لاہور جنرل اسپتال کے گائنی وارڈ میں اچانک آگ لگنے کے بعد حاملہ خواتین سمیت 70 افراد کو بحفاظت وارڈ سے باہر نکال لیا گیا۔
اسپتال انتظامیہ کے مطابق آگ ایگزاسٹ فین سسٹم میں لگی جس کے باعث وارڈ اور اس سے منسلک راہداری دھویں سے بھر گئی۔ دھویں کے باعث ایک سکیورٹی گارڈ کی طبیعت بگڑ گئی جنہیں ایمرجنسی میں طبی امداد دی گئی۔
اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ گارڈ کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر فریاد حسین کے مطابق اسپتال کے عملے کو دی جانے والی فائر سیفٹی تربیت اس موقع پر مؤثر ثابت ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ تربیت یافتہ عملے نے فوری کارروائی کرتے ہوئے آگ پر قابو پالیا اور کسی بیرونی مدد کے بغیر فائر ایکسٹنگوشرز کی مدد سے آگ بجھا دی گئی۔
ڈاکٹر فریاد حسین کے مطابق واقعے میں کسی شخص کو چوٹ نہیں آئی اور نہ ہی کوئی جانی نقصان ہوا، جبکہ مریضوں اور بچوں کو بھی کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
یاد رہے کہ ابھی اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال کی نرسری میں آتشزدگی سے 14 شیرخوار بچوں کی دردناک موت کا زخم مندمل نہیں ہوا تھا کہ لاہور جنرل اسپتال کے گائنی وارڈ میں آگ لگنے کا واقعہ سامنے آیا۔ اس سانحے نے جہاں سرکاری محکموں کی غفلت اور لاپروائی کو بے نقاب کیا وہیں ہنگامی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت، تیاری اور استعداد کار بھی مباحثوں کا موضوع بنی۔
سانحے پر وزیر اعظم شہباز شریف کی ہدایت پر بنی تحقیقاتی کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں ذمہ دار افسران اور عملے کے خلاف تادیبی کارروائی عمل میں لائی گئی۔ اس کے علاوہ نامکمل فائر اینڈ لائف سیفٹی انتظامات کے حامل وفاقی دارالحکومت کے سرکاری و نجی اسپتالوں اور طبی مراکز کے خلاف بھی کارروائی کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق اسلام آباد کے 48 سرکاری و نجی اسپتالوں اور طبی مراکز میں فائر اینڈ لائف سیفٹی انتظامات ناقص پائے گئے، جس پر سی ڈی اے نے تمام 48 اداروں کو مجموعی طور پر ایک کروڑ 40 لاکھ 50 ہزار روپے کے جرمانے عائد کیے ہیں۔
