اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ ملک میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے معاملے پر تفصیلی بحث ہورہی ہے، عوام کو فیصلہ کرنے دیا جائے، سب مل کر دیکھیں کہ کیا کچھ ممکن ہے۔
محسن نقوی نے کہا کہ امید ہے کہ نئے صوبوں اور انتظامی ڈھانچے سے متعلق جاری بحث کو مثبت انداز میں لیا جائے گا۔ امریکا اور یورپ سمیت دنیا کے کئی ممالک میں مقامی سطح پر اختیارات اور انتظامی نظام موجود ہے، تاہم پاکستان میں اس نوعیت کا نظام ابھی پوری طرح موجود نہیں۔
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ پاکستان میں بہت سارے صادق خان، بہت سے ممدانی اور بہت سے ایردوان سامنے آئیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ مقامی سطح پر ایسی قیادت ابھرے جو عوام کے مسائل کو بہتر انداز میں سمجھتے ہوئے انہیں حل کرسکے۔
لندن، واشنگٹن اور دہلی کے گورننس ماڈلز کا بھی جائزہ
دوسری جانب وفاقی وزیر طارق فضل چودھری نے کہا کہ اسلام آباد کو بہتر گورننس ماڈل دینے کے لیے وزیراعظم نے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی، جس کے سربراہ وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال تھے۔
انہوں نے بتایا کہ کمیٹی میں رانا ثنا اللہ، مصدق ملک اور سیکریٹری داخلہ بھی شامل تھے، جبکہ کمیٹی میں لندن، واشنگٹن اور دہلی کے گورننس ماڈلز کا بھی جائزہ لیا گیا۔
طارق فضل چودھری نے کہا کہ صوبوں سے متعلق بحث شروع ہونے سے پہلے ہی اسلام آباد کے گورننس ماڈل پر غور کیا جا رہا تھا اور اس حوالے سے سفارشات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔
ان کے مطابق دنیا کے ہر ملک کے دارالحکومت کا اپنا گورننس ماڈل اور اسمبلی ہوتی ہے، اسی طرز پر اسلام آباد کے لیے بھی مجوزہ اسمبلی قائم کرنے کی تجویز ہے۔ اس اسمبلی کو صوبائی اسمبلیوں جیسے اختیارات حاصل ہوں گے اور اسلام آباد سے متعلق تمام قانون سازی اسی اسمبلی میں ہوگی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ اسلام آباد کو قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) سے کوئی رقم نہیں ملتی جبکہ اسلام آباد کے نئے گورننس ماڈل سے متعلق مجوزہ ڈرافٹ وزیراعظم کو پیش کردیا گیا ہے۔
طارق فضل چودھری کے مطابق سیاسی جماعتوں کے اتفاق رائے کے بعد دوسرا مرحلہ شروع ہوگا، جس میں یہ طے کیا جائے گا کہ انتظامی یونٹس کس طرح بنائے جائیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ فی الحال صرف ایک ڈرافٹ تیار کیا گیا ہے، جسے تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ شیئر کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد ڈرافٹ کو قانون کی شکل دی جائے گی۔ ان کے بقول ریفرنڈم کا دوسرا نام عوام کی رائے ہے اور انتظامی یونٹس بنانے کے معاملے میں سب سے بڑے اسٹیک ہولڈر سیاسی جماعتیں نہیں بلکہ عوام ہیں۔
طارق فضل چودھری نے کہا کہ نئے انتظامی یونٹس کے قیام کا فیصلہ عوام کی رائے اور سیاسی اتفاق رائے کو سامنے رکھتے ہوئے کیا جانا چاہیے، تاکہ مستقبل کا انتظامی ڈھانچہ بہتر حکمرانی اور عوامی سہولت کا ذریعہ بن سکے۔



