اسلام آباد(فرخ عباس )دنیا بھر کے کئی ممالک میں کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی کے بعد اب پاکستان میں بھی اس حوالے سے بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔ اس حوالے سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کر دی گئی ہے۔
مدعی کے وکیل نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ ملک میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کو ریگولیٹ کرتے ہوئے اس پر قانون سازی کی جائے۔
اس کے علاوہ عدالت سے درخواست کی گئی ہے کہ بچوں کی عمر کی تصدیق کے لیے نظام بھی متعارف کروایا جائے۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ بچے سائبر بلنگ، آن لائن ہراسانی اور نقصان دہ مواد کا شکار ہو رہے ہیں، اس لیے ریاست کو ایک جامع قانونی و ریگولیٹری نظام بنانا چاہیے۔
اس کے علاوہ درخواست میں بچوں کے ڈیجیٹل حقوق، پرائیویسی اور ذہنی و جسمانی تحفظ سے متعلق پالیسی بنانے اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ذمہ داریاں عائد کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
یہ درخواست ایک شہری وقاص ناصر نے اپنے وکلا جلال حیدر، یحیی فرید خواجہ اور محمد ذیشان علی کے ذریعے دائر کی ہے۔
اس سے قبل دنیا کے کئی ممالک کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا کے استعمال سے روکنے کے لیے قانون سازی کر چکے ہیں، جن میں سے کچھ میں یہ پابندی نافذ ہو چکی ہے جبکہ کچھ میں زیر غور ہے۔
آسٹریلیا نے دسمبر 2025 میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سب سے پہلے مکمل پابندی نافذ کی ۔ اس کے بعد ملائیشیا نے جنوری تا جون 2026 میں آن لائن سیفٹی ایکٹ کے تحت 16 سال سے کم عمر بچوں پر پابندی لگائی۔
انڈونیشیا نے مارچ 2026 میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے اکاؤنٹس بند کیے۔برازیل نے مارچ 2026 میں 16 سال سے کم عمر صارفین کے اکاونٹس کے لیے سرپرست سے منسلک ہونا لازمی قرار دیا۔
فرانس نے جولائی 2026 میں 15 سال سے کم عمر بچوں پر پابندی کا قانون منظور کیا ۔ پرتگال نے فروری 2026 میں 13 سے 16 سال کے صارفین کے لیے والدین کی اجازت لازمی قرار دی۔
اس کے علاوہ برطانیہ، کینیڈا، ناروے، ڈنمارک، پولینڈ، سلووینیا، نیوزی لینڈ، اسپین، آسٹریا اور یورپی یونین میں بھی 13 سے 16 سال کی عمر کی حد کے ساتھ ایسی پابندیوں کی قانون سازی جاری ہے، جو 2026 کے دوران مختلف مراحل میں مکمل ہونے کی توقع ہے۔



