ملک بھر میں آج یوم فضائیہ جوش و جذبے سے منایا جا رہا ہے۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے اپنے پیغام میں شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے پاک فضائیہ کے اہلکاروں کی شاندار کارکردگی کو سراہا۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ پاک فضائیہ نے فضائی معرکوں میں پیشہ ورانہ برتری اور غلبے کا مظاہرہ کیا،پاک فضائیہ نے معرکہ حق میں فیصلہ کن کردار ادا کیا جو پاک فضائیہ کی جرأت مندانہ قیادت اور بہترین منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے۔
Message from Asif Ali Zardari, President of the Islamic Republic of Pakistan on Pakistan Air Force Day
On the historic occasion of Pakistan Air Force (PAF) Day, I appreciate all personnel of the PAF for their outstanding performance all along and pay tribute to Shuhada for their… pic.twitter.com/RlzFvP0txF
— The President of Pakistan (@PresOfPakistan) September 6, 2026
پاک فضائیہ نے کم تعداد کے باوجود مقابلہ کرنے کی روایت برقرار رکھی،دشمن خواہ کتنا ہی طاقتور ہو ہمارے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتا،شاہینوں نے بے مثال بہادری کا مظاہرہ کیا،پاک فضائیہ ملکی خودمختاری اور فضائی حدود کے دفاع کیلئے ہر لمحہ مستعد ہے۔
مئی 2025 میں مثالی ہم آہنگی دکھائی،وزیراعظم
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے بھی یوم فضائیہ پر پاک فضائیہ کو خراج تحسین پیش کیا گیا ہے ، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ مئی 2025 میں پاک فضائیہ نے افواج کی دیگر سروسز کیساتھ مثالی ہم آہنگی دکھائی۔
Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif’s Message on Pakistan Air Force Day, 7 September 2026.
On the historic occasion of Pakistan Air Force Day, I commend all ranks of Pakistan Air Force for their outstanding performance through out its professional history.
Pakistan Air…
— Prime Minister’s Office (@PakPMO) September 7, 2026
معرکہ حق میں پاک فضائیہ نے جرأت مندانہ اور غیرمعمولی جنگی مہارت کا مظاہرہ کیا،پاک فضائیہ نے دہائیوں فضائی معرکوں میں مہارت اور برتری کا لوہا منوایا،یقین ہے پاک فضائیہ ہمیشہ کی طرح ہرچیلنج کا سامنا کرنے کیلئے مکمل تیار ہے۔
وطن کی فضائی سرحدوں کے پاسبان ہمہ وقت بیدار ہیں،وزیر داخلہ
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ 7ستمبر پاک فضائیہ کی شجاعت کا تاریخی دن ہے،ایم ایم عالم کی شجاعت نے چند لمحوں میں دشمن کے 5 طیارے تباہ کردیئے۔
اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ وطن کی فضائی سرحدوں کے پاسبان ہمہ وقت بیدار ہیں،قوم کو پاک فضائیہ کی پیشہ ورانہ مہارت پر فخر ہے،شہداء اور غازیوں نے قربانیوں سے وطن کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنایا۔
پاکستان ائیر فورس کی جانب سے لہو گرما دینے والا نیا نغمہ ریلیز
پاکستان ائیر فورس کی جانب سے آج کے دن کی مناسبت سے نیا نغمہ ریلیز کیا گیا ہے جو پاک فضائیہ کے شاہینوں کی جرأت اور قربانیوں کو سلام پیش کرتا ہے۔نغمے کے بول پاکستان کی مٹی سے وابستگی رکھنے والے ہر پاکستانی کے دل کو گرما دیتے ہیں۔
نغمے میں وطن کی حفاظت کیلئے پاک فضائیہ کی پیشہ ورانہ مہارتوں کو نہایت خوبصورت انداز میں فلمایا گیا، نغمے میں پاک فضائیہ کے بہادر شاہینوں کی مہارت سے دی گئی فیصلہ کن شکست کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا، پاک فضائیہ کے شاہینوں کا ہر لمحہ، مادر وطن کے دفاع کیلئے ہر چیلنج کا مقابلہ کرنے کا عزم اجاگر کیا گیا۔
7ستمبر کو کیا ہوا تھا؟
1965 کی پاک بھارت جنگ میں پاکستان ایئر فورس کا اہم کردار رہا۔7 ستمبر کو پاک فضائیہ کے شاہینوں نے دشمن کے غرور کو خاک میں ملا یا۔
اس دن کو منانے کا مقصد ستمبر 1965 کی پاک بھارت جنگ میں پاک فضائیہ کے کارناموں کو خراج تحسین پیش کرنا ہے۔
پاکستانی فضائیہ کا شمار دنیا کی بہترین فضائی فورسز میں ہوتا ہے۔ 1965 کی جنگ میں وطن عزیز کی حفاظت کے لیے پاک فضائیہ کے جانبازوں نے جرات و بہادری کی لازوال داستانیں رقم کیں۔
پاک فضائیہ نے 6 ستمبر یومِ دفاع پاکستان کے ساتھ 7 ستمبر کو اپنی جرات، مہارت اور بہادری کی تاریخ رقم کی۔ اس دن کا سب سے شاندار کارنامہ اسکواڈرن لیڈر ایم ایم عالم کا تھا۔ جنہوں نے اپنے جنگی طیارے سے صرف چند منٹوں کے اندر دشمن کے 5 طیارے مار گرائے۔
پاک فضائیہ کے شاہینوں نے پاک بھارت جنگ میں 6 اور 7 ستمبر کو بھارتی فضائیہ کے 50 سے زائد طیارے گرا کر جنگ کا پانسہ پلٹ دیا تھا۔ پاک فضائیہ کے پائلٹوں نے اپنی حربی مہارت سے دنیا کو حیران کر دیا تھا۔
راشد منہاس شہید کا عزمِ شہادت آج بھی مشعلِ راہ
کراچی میں پائلٹ آفیسر راشد منہاس شہید نشان حیدر کے مزار پر پھولوں کی چادر چڑھانے کی تقریب ہوئی،ائیر آفیسر کمانڈنگ سدرن ائیر کمانڈ ائیر وائس مارشل اختر عمران سدوزئی مہمان خصوصی تھے ۔انہوں نے راشد منہاس شہید کے مزار پر حاضری دی اور فاتحہ خوانی کی۔پاک فضائیہ کے چاق و چوبند دستے کی جانب سے راشد منہاس کی لازوال قربانی کو سلام عقیدت پیش کیا گیا۔
سربراہ پاک فضائیہ کی جانب سے بھی پائلٹ آفیسر راشد منہاس شہید کے مزار پر پھولوں کی چادر چڑھائی گئی۔اس موقع پر شاہینوں کی لازوال قربانیوں اور شجاعت کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔
ترجمان پاک فضائیہ کا کہنا تھا کہ راشد منہاس شہید کا عزمِ شہادت آج بھی پاک فضائیہ کے شاہینوں کے لیے مشعلِ راہ ہے،شہید کی قربانی، عزم و وفا کی وہ روشن داستان ہے جو نسلوں کو دفاعِ وطن کا درس دیتی ہے۔
راشد منہاس کون تھے؟
راشد منہاس 17 فروری 1951ء کو کراچی میں پیدا ہوئے۔ بچپن ہی سے انہیں ہوا بازی اور طیاروں کا جنون تھا۔ انہوں نے 1971ء میں پاک فضائیہ میں بطور جی ڈی پائلٹ کمیشن حاصل کیا۔
راشد منہاس اپنی پہلی سولو پرواز (تنہا اڑان) کے لیے ٹی-33 ٹرینر طیارے میں بیٹھ رہے تھے کہ ان کے انسٹرکٹر فلائٹ لیفٹیننٹ مطیع الرحمن زبردستی طیارے میں سوار ہو گئے۔ مطیع الرحمن اس طیارے کو ہائی جیک کر کے بھارت لے جانا چاہتے تھے۔
راشد منہاس نے فضا میں اپنے غدار انسٹرکٹر کے ساتھ طیارے کے کنٹرول کے لیے بھرپور مزاحمت کی۔ جب انہوں نے دیکھا کہ طیارہ بھارتی سرحد کے بالکل قریب (صرف 32 میل دور) پہنچ چکا ہے، تو انہوں نے وطن کی مٹی پر سمجھوتہ کرنے کے بجائے طیارے کا رخ زمین کی طرف موڑ دیا۔ طیارہ بھارتی سرحد سے چند کلومیٹر پہلے ضلع سجاول کے قریب گر کر تباہ ہو گیا۔
اس بہادری اور فرض شناسی کے مظاہرے پر حکومتِ پاکستان نے محض 20 سال کی عمر میں جامِ شہادت نوش کرنے والے اس قومی ہیرو کو ‘نشانِ حیدر’ سے نوازا۔


