ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ کو چھ ماہ سے زائد عرصہ گزر چکا ہے اور اس دوران ایرانی عوام کا معیار زندگی شدید متاثر ہوا ہے۔
قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ایران کے عسکری اور سیاسی نظام نے جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بدلتے حالات کے مطابق ایک حد تک خود کو ڈھال لیا ہے، تاہم اپنے نظریاتی اصولوں پر کوئی بڑی رعایت نہیں دی۔ ملک کے 9 کروڑ عوام کی اکثریت کے لیے زندگی روزمرہ کی جدوجہد بن چکی ہے۔
تہران میں رہنے والی ایک نوجوان خاتون مرجان نے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر صرف اپنا پہلا نام ظاہر کرنے کی خواہش ظاہر کی۔
انہوں نے بتایا کہ “میں بس ایسی زندگی چاہتی ہوں جس میں ہر وقت دوسروں سے ٹکراؤ، دنیا سے مزید تنہائی اور زندہ رہنے کی منصوبہ بندی شامل نہ ہو۔میں اس زندگی کے بارے میں سوچتی رہتی ہوں، پھر اس بات پر مایوس ہوتی ہوں کہ ہمیں اسے حقیقت بنانے کا انتخاب نہیں دیا جا رہا، اور پھر ایک اور دن گزارنے کے لیے آگے بڑھ جاتی ہوں۔ یہ ایک تھکا دینے والا چکر ہے۔”
تنخواہوں میں کمی
کئی دہائیوں کی بدانتظامی اور بدعنوانی کے ساتھ ساتھ پابندیوں اور بیرونی دباؤ کے باعث ایرانی معیشت اپنی صلاحیت کے مطابق کام نہیں کررہی۔
گزشتہ دو برس کے بیشتر عرصے کے دوران ایران جنگ اور امن کے درمیان ہی پھنسا رہا ہے، جس کے دوران امریکا اور اسرائیل کے ساتھ دو جنگیں اور ناکہ بندیاں بھی ہوئیں۔ اس صورتحال کے پیش نظر بہت کم لوگ ایران کے معاشی مستقبل کے بارے میں پُرامید ہیں۔
ایران کے شمسی کیلنڈر کے پانچویں مہینے مرداد کا اختتام 22 اگست کو ہوا۔ ایران کے شماریاتی مرکز کے مطابق اس عرصے میں مہنگائی گزشتہ برس کے اسی مہینے کے مقابلے میں 89 فیصد زیادہ رہی، جبکہ اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں 127فیصد سے اضافہ ہوگیا۔

تہران کے وسط میں ایک ٹیکنالوجی کمپنی میں ڈیٹا اینالسٹ کے طور پر کام کرنے والے بیژن نے بتایا کہ تقریباً تین سال قبل جب انہوں نے کمپنی میں ملازمت شروع کی تھی تو ان کی تنخواہ ماہانہ ایک ہزار ڈالر سے زیادہ کے برابر تھی، لیکن مہنگائی نے ان کی آمدنی کی قدر کم کر دی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ “تین مرتبہ تنخواہ میں اضافے کے بعد بھی اب میری تنخواہ کی قدر 500 ڈالر سے کم رہ گئی ہے۔حالات خراب ہونے کے ساتھ 33 سالہ بیژن نے کہا کہ وہ کبھی کبھی سوچتے ہیں کہ اگر ایک دہائی سے زیادہ عرصہ قبل بیچلرز کی ڈگری مکمل کرنے کے بعد وہ ایران چھوڑ گئے ہوتے تو ان کی زندگی کیسی ہوتی۔”
ایران کی کرنسی ریال گزشتہ ہفتے کے اختتام پر تہران کی اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں 20 لاکھ 60 ہزار ریال کی نئی تاریخی کم ترین سطح پر پہنچ گئی تھی۔
جنگ کے دوران ایران کی تیل اور گیس کی تنصیبات، پیٹروکیمیکل، اسٹیل اور بجلی کے پلانٹس کے ساتھ ساتھ گھروں، بندرگاہوں، ہوائی اڈوں، پلوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کے اثرات بھی سامنے آ رہے ہیں۔

دنیا کے سب سے زیادہ قدرتی وسائل رکھنے والے ممالک میں شامل ایران اب ایندھن اور بجلی کی بڑھتی ہوئی قلت کا سامنا کر رہا ہے۔آنے والے موسم سرما کے پیش نظر حکام قدرتی گیس کی قلت سے نمٹنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ حکومت پہلے ہی ذاتی گاڑیوں کے لیے ایندھن کا کوٹا کم کر چکی ہے اور چند ہفتوں کے اندر پٹرول کی قیمتیں بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے۔
سرکاری بیانیہ اور معاشرے پر بڑھتا دباؤ
ایرانی حکام نے زور دیا ہے کہ جنگ کے حوالے سے دنیا تک مقدس اتحاد کا پیغام پہنچنا چاہیے۔
اگرچہ ایران میں جنگ سے پہلے بھی عوامی سطح پر رائے کا اظہار کم ہی کیا جاتا تھا تاہم سیاست دانوں کے حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ عوام کی مالی مشکلات کے باعث ایک پیج پر نہیں ہیں۔
مجتبیٰ خامنہ ای سے منسوب جمعے کو جاری کیے گئے تازہ تحریری پیغام میں کہا گیا:
“میں واضح طور پر اعلان کرتا ہوں کہ سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے والی کسی بھی کارروائی کی اجازت نہیں ہے۔”
اس کے چند گھنٹے بعد صدر مسعود پزشکیان نے سرکاری ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ “حکومت کو شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے، وہ اپنا تیل فروخت کرنے میں مشکلات کا شکار ہے اور محاصرے میں موجود عوام کے حالات زندگی بہتر بنانے سے قاصر ہے۔”
دریں اثنا عدالتی اور انٹیلی جنس اداروں کے حکام نے ان تمام اقدامات اور تبصروں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے جنہیں سرکاری بیانیے کے لیے ناقابل قبول سمجھا جاتا ہے۔
ہر ہفتے نئی سزائے موت کا اعلان
عدلیہ ہر ہفتے نئی سزائے موت کا اعلان کر رہی ہے۔ ان میں وہ افراد بھی شامل ہیں جنہیں جون 2025 کی 12 روزہ جنگ اور جنوری میں حکومت مخالف ملک گیر احتجاج کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔
وزارتِ انٹیلی جنس نے گزشتہ ماہ ایسے افراد اور میڈیا اداروں کی فہرست بھی جاری کی جن سے قومی سلامتی کی وجوہات کی بنا پر ایرانی شہریوں کو رابطہ نہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

اقوام متحدہ اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان پھانسیوں کی مذمت کی ہے۔
قوانین کے نفاذ میں مزید سختی
حکومت نے لازمی حجاب کے قوانین پر عمل درآمد کی کوششیں بھی تیز کر دی ہیں۔ یہ اقدامات 2022 اور 2023 کے ان احتجاجی مظاہروں کے کئی سال بعد کیے جا رہے ہیں جن میں ملک میں لازمی لباس کے قوانین کی بڑے پیمانے پر مخالفت کی گئی تھی۔
اس ہفتے حکام نے مزید کیفے، آئس کریم کی دکانیں اور نجی آن لائن کاروبار بھی بند کر دیے۔ ان پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ ریاست کی جانب سے نافذ اسلامی اصولوں اور قوانین کی پابندی نہیں کر رہے تھے۔
ایرانی دارالحکومت کے ایک اور نوجوان رہائشی ساسان نے کہا کہ تجربے سے ثابت ہوا ہے کہ جب بھی بیرونی دباؤ بڑھتا ہے تو حکام اپنی گرفت مزید سخت کر دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ “کبھی کبھی میں بہت نااُمید ہوجاتی ہوں، یہ دیکھنا کہ ہر چیز آپ کے خلاف کام کر رہی ہے اور آپ کا مستقبل آپ کے اختیار نہیں ہے بہت تکلیف دہ ہے۔”
