“پاکستان میں لڑکی پیدا ہوتے ہی گویا عورت بن جاتی ہے۔ اور یہاں عورت ہونا جرم ہے۔”
کئی برس قبل سماجی کارکن اور کانٹینٹ کریئیٹر صباح بانو ملک نے اپنی ایک ٹیڈ ایکس ٹاک کا آغاز انہی دو جملوں سے کیا تھا۔ اس وقت شاید انہیں اندازہ نہیں تھا کہ آنے والے برسوں میں یہی جملے انہیں بار بار دہرانا پڑیں گے۔
آج وہی خاتون جنہوں نے پاکستان میں صنفی تشدد میں اضافے کے خلاف خواتین کے حق میں بے خوف آواز بلند کی، اپنی کزن کے لیے انصاف مانگ رہی ہیں، جنہیں رواں ماہ کے آغاز میں مبینہ طور پر ان کے شوہر نے اپنے ہی گھر میں قتل کر دیا۔
45 سالہ حنا جاوید کی فیصل اصغر امام سے شادی کو محض 9 ماہ ہوئے تھے کہ 20 اگست کی صبح ان کے سسرال والوں نے ان کے بھائی کو حنا کی ہاتھ بندھی لاش وصول کرنے کے لیے فون کیا۔ تب سے حنا کے اہل خانہ، دوست اور ساتھی سڑکوں اور سوشل میڈیا پر مسلسل احتجاج کر رہے ہیں اور انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے باہر ہونے والے ایسے ہی ایک احتجاج میں شامل حنا جاوید کی کزن صباح کا ہم نیوز ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ہم سچ نہیں بولتے، اور یہی مسئلے کی اصل جڑ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات کو ہم ‘گھریلو معاملہ’، ‘غیرت کے نام پر قتل’ یا ‘غلط فہمی’ قرار دے دیتے ہیں، حالانکہ یہ خواتین کا قتل یعنی فیمی سائیڈ ہے۔

صباح کے مطابق ہمارا کلچر، تعلیمی نظام اور معاشرہ مجموعی طور پر اس سوچ کو تقویت دیتے ہیں کہ عورت کم تر ہے، باعثِ شرم ہے اور کسی کی ملکیت ہے۔ یہ کہتے ہوئے انہوں سے سوال اٹھایا کہ جب تشدد خود ہماری ثقافت میں پرویا ہوا ہے، تو پھر ہم تشدد کا مقابلہ کیسے کر سکتے ہیں؟
حنا جاوید کی کزن نے بات بڑھاتے ہوئے مزید کہا کہ پاکستان میں سسٹم خواتین کو تحفظ دینے میں مسلسل ناکام رہا ہے۔
“ہمیں مجموعی تناظر میں اس مسئلے کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ یہ مسئلہ صرف جرم کرنے والے افراد تک محدود نہیں بلکہ یہ اس وسیع تر نظام کے ساتھ بھی ہے جو مجرموں کیخلاف کارروائی کرنے میں ناکام رہتا ہے۔ ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ بحیثیت قوم اور ریاست ہم نے ایسا کیا کیا ہے جس کے باعث لڑکیوں اور خواتین کے بارے میں دقیانوسی تصورات کی جڑیں مزید مضبوط اور گہری ہوتی جا رہی ہیں۔‘‘
اعداد و شمار کیا کہتے ہیں؟
اعداد و شمار بھی کوئی حوصلہ افزا تصویر پیش نہیں کرتے۔
ساحل کی 2026 کی ششماہی رپور ٹ کے مطابق رواں سال کے پہلے 6 ماہ میں صنفی تشدد کے 3 ہزار 172 واقعات رپورٹ ہوئے۔ تاہم ان واقعات کا کیا جو رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔
سنہ 2021 میں ظاہر جعفر کے ہاتھوں 27 سالہ نور مقدم کے بے رحمانہ قتل کے بعد سے انصاف کے لیے مسلسل آواز اٹھانے والے فنکار عثمان خالد بٹ نے صنفی تشدد کے مقدمات کے لیے فوری سماعت کی ضرورت پر زور دیا۔
ہم نیوز ڈیجیٹل سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ، ’’انصاف ملنے کا انحصار اس بات پر نہیں ہونا چاہیے کہ مقتولہ کا خاندان انصاف کے لیے کتنی شدت اور کتنے عرصے تک جدوجہد کر سکتا ہے۔‘‘
ان کے مطابق نور مقدم کیس اس کی واضح مثال ہے جن کے خاندان کی انصاف کے لیے تگ و دو 5 طویل اور انتہائی مشکل برسوں تک جاری رہی؛ ہر سال شمعیں روشن کیں، احتجاج کیے، پریس کانفرنسیں کیں تاکہ نور کی کہانی لوگوں کے اجتماعی حافظے میں زندہ رہے لیکن ہر کوئی یوں برسوں تک انصاف کے لیے لڑنے کی سکت و استطاعت نہیں رکھتا۔
عثمان نے کہا کہ گواہوں پر دباؤ، متاثرہ خاتون کو ہی موردِ الزام ٹھہرانا اور اصل ملزم کے بجائے ہر دوسرے فریق پر ذمہ داری ڈال دینا انصاف کے حصول کو ایک نہ ختم ہونے والی جنگ بنا دیتا ہے۔
’’انصاف ملنے میں اتنا وقت نہیں لگنا چاہیے۔ جب تک یہ یقین پختہ نہیں ہوگا کہ مجرم کو اس کے کیے کی سزا ملے گی، بحیثیت معاشرہ ہمارے دامن پر ایک بڑا بدنما داغ موجود رہے گا۔‘‘
نظامِ انصاف بھی مسئلے کا حصہ ہے
سماجی کارکن اور ‘بولوبھی’ کے ڈائریکٹر اسامہ خیلجی نے بھی نظام انصاف کی کمزوری پر اداکار عثمان سے اتفاق کیا۔
ان کے مطابق پاکستان میں انصاف کا نظام سست، جانبدار اور خامیوں سے بھرا ہوا ہے اور گزشتہ چند برسوں کے دوران صورتحال ابتر ہو گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ “26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے بعد عدلیہ پر انتظامیہ کے اثر و رسوخ میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس کے بعد اس ملک میں انصاف کا حصول دیوانے کا خواب بن کر رہ گیا ہے۔”
اسامہ نے عدالتی نظام پر پدرشاہی کنٹرول کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ یہ دراصل پورے معاشرے کی عکاسی کرتا ہے۔ “سپریم کورٹ میں صرف ایک خاتون جج ہیں، جبکہ ہائی کورٹس میں بھی خواتین کی نمائندگی انتہائی کم ہے، اور جو چند ایک ہیں بھی، ان کے خلاف بھی فوجداری نظامِ انصاف گہرا صنفی تعصب رکھتا ہے۔”
اسامہ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق کی پاسداری یا انصاف کی فراہمی ریاست کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں ہے۔
ان کے بقول تعلیم، سماجی خدمات اور صحت کے لیے مختص بجٹ میں کمی آ رہی ہے جبکہ حکومت کی ترجیحات عام آدمی کے مسائل کے بجائے کہیں اور مرکوز ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صنفی تشدد کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جبکہ معاشرہ مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔ “شاید ہمیں بالکل ابتدا سے سکھانا شروع کرنا ہوگا، یعنی بچے کی پیدائش کے دن سے، اس کے معاشرے میں پروان چرھنے کے دوران تک۔ سوچ میں مکمل تبدیلی کی ابتدا گھر سے کرنا ہوگی۔”
تاہم عثمان خالد بٹ کا خیال ہے کہ اب صرف آگاہی اور سماجی اصلاحات کی بات کرنے کا وقت گزر چکا ہے۔ “ہم برسوں سے اس بارے میں بات کر رہے ہیں۔ بچوں کی تربیت کرنا یقینی طور پر ضروری ہے، دوستوں اور خاندان کے افراد کو ان کے اعمال کا جواب دہ ٹھہرانا بھی یقینی طور پر ضروری ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمیں قانون کی حکمرانی بھی یقینی بنانا ہوگی۔”
سارا بوجھ عورت ہی کیوں اٹھائے؟
ساحل کی رپورٹ کے مطابق صنفی تشدد کے 54 فیصد واقعات متاثرہ خواتین کے اپنے گھروں میں پیش آئے جبکہ 12 فیصد واقعات ملزمان کی رہائش گاہوں پر ہوئے۔ یعنی گھر جو خواتین کے لیے سب سے محفوظ جگہ تصور کیا جاتا ہے، اکثر وہی ان کے خلاف تشدد کا مرکز بن جاتا ہے۔
صرف رواں ماہ کے پہلے 14 دنوں کی بات کریں تو حنا جاوید، حنا ظریف اور ٹک ٹاکر عائشہ گلمنہ کے قتل کے واقعات نے سوشل میڈیا پر غم و غصے کی لہر پیدا کی۔
ہر دوسرے دن ایک نیا ہیش ٹیگ سامنے آیا، جس میں ان خواتین کے لیے انصاف کا مطالبہ کیا گیا جن کی زندگیاں ایسے مردوں نے ختم کر دیں جو مبینہ طور پر خود کو ان کی جان لینے کا حق دار سمجھتے تھے۔
جن شوہروں، والدوں، اور بھائیوں کے بارے میں خواتین کو بتایا جاتا رہا ہے کہ یہ ان کے محافظ ہیں، انہی رشتوں سے جڑے مرد ان واقعات میں مبینہ طور پر قاتلوں کے روپ میں سامنے آئے۔
خطرہ صرف خواتین تک محدود نہیں، بچے بھی اس ملک میں اتنے ہی غیر محدوظ ہیں۔ اسی مہینے کم سن بچیوں آیت نور اور آئزل علی پر تشدد اور ان کے قتل کے واقعات بھی سامنے آئے۔
شاید مسئلہ صرف چند افراد کا نہیں بلکہ پورے معاشرے میں سرایت کر جانے والی ایک ایسی خرابی کا ہے جس کا فوری علاج ضروری ہے۔

پاکستان میں خواتین صرف زندہ رہنے کی ایک مشکل جنگ نہیں لڑ رہیں۔ وہ ان پدرشاہی تصورات کے خلاف بھی لڑ رہی ہیں جو پیدائش کے لمحے سے ہی ان پر مسلط کر دیے جاتے ہیں۔ وہ ایسے حکومتی نظام کی ناکامی کا بوجھ اٹھا رہی ہیں جو انہیں تحفظ دینے کے وعدے تو کرتا ہے لیکن عملی طور پر مجرموں کو سزا سے بچنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
وہ غیرت، حیا، اور جرم کے اس بوجھ سے تھک چکی ہیں جو صرف ان کے عورت ہونے کی بنیاد پر ان کے کاندھوں پر ڈال دیا جاتا ہے۔
وہ خاندان کی عزت بچانے کے نام پر اپنا آپ مارتے مارتے تھک چکی ہیں۔۔۔اور بدنامی کے اس خوف تلے دب چکی ہیں جس کا خوف دلاکر انہیں خاموش رہنے، گھریلو تشدد کی بات دبانے، اور ہر قیمت پرگھر بسائے رکھنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔
قصور مقتولہ کا نہیں، قاتل کا ہے
شاید اب وقت آ گیا ہے کہ جب کوئی مرد کسی عورت کا قتل کرے تو اس جرم پر اسی مرد کو موردِ الزام ٹھہرایا جائے، نہ کہ گھما پھرا کر مقتولہ کا ہی قصور نکال لیا جائے۔ ہمیں طرز عمل بہتر کرنا ہوگا۔ اور خواتین کے خلاف تشدد کے خلاف جدوجہد میں مردوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
ہمیں ایسے مردوں کی ضرورت ہے جو اپنے دوستوں، ساتھیوں اور خاندان کے افراد کو جواب دہ ٹھہرائیں، خواتین کے خلاف تعصب پر ان کا احتساب کریں۔۔۔ایسے مرد جو دوسرے مردوں کی جانب سے مجرموں کو تحفظ دینے یا ان کے جرائم پر پردہ ڈالنے کے خلاف آواز اٹھائیں۔۔۔۔ایسے مرد جو نام نہاد “مردانہ اصولوں” اور دوستی کے غیر اعلانیہ ضابطوں کو توڑ کر خواتین کے تحفظ کو ترجیح دیں۔ اسی وقت تبدیلی شروع ہوگی جب مرد، خواتین اور حقوقِ نسواں کے کارکنوں اور سماجی کارکنوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے اور متاثرین کے لیے بلاامتیاز انصاف کا مطالبہ کریں گے۔
ہمیں ایسا نظام تشکیل دینا ہوگا جو سچ مچ میں خواتین کا تحفظ یقینی بنائے، ایسا نظام جس میں بنیادی انصاف کے حصول کے لیے ہر ہفتے نیا ہیش ٹیگ چلانے، شمعیں روشن کرنے یا سڑکوں پر احتجاج کرنے کی ضرورت نہ پڑے۔
ایسا نظام جو مزید نور مقدم، حنا جاوید، زینب، سارہ انعام، آیت نور اور سینکڑوں دیگر بے نام آوازوں کو خاموش کرائے جانے پر خاموشی سے نہ بیٹھ سکے۔
محض لفاظی، نمائشی اقدامات نہیں، اب بس درست سمت میں اس نظام کی تشکیل کے لیے سب کو آگے بڑھنا ہوگا۔
