقامی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے اصلاحاتی ایجنڈے پرعمل جاری ہے،ملکی معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کے لیے پرائیویٹ سیکٹر کو آگے لانا ہوگا۔
اسلام آباد میں ایشیائی ترقیاتی بینک کے زیراہتمام منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت پائیدار اور معاشی ترقی کی طرف گامزن ہے،ملکی معیشت کے لیے نجی شعبے کی شمولیت ناگزیرہے۔
محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ ٹیکس، توانائی اور پبلک فنانس اصلاحات سے معاشی بنیادیں مضبوط ہو رہی ہیں،چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے لیے فنڈز ضروری ہے،ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں میں نمایاں اضافہ ہواہے۔
وزیر خزانہ نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اورنجکاری کےذریعے سرمایہ کاری کافروغ ممکن ہے، ملکی معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کے لیے پرائیویٹ سیکٹر کو آگے لانا ہوگا۔
خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کی نجی کاری سے قومی خزانے پر بوجھ کم ہوگا،کاروبار کے لیے آسانیاں پیدا کرنے اور معاشی ڈھانچے کی جدت کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں۔
پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پیز)کے ذریعے بنیادی ڈھانچے کی جدید سازی ممکن ہے،بنیادی ڈھانچے اور انفراسٹرکچر کے بڑے منصوبوں میں نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔
محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ پی پی پی ماڈل کے تحت سڑکوں، توانائی اور ٹرانسپورٹ کے منصوبوں کو تیزی سے مکمل کیا جائے گا،سرکاری وسائل پر بوجھ کم کرنے کے لیے انفراسٹرکچر کی ترقی میں پرائیویٹ سیکٹر کو شراکت دار بنا رہے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سے ملک بھر میں عالمی معیار کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر ممکن ہوگی۔



