خیبر پختونخوا کے ضلع سوات اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے ہیں۔
زلزلہ پیما مرکز اسلام آباد کے مطابق زلزلے کی شدت 4.2 ریکارڈ کی گئی جس کی زیر زمین گہرائی 172 کلومیٹر تھی،زلزلے کا مرکز کوہ ہندو کش کا پہاڑی سلسلہ تھا۔
شہری اچانک لرزش کے باعث خوفزدہ ہو گئے۔ کئی علاقوں میں لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں اور دکانوں سے باہر نکل آئے اور کھلے مقامات پر جمع ہوگئے۔
متعلقہ ادارے صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضلعی انتظامیہ کو بھی الرٹ رکھا گیا ہے۔
زلزلہ کیوں اور کیسے آتا ہے؟
ماہرین کے مطابق زمین کی تہہ تین بڑی پلیٹوں سے بنی ہے۔ پہلی تہہ کا نام یوریشین، دوسری انڈین اور تیسری اریبئین ہے۔
زیر زمین حرارت جمع ہوتی ہے تو یہ پلیٹس سرکتی ہیں۔ زمین ہلتی ہے اور یہی کیفیت زلزلہ کہلاتی ہے۔زلزلے کی لہریں دائرے کی شکل میں چاروں جانب یلغار کرتی ہیں۔
زلزلہ قشر الارض سے توانائی کے اچانک اخراج کی وجہ سے رونما ہوتا ہے، يہ توانائی اکثر آتش فشانی لاوے کی شکل ميں سطح زمين پر نمودار ہوتی ہے،زیادہ تر زلزلے فالٹ زون میں آتے ہیں، جہاں ٹیکٹونک پلیٹیں آپس میں ٹکراتی یا رگڑتی ہیں۔
پلیٹوں کے رگڑنے یا ٹکرانے کے اثرات عام طور پر زمین کی سطح پر محسوس نہیں ہوتے لیکن اس کے نتیجے میں ان پلیٹوں کے درمیان شدید تناؤ پیدا ہوجاتا ہے۔ جب یہ تناؤ تیزی سے خارج ہوتا ہے تو شدید لرزش پیدا ہوتی ہے جسے سائزمک ویوز یعنی زلزلے کی لہر کہتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جن علاقوں میں ایک مرتبہ بڑا زلزلہ آ جائے تو وہاں دوبارہ بھی بڑا زلزلہ آ سکتا ہے۔
