لاہور: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے خبردار کیا ہے کہ مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو حکومت گراؤ تحریک چلائیں گے۔
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے لاہور میں دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب بھر میں بھی دھرنے بڑھ رہے ہیں، ہم ظلم کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں اور ہماری جدوجہد یقیناً منزل تک پہنچے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی کی تحریک نظام بدلنے کی تحریک ہے، موجودہ حکومتی نظام نے جاگیرداروں اور وڈیروں پر مشتمل کنسورشیم بنا رکھا ہے جو عوام کو حق حکمرانی سے محروم کرتا ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے مشورہ دیا کہ اگر حکومت سود کی شرح میں 3 فیصد کمی کردے تو قومی خزانے کے 1,500 ارب روپے بچائے جاسکتے ہیں۔ شہباز شریف کہتے تھے کہ سود کی لعنت ختم کریں گے، لیکن ایسا نہیں کرسکے۔ سود کو بتدریج کم کیا جائے تو عوام کو بھی مسلسل ریلیف ملتا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ بیوروکریسی کو کئی کئی کنال کے گھر، بڑے بنگلے اور بڑی گاڑیوں کے ساتھ مفت پٹرول کی سہولت حاصل ہے۔ چاہے افسر کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، سرکاری گاڑی 1300 سی سی سے بڑی نہیں ہونی چاہیے، البتہ ذاتی گاڑی جتنی مرضی بڑی رکھی جاسکتی ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے خبردار کیا کہ مذاکرات ناکام ہوئے تو پہیہ جام ہڑتال کی کال دی جائے گی اور پٹرول پمپس، دکانیں اور گاڑیاں سمیت پورا ملک بند کرنے کی طرف جائیں گے۔ لیکن اگر حکومت نے ان سب کے باوجود مطالبات تسلیم نہ کیے تو پھر حکومت گراؤ تحریک چلائیں گے۔
حافظ نعیم الرحمان نے پنجاب کے تعلیمی اداروں کے نتائج پر کہا کہ مریم نواز نے 11 ہزار اسکول بیچ دیئے اور 25 ہزار کو بیچنا چاہتی ہیں۔ پنجاب میں نویں جماعت کے 50 فیصد سے زائد بچے فیل ہو گئے جبکہ انہوں نے دانش اسکولز بنا کر عوام کو دھوکہ دیا اور عوام کے اربوں روپے کھا گئے۔
انہوں نے کہا کہ آج اساتذہ، ڈاکٹرز، کسان تمام افراد سراپا احتجاج ہیں لیکن شریف خاندان کی ذہنیت سرمایہ دارانہ ہے اور انہوں نے کسانوں کو گندم کے پورے پیسے نہیں دئیے جبکہ خود 11 کمپنیوں کے ذریعے گندم خرید کر مہنگی بیچ رہے ہیں۔
انہوں نے مریم نواز کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مریم نواز نے کہا صوبے کو بھارت سے نہیں صوبوں سے خطرہ ہے اور آج مریم نواز بھی نواز شریف کی ذہنیت کے مطابق کام کر رہی ہیں کیونکہ نواز شریف بھی بھارت کے ساتھ دوستی کر کے پاکستان پر کاری وار کرتا تھا۔


