نیپال اور تبت میں گزشتہ ہفتے آنے والے تباہ کن سیلاب کے باعث ہلاکتوں کی تعداد 750 ہوگئی جبکہ 3 ہزار 44 افراد کے تاحال لاپتا ہونے کی اطلاع ہے۔
حکام کے مطابق خراب موسم اور دریاؤں میں پانی کی سطح بلند ہونے کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ ریسکیو اہلکاروں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔
یاد رہے نیپال اور چین کی سرحد کے قریب بدھ کو گلیشیئر کے ٹوٹنے کے بعد تودے سے ایک جھیل وجود میں آگئی تھی، جس کا پانی دریاؤں میں داخل ہونے کے بعد مزید سیلاب کا خدشہ پیدا ہوگیا۔ خراب موسم اور نئے سیلاب کے خطرے کے باعث جمعے سے کئی مرتبہ ریسکیو آپریشن معطل کرنا پڑا۔
ریڈ کراس کے اندازے کے مطابق اس قدرتی آفت سے 90 ہزار سے زائد افراد متاثر ہونے کا امکان ہے۔ چین نے اس تباہی کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے بھی جوڑا ہے۔
چین کے وزیر خارجہ نے ہفتے کو اپنے نیپالی ہم منصب سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے سرحد پار تودے کو حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان پیش آنے والی شدید ترین قدرتی آفت قرار دیا۔
سرنگوں میں پھنسے افراد کی تلاش
نیپال میں ریسکیو کارروائیوں کا مرکز اب پن بجلی گھروں کی سرنگیں بن گئی ہیں، جہاں سیکڑوں افراد کے پھنسے ہونے کا خدشہ ہے۔ ہمالیائی دریاؤں میں برف، چٹانوں، کیچڑ اور ملبے کا شدید ریلہ آنے کے باعث متعدد علاقوں میں تباہی ہوئی۔
نیپال کی ڈیزاسٹر اتھارٹی کے مطابق ملک میں ہلاکتوں کی تعداد 734 ہوگئی ہے جبکہ 2 ہزار 498 افراد لاپتا اور 7 ہزار 514 افراد کو ریسکیو کیا جاچکا ہے۔
چین کے تبت خطے میں ہفتے کی شام تک 16 افراد کے ہلاک ہونے اور 546 کے لاپتا ہونے کی تصدیق کی گئی۔ حکام کے مطابق تبت میں 23 ممالک سے تعلق رکھنے والے 261 غیر ملکی شہری بھی لاپتا ہیں، جن میں نیپال کے 104، بھارت کے 49، لٹویا کے 33، امریکا کے 18 اور برطانیہ کے 15 شہری شامل ہیں۔
چین اور نیپال لاپتا شہریوں اور غیر ملکیوں کی شناخت کے لیے مل کر کام کررہے ہیں، جبکہ قدرتی آفات سے بچاؤ، نقصانات کم کرنے اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے تعاون بھی بڑھایا جارہا ہے۔
دریائے تریشولی میں پانی کی سطح بلند
نیپال میں آج مزید بارش کے بعد دریائے تریشولی میں پانی کی سطح دوبارہ بلند ہوگئی، جس پر مقامی افراد اور ریسکیو اہلکاروں نے محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہونا شروع کردیا۔
نیپال کا کہنا ہے کہ عمومی ریسکیو کارروائیوں کے لیے اسے غیر ملکی مدد کی ضرورت نہیں، تاہم وزارت خارجہ کے ترجمان لوک بہادر چھیتری کے مطابق سرنگوں میں پھنسے افراد کو نکالنے، ڈی این اے ٹیسٹنگ، لاشوں کو محفوظ رکھنے کے لیے کولڈ اسٹوریج اور گل سڑی لاشوں کی فرانزک شناخت جیسے شعبوں میں معاونت درکار ہے۔
ترجمان کے مطابق بھارتی اور چینی ماہرین سرنگوں کو کھولنے کی کوششوں میں مدد فراہم کررہے ہیں۔
نئی جھیل اور مٹی کے تودے کا خطرہ
چین کے مطابق سیلاب کے باعث اوپر کی جانب بننے والی جھیل کا پانی ہفتے کی شام تک بڑی حد تک خارج ہوگیا تھا، تاہم ہفتے کی رات ڈرونز نے جھیل سے تقریباً 2.8 کلومیٹر نیچے ایک اور مٹی کا تودہ دیکھا، جس کے نتیجے میں پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ پیدا ہوئی اور پانی کا نیا ذخیرہ بن گیا۔
چینی حکام نے خطرے کے پیش نظر گیئرونگ سرحدی گزرگاہ کے قریب موجود ریسکیو اہلکاروں کو محفوظ مقام پر منتقل کردیا۔چین نے 2 ہزار 100 سے زائد امدادی کارکنوں کو متحرک کیا ہے جبکہ امدادی سرگرمیوں کے لیے کم از کم 22 کروڑ یوآن مختص کیے گئے ہیں۔
چینی حکام کے مطابق چین نیپال کو ہنگامی مالی امداد، امدادی سامان، سیٹلائٹ اور آبی نگرانی کا ڈیٹا اور سرنگوں میں ریسکیو کے ماہرین بھی فراہم کررہا ہے۔
سرحدی علاقے میں چینی حکام نے بھاری سامان منتقل کرنے والے ڈرونز استعمال کیے، جبکہ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے امدادی سامان اور ضروری آلات بھی ریسکیو اہلکاروں تک پہنچائے جارہے ہیں۔ فوجی اہلکار لاپتا افراد کی تلاش کے لیے زندگی کا سراغ لگانے والے آلات، ڈرونز اور جدید نیوی گیشن سسٹم استعمال کررہے ہیں۔
موسمیاتی تبدیلی سے تعلق
چینی سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق ماہرین نے سیلاب کی وجہ گلیشیئرز میں عدم استحکام کو قرار دیا ہے، جس پر طویل عرصے سے جاری عالمی حدت کے اثرات مرتب ہورہے ہیں۔
چینی سائنس دانوں کے مطابق نیپال کی جانب سے آنے والے مٹی کے تودے کو گیئرونگ سرحدی گزرگاہ تک پہنچنے میں صرف 6 سے 7 منٹ لگے۔
سیلاب کے دوران پانی، برف، چٹانوں، کیچڑ اور ملبے کے تیز بہاؤ نے عمارتوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جبکہ متاثرہ علاقوں میں موجود افراد کو جان بچانے کے لیے فوری طور پر محفوظ مقامات کی جانب بھاگتے دیکھا گیا۔


