نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) سربراہ اجلاس سے قبل ملاقات ہوئی جس میں دو طرفہ تعلقات اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ملاقات کے دوران اسحاق ڈار نے کہا کہ خطے میں امن و استحکام کیلئے مذاکرات اور سفارت کاری ناگزیر ہے، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر فریقین کا مخلصانہ عملدرآمد ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔
پاکستان اور ایران کے وزرائے خارجہ نے مسلسل رابطے جاری رکھنے کی اہمیت پر بھی اتفاق کیا۔
A warm exchange between Deputy Prime Minister/Foreign Minister Senator Mohammad Ishaq Dar @MIshaqDar50 and Foreign Minister of Iran Seyyed Abbas Araghchi @Araghchi ahead of the SCO Council of Heads of State meeting in Bishkek today.
The two Foreign Ministers exchanged views on… pic.twitter.com/flgYsG0B3l
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) September 1, 2026
جون میں طے پانے والے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت 28 فروری کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں سے شروع ہونے والی جنگ کے خاتمے کے لیے ایک فریم ورک فراہم کیا گیا تھا۔ یہ مفاہمتی یادداشت پاکستان اور دیگر ممالک کی جانب سے کی جانے والی ثالثی کی کوششوں کا نتیجہ تھی۔
اپریل میں بھی پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کرانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ تاہم وقفے وقفے سے ہونے والے حملوں، بالخصوص آبنائے ہرمز کے اطراف جاری کارروائیوں نے حتمی امن معاہدے کے امکانات کو دھندلا دیا ہے۔
ایک روز قبل وزیراعظم شہباز شریف نے بشکیک میں ہونے والی سربراہی کانفرنس کے موقع پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت طے پانے والی مفاہمت کو آگے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔
دریں اثنا ایس سی او اجلاس کے موقع پر اسحاق ڈار نے ازبکستان کے وزیر خارجہ بختیار سعیدوف سے ملاقات کی۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار اور ازبک وزیر خارجہ نے پاکستان اور ازبکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی شراکت داری کے عزم کا اعادہ کیا، دونوں وزرائے خارجہ نے باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں تعاون مزید مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا اور پاک ازبک تعلقات مزید مستحکم بنانے پر اتفاق کیا۔
علاوہ ازیں اسحاق ڈار اور بیلاروس کے وزیر خارجہ کی بھی ملاقات ہوئی، جس میں باہمی تعلقات، خطے کی صورتحال اور دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔



