پاکستان میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کو قانون کے ذریعے محدود کرنے کی بحث ایک بار چھڑ گئی ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایڈووکیٹ جلال حیدر اور یحییٰ فرید خواجہ کی جانب سے ایک درخواست دائر کی گئی ہے جس میں وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال کو منظم کرنے کے لیے جامع قانون سازی کی جائے، عمر کی مؤثر تصدیق کا نظام بنایا جائے اور بچوں کے ڈیجیٹل حقوق، پرائیویسی اور ذہنی و جسمانی تحفظ کے لیے باقاعدہ ادارہ جاتی نظام قائم کیا جائے۔
یہ بحث صرف پاکستان تک محدود نہیں۔ آسٹریلیا پہلے ہی 16 سال سے کم عمر افراد کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے خلاف دنیا کا سب سے نمایاں قانونی ماڈل نافذ کرچکا ہے، اور اسی ماڈل کو دیکھتے ہوئے فرانس، اسپین، برطانیہ اور نیوزی لینڈ سمیت کئی ممالک میں بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کو محدود کرنے یا عمر کی مؤثر تصدیق لازمی بنانے کا عمل جاری ہے۔
لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں آخر بچوں کو سوشل میڈیا سے دور رکھنے کی ضرورت کیوں محسوس کی جارہی ہے؟ کیا سوشل میڈیا واقعی بچوں کے لیے اتنا نقصان دہ ہے؟ اور اگر اس کا استعمال محدود کردیا جائے تو اس کے کیا نقصانات ہوسکتے ہیں؟
سوشل میڈیا کا استعمال بچوں کے لیے اتنا خطرناک کیوں؟
سوشل میڈیا نے بچوں کو دنیا بھر سے جوڑنے، معلومات حاصل کرنے، اپنی صلاحیتیں دکھانے اور تعلیمی میدان میں آگے بڑھنے کے بے شمار مواقع پیدا کیے ہیں۔ لیکن اسی کے ساتھ ایسے خطرات میں بھی اضافہ ہوا ہے جو روایتی میڈیا کے مقابلے میں بہت زیادہ پیچیدہ ہیں۔
ایک بچہ صرف چند کلکس کے ذریعے ایسے مواد تک پہنچ رسائی حاصل کرسکتا ہے جو اس کی عمر کے لیے نامناسب ہو۔ اس میں جنسی یا پرتشدد مواد، نفرت انگیز مواد، خود کو نقصان پہنچانے کی ترغیب، خطرناک چیلنجز اور فیک انفارمیشن شامل ہوسکتی ہے۔
دوسرا بڑا مسئلہ ‘سائبر بُلنگ’ ہے۔ اسکول میں ہونے والی بدسلوکی شاید اسکول کے دروازے پر ختم ہوجائے مگر سوشل میڈیا پر مذاق، تضحیک، دھمکی بچے کے موبائل تک پہنچ کر اس کی ذہنی صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔
اس کے علاوہ بچوں کو آن لائن اجنبی افراد کی جانب سے بھی خطرہ رہتا ہے، کوئی بالغ شخص جعلی شناخت اختیار کرکے بچے کا اعتماد حاصل کرتا اور بعد میں اسے جنسی یا دیگر استحصال کا نشانہ بنانے کی کوشش کرسکتا ہے۔ اور ایسے کئی کیسز دنیا بھر میں رپورٹ بھی ہوچکے ہیں۔
اور سب سے بڑی تشویش سوشل میڈیا کا وہ ڈیزائن ہے جو صارف کو زیادہ سے زیادہ وقت پلیٹ فارم سے جوڑے رکھنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ مسلسل نوٹی فکیشنز، مختصر ویڈیوز، لامحدود اسکرولنگ، لائکس بچے کو بار بار موبائل اسکرین دیکھنے پر اکساتے رہتے ہیں۔
ماہرین اور عالمی تحقیقی اداروں کے مطابق سوشل میڈیا کے اثرات ہر بچے پر ایک جیسے نہیں ہوتے۔ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے یورپ، سینٹرل ایشیا اور کینیڈا کے 44 ممالک کے 2 لاکھ 80 ہزار بچوں، نوجوانوں کی عادات پر مبنی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ موجودہ شواہد اس سادہ نتیجے کی حمایت نہیں کرتے کہ سوشل میڈیا مجموعی طور پر نوجوانوں کی صحت میں تبدیلیوں کا براہ راست سبب ہے۔ اس کے اثرات بعض بچوں کے لیے مثبت، بعض کے لیے منفی اور بہت سے بچوں کے لیے دونوں طرح کے ہوسکتے ہیں۔
یعنی مسئلہ صرف یہ نہیں کہ بچہ سوشل میڈیا استعمال کرتا ہے یا نہیں؛ اصل سوال یہ بھی ہے کہ:
- وہ روزانہ کتنا وقت سوشل میڈیا استعمال کرتا ہے؟
- کس قسم کا مواد دیکھتا ہے؟
- کن لوگوں سے رابطے میں ہے؟
- اسے کس قسم کا مواد الگورتھم دکھا رہا ہے؟
- کیا وہ سائبر بُلنگ کا شکار ہے؟
- کیا سوشل میڈیا اس کی نیند، پڑھائی یا حقیقی زندگی کے تعلقات کو متاثر کررہا ہے؟
- اور کیا گھر میں والدین یا اسے سرپرست کو معلوم ہے کہ بچہ آن لائن کیا کررہا ہے؟
قانون سازی سے قبل فوائد کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا!
دنیا بھر میں کسی بھی معاملے پر قانون سازی کرنے سے قبل اس کے فوائد کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے۔
بچے سوشل میڈیا کے ذریعے تعلیمی مواد حاصل کرتے ہیں، نئی زبانیں سیکھتے ہیں، تخلیقی صلاحیتیں اجاگر کرتے ہیں، اپنی دلچسپیوں سے متعلق کمیونٹیز کا حصہ بنتے ہیں اور دوستوں اور خاندان سے رابطے میں رہتے ہیں۔
کچھ بچے ایسے موضوعات یا مسائل سے متعلق معلومات بھی سوشل میڈیا سے حاصل کرتے ہیں جن کے بارے میں وہ والدین یا اساتذہ سے بات کرنے میں جھجھک محسوس کرتے ہیں۔

سوشل میڈیا بچوں کو اپنی آواز، تخلیقی صلاحیت اور شناخت کے اظہار کا موقع بھی دیتا ہے۔
اور یہی وجہ ہے کہ آسٹریلیا میں بھی 16 سال سے کم عمر بچوں پر پابندی کے باوجود ہر قسم کی آن لائن سروس بند نہیں کی گئی۔ تعلیمی، صحت، میسجنگ اور گیمنگ سمیت متعدد خدمات اس پابندی سے مستثنیٰ ہیں، جبکہ بچے ایسے پبلک سوشل میڈیا مواد کو بھی دیکھ سکتے ہیں جس کے لیے اکاؤنٹ ضروری نہ ہو۔
پھر 16 سال کی عمر ہی کیوں؟
16 سال کوئی ایسی سائنسی حد نہیں جس کے بعد اچانک بچہ سوشل میڈیا کے تمام خطرات سے محفوظ ہوجاتا ہے۔
یہ بنیادی طور پر ایک قانونی اور پالیسی حد ہے۔
دنیا بھر کی حکومتوں کا یہ تصور ہے کہ کم عمر بچوں میں فیصلہ سازی، خود پر قابو اور آن لائن خطرات کو سمجھنے کی صلاحیت محدود ہوتی ہے، اس لیے ایک مخصوص عمر تک انہیں زیادہ تحفظ دیا جائے۔
آسٹریلیا نے 16 سال کو کم از کم عمر قرار دیا ہے۔ فرانس میں 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کے لیے والدین کی اجازت کا قانونی تصور موجود ہے۔ اسپین نے بھی سوشل میڈیا تک رسائی کے لیے کم از کم عمر 16 سال کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور مؤثر عمر کی تصدیق کو لازمی بنانے کا منصوبہ پیش کیا ہے۔
دنیا کا سب سے نمایاں ماڈل آسٹریلیا
آسٹریلیا میں ہونے والی قانون سازی اس وقت سوشل میڈیا کے استعمال کو محدود کرنے کی سب اہم بحث ہے۔
10 دسمبر 2025 سے وہاں متعدد بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو 16 سال سے کم عمر آسٹریلوی افراد کو اکاؤنٹ بنانے یا برقرار رکھنے سے روکنے کے لیے مناسب اقدامات کرنا لازم ہیں۔
اس فہرست میں فیس بک، انسٹاگرام، اسنیپ چیٹ، ٹک ٹاک، ایکس، یوٹیوب، ریڈٹ، تھریڈز، ٹوئچ اور کِک شامل ہیں۔
اہم بات یہ ہے کہ جرمانہ بچے یا اس کے والدین کو نہیں بلکہ پلیٹ فارم کو ہوسکتا ہے۔
یعنی قانون کا بنیادی تصور یہ ہے کہ حکومت بچے کو سزا نہیں دے رہی بلکہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی ذمہ داری پوری کرنے پر مجبور کررہی ہے۔
فرانس میں مکمل پابندی کے بجائے والدین کی اجازت
فرانس نے ایک مختلف راستہ اختیار کیا۔وہاں 15 سال سے کم عمر بچے کے لیے سوشل میڈیا اکاؤنٹ بنانے کے لیے والدین کی اجازت ضروری قرار دی گئی ہے۔
یعنی فرانس کا ماڈل بنیادی طور پر یہ سوال اٹھاتا ہے کہ کیا والدین کو فیصلہ کرنے کا حق دیا جائے یا ریاست عمر کی بنیاد پر فیصلہ خود کرے؟
یہ ماڈل پاکستان کے لیے بھی اہم ہوسکتا ہے کیونکہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر بحث درخواست میں بھی عمر کی تصدیق اور بچوں کے تحفظ کے ساتھ والدین کے کردار کا معاملہ موجود ہے۔
اسپین میں 16 سال اور مؤثر عمر کی تصدیق
اسپین نے 2025 اور 2026 میں بچوں کے ڈیجیٹل تحفظ کے لیے مزید سخت اقدامات کی طرف پیش قدمی کی ہے۔حکومت نے سوشل میڈیا کھولنے یا استعمال کرنے کی کم از کم عمر 16 سال کرنے کی تجویز پیش کی اور عمر کی تصدیق کے ایسے نظام پر زور دیا جو صرف یہ پوچھنے تک محدود نہ ہو کہ صارف کی عمر کیا ہے بلکہ حقیقتاً عمر کی تصدیق کرسکے۔
برطانیہ پابندی کی طرف پیش قدمی
برطانیہ میں بھی بحث اب صرف عمر کی تصدیق تک محدود نہیں رہی۔
جون 2026 میں حکومت نے 16 سال سے کم عمر افراد کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کا اعلان کیا اور کہا کہ مزید اقدامات بھی سامنے آئیں گے۔ برطانوی آن لائن سیفٹی ریگولیٹر آف کام پہلے ہی بڑے پلیٹ فارمز پر مؤثر عمر کی جانچ اور بچوں کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات پر زور دے رہا تھا۔
یعنی برطانیہ کا ماڈل ابھی آسٹریلیا جیسی مکمل طور پر نافذ شدہ عملی صورت میں نہیں سمجھا جانا چاہیے؛ وہاں پالیسی اور قانونی عمل آگے بڑھ رہا ہے۔
نیوزی لیڈ میں 16 سال سے کم عمر کے لیے مجوزہ پابندی
نیوزی لینڈ کی پارلیمان میں 2025 میں سوشل میڈیا (ایج ریسٹرکٹڈ) بل پیش کیا گیا، جس کا مقصد 16 سال سے کم عمر افراد کو مخصوص سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اکاؤنٹ رکھنے سے روکنا ہے۔
پاکستان میں کیا تجویز کیا جارہا ہے؟
پاکستان میں اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرنے والے درخواست گزاروں نے حکومت سے 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کے لیے جامع قانون سازی اور ریگولیٹری فریم ورک بنانے کی درخواست کی ہے۔
اس میں بنیادی مطالبات یہ ہیں:
عمر کی تصدیق: سوشل میڈیا اکاؤنٹ بنانے والے شخص کی عمر کی مؤثر تصدیق کی جائے۔
بچوں کا تحفظ: سائبر بُلنگ، آن لائن ہراسانی، نامناسب مواد اور دیگر خطرات سے بچوں کو تحفظ دیا جائے۔
پرائیویسی: بچوں کے ذاتی ڈیٹا اور ڈیجیٹل شناخت کے تحفظ کے لیے واضح قواعد بنائے جائیں۔
پلیٹ فارمز کی ذمہ داری: سوشل میڈیا کمپنیوں پر بچوں کے تحفظ کے لیے مخصوص قانونی ذمہ داریاں عائد کی جائیں۔
ادارہ جاتی نظام: بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے ایک مخصوص ریگولیٹری اور حفاظتی نظام قائم کیا جائے۔

لیکن اصل مشکل: عمر کی تصدیق کیسے ہوگی؟
یہ شاید پورے معاملے کا سب سے مشکل سوال ہے۔
صرف یہ پوچھ لینا کہ آپ کی عمر کتنی ہے؟ مؤثر عمر کی تصدیق نہیں۔
بچہ اپنی عمر 16 سال لکھ سکتا ہے، والدین کا فون استعمال کرسکتا ہے یا کسی اور کے نام سے اکاؤنٹ بنا سکتا ہے۔
اسی لیے عمر کی تصدیق کے لیے دنیا بھر میں حکومتیں مختلف طریقوں پر غور کررہی ہیں، جن میں سرکاری شناخت، ڈیجیٹل شناخت، چہرے یا ویڈیو کے ذریعے عمر کا اندازہ اور دیگر تکنیکی طریقے شامل ہیں۔
لیکن یہاں ایک نیا مسئلہ پیدا ہوتا ہے:
بچے کو محفوظ بنانے کے لیے اس کی شناختی معلومات کتنی جمع کی جائیں؟
اگر کسی پلیٹ فارم کو بچے کی عمر جاننے کے لیے شناختی کارڈ، چہرہ، فون نمبر یا دیگر ذاتی معلومات دینی پڑیں تو اس ڈیٹا کی حفاظت کون کرے گا؟
اگر ڈیٹا لیک ہوجائے تو؟
اگر کمپنی اس معلومات کو اشتہارات یا پروفائلنگ کے لیے استعمال کرے تو؟
اسی لیے عمر کی تصدیق کے ساتھ ڈیٹا پرائیویسی بھی قانون کا بنیادی حصہ ہونی چاہیے۔
آسٹریلیا کے نظام میں بھی عمر کی یقین دہانی کے ساتھ پرائیویسی اور معلومات جمع کرنے کی حدود کو اہمیت دی گئی ہے۔
کیا پابندی مسئلے کا مکمل حل ہے اور بچوں کی آواز کہاں ہے؟
16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی شاید مسئلے کا حل نہیں۔ عمر کی حد ایک حفاظتی دیوار تو ہوسکتی ہے، لیکن مکمل حل نہیں۔
اس کے علاوہ اس پوری بحث میں ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ بچوں سے خود کیا پوچھا جارہا ہے؟
ایک طرف یہ طے کیا جارہا ہے کہ بچوں کے لیے کیا خطرناک ہے، لیکن دوسری طرف بچے خود سوشل میڈیا کو اپنی سماجی زندگی، اظہار، تعلیم اور شناخت کا حصہ سمجھتے ہیں۔
اس لیے بہتر قانون وہ ہوگا جو بچوں کو صرف محفوظ کرنے والی چیز نہ سمجھے بلکہ انہیں حقوق رکھنے والا فرد بھی سمجھے۔
یعنی:
- بچے کی پرائیویسی کا حق؛
- اظہارِ رائے کا حق؛
- معلومات تک رسائی کا حق؛
- محفوظ ماحول کا حق؛
- اور نقصان دہ مواد سے تحفظ کا حق۔
اصل چیلنج ان تمام حقوق کے درمیان توازن پیدا کرنا ہے۔
پاکستان کے لیے ممکنہ راستہ کیا ہوسکتا ہے؟
پاکستان اگر 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال کو محدود کرنے کا قانون بناتا ہے تو صرف یہ کہنا کافی نہیں ہوگا کہ اکاؤنٹ نہیں بن سکتا۔
ایک جامع نظام میں کم از کم پانچ اقدامات اہم ہوں گے:
اول یہ کہ مؤثر عمر کی تصدیق، ایسا نظام جو صرف عمر پوچھنے کے بجائے واقعی تصدیق کرے۔
دوسرا: پرائیویسی کا تحفظ یعنی عمر ثابت کرنے کے عمل میں بچوں کا غیر ضروری ذاتی ڈیٹا جمع نہ کیا جائے۔
تیسرا: پلیٹ فارمز کی ذمہ داری یعنی قانون کا بوجھ بچے یا والدین پر ڈالنے کے بجائے بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں پر عائد کیا جائے۔
چوتھا: والدین اور بچوں کی ڈیجیٹل تربیت، والدین کو یہ سکھانا ہوگا کہ بچے آن لائن کن خطرات کا سامنا کرسکتے ہیں اور بچوں کو خود محفوظ رہنے کی تربیت دینا ہوگی۔
پانچواں اقدام یہ کہ صرف سوشل میڈیا نہیں بلکہ پورے ڈیجیٹل ماحول پر نظر رکھنا ہوگی۔ اگر خطرہ صرف انسٹاگرام یا ٹک ٹاک تک محدود نہیں تو قانون کو گیمنگ، میسجنگ، سرچ، مصنوعی ذہانت، ڈیپ فیک، آن لائن جنسی استحصال اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو بھی دیکھنا ہوگا۔
پاکستان کے لیے اصل امتحان یہ نہیں کہ پابندی لگائی جائے یا نہیں۔
اصل امتحان یہ ہوگا کہ اگر پابندی یا عمر کی حد لگائی جاتی ہے تو کیا ایسا نظام بنایا جاسکتا ہے جو بچے کو آن لائن خطرات سے بھی بچائے اور اس کے بنیادی ڈیجیٹل حقوق، پرائیویسی، تعلیم، اظہار اور سماجی روابط کو بھی غیر ضروری طور پر محدود نہ کرے۔
کیونکہ مقصد صرف بچوں کو انٹرنیٹ سے دور کرنا نہیں ہونا چاہیے۔
مقصد ایسے ڈیجیٹل ماحول کا قیام ہونا چاہیے جہاں بچہ انٹرنیٹ استعمال کرے تو محفوظ، باخبر رہے اور اپنے حقوق سے محروم بھی نہ ہو۔
