حکومت نے سانحہ پمز کی پارلیمانی تحقیقات کے لیے تمام جماعتوں سے نمائندگی کے لیے نام مانگ لیے۔
قومی اسمبلی نے جمعہ کو مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کی قرار داد منظور کی تھی۔
پارلیمانی ذرائع کے مطابق حکومت نے تمام جماعتوں سے کمیٹی میں نمائندگی کے لیے نام مانگ لیے ہیں، مشترکہ پارلیمانی کمیٹی میں تمام جماعتوں کی نمائندگی ہو گی۔ نام ملتے ہی پارلیمانی کمیٹی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا جائے گا۔
پانچ روز قبل پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے نیونیٹل وارڈ کی نرسری میں خوفنا آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نومولود بچے جاں بحق ہو گئے تھے۔ سانحے کی تحقیقات کیلئے وزیراعظم شہباز شریف نے سابق سیکرٹری داخلہ شاہد خان کی سربراہی میں اعلیٰ سطح کی انکوائری کمیٹی تشکیل دی تھی۔
کیمٹی نے ابتدائی تحقیقاتی مکمل کرنے کے بعد وزیراعظم کو رپورٹ پیش کر دی تھی۔ عبوری رپورٹ میں پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عمران سکندر سمیت 8 افراد کو ذمہ دار قرار دیا گیا۔ رپورٹ کی روشنی میں وزیراعظم نے ذمہ داروں کے خلاف فوری فوجداری کارروائی کی منظوری دیتے ہوئے 8 افراد کی معطلی کا حکم دیا تھا۔
ذمہ دار قرار دیئے جانے والوں میں جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹرز ڈاکٹر مطاہر شاہ اور ڈاکٹر اویس علی شاہ، نیونیٹل ڈیپارٹمنٹ کی سربراہ ڈاکٹر سعدیہ ریاض، سینئر رجسٹرار ڈاکٹر نغم، ڈاکٹر نوشیلہ امجد، اسسٹنٹ ڈائریکٹر سکیورٹی پمز محمد عثمان اور سی ڈی اے ایمرجنسی سروسز کے ڈی جی ڈاکٹر عبدالرحمان شامل تھے۔
وزیر اعظم نے پمز کی سکیورٹی پر مامور کمپنی اور اس کے عہدیداران کیخلاف کارروائی کی بھی منظوری دی تھی، بعد ازاں کمیٹی کی سفارش پر معطل کئے گئے افسران کی جگہ نئی تعیناتیاں کی گئیں۔



