نیپال کے سرحدی علاقے میں تباہ کُن سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 903 ہو گئی۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز نے نیپالی حکام کے حوالے سے بتایا کہ نیپال میں آنے والے سیلاب کے نتیجے میں اڑھائی ہزار سے زائد افراد لاپتہ ہیں۔ جن میں 200 سے زائد طلبہ بھی شامل ہیں۔
حکام نے بتایا ہے کہ ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کے 6 مقامات پر 933 کارکن پھنسے ہوئے ہیں۔ سرنگوں میں پھنسے ہائیڈرو پاور پروجیکٹس کے کارکنوں کو نکالنے کی کوششیں جاری ہیں۔
ریسکیو ٹیموں کی جانب سے جاری تصاویر اور ویڈیوز میں دکھایا گیا ہے کہ رات کے اندھیرے میں روشنیوں کے نیچے بھاری مشینری کے ذریعے کیچڑ اور چٹانیں ہٹائی جا رہی ہیں جبکہ کارکن بھی امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ فوجی اہلکاروں نے ٹارچوں کی روشنی میں بڑی کھدائی کے ذریعے ایک سرنگ میں داخل ہونے کیلیے راستہ تلاش کرنے کی کوشش کی۔
گزشتہ ہفتے نیپال اور تبت کی سرحد پر برف، چٹانوں، کیچڑ اور ملبے کے غیر معمولی ریلے نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔ ماہرین کے مطابق یہ واقعہ ممکنہ طور پر گلیشیئر کے ٹوٹنے کے باعث پیش آیا۔ اس سانحے میں سیکڑوں کی تعداد میں ہلاکتیں ہوئیں۔
ریڈ کراس نے اندازہ لگایا ہے کہ اس قدرتی آفت سے 90 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔ چین نے اس تباہی کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے بھی جوڑا ہے۔
سیلاب سے اسکولوں، اسپتالوں، پن بجلی گھروں، سڑکوں، پلوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
نیپالی فوج کے ترجمان راجا رام بسنیت نے رائٹرز کو بتایا کہ بڑی مقدار میں ملبہ جمع ہو گیا ہے، جس کی وجہ سے سرنگوں کو کھولنا ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ ہماری بنیادی توجہ سرنگوں کو کھولنے پر مرکوز ہے۔
نیپالی حکام کے مطابق کئی لاشیں سیلابی ریلے میں بہہ کر متاثرہ علاقے سے تقریباً 100 کلو میٹر دور میدانی علاقوں سے ملیں، جبکہ مزید لاشیں ملنے کا خدشہ ہے۔
نیپالی وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ ملک کو عمومی سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں غیر ملکی مدد کی ضرورت نہیں، تاہم سرنگوں میں پھنسے افراد کو نکالنے کے لیے بیرونی تعاون درکار ہے۔



