اسلام آباد: پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائینسز (پمز) اسپتال میں چار سال بعد پیدا ہونے والے بیٹے سے محروم ہونے والے والد کا دل دہلا دینے والا بیان سامنے آ گیا۔
پمز اسپتال میں آتشزدگی کے باعث نومولود بیٹے سے محروم ہونے والے متاثرہ والد نے کہا کہ چار سال بعد اللہ تعالیٰ نے انہیں اولاد کی نعمت عطا کی تھی۔ بیٹے کی پیدائش صبح 4 بجے ہوئی، لیکن صرف دو گھنٹے بعد 6 بجے پیش آنے والی آتشزدگی نے ان کی خوشیاں ماتم میں بدل دیں۔
انہوں نے کہا کہ آگ لگنے کے وقت ان کا نومولود بیٹا نرسری میں موجود تھا، تاہم مبینہ طور پر اسپتال انتظامیہ کا کوئی اہلکار فوری طور پر مدد کے لیے وہاں موجود نہیں تھا۔
متاثرہ والد کا کہنا تھا کہ انہوں نے خود نرسری کا تالا توڑا اور اندر داخل ہو کر اپنی مدد آپ کے تحت 4 سے 5 نومولود بچوں کو باہر نکالا، لیکن اپنے بیٹے کو نہ بچا سکے۔
پمز نرسری میں آتشزدگی اور دھواں بھر جانے کے باعث متعدد نومولود بچوں کے جاں بحق ہونے کے واقعے کی تحقیقات جاری ہیں، جبکہ حکومت نے بھی سانحے کا نوٹس لے لیا ہے۔
واضح رہے کہ اسلام آباد کے سب سے بڑے اسپتال پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے نیونیٹل وارڈ میں بدھ کو آتشزدگی کے نتیجے میں نرسری میں موجود 14 نومولود بچے جاں بحق ہو گئے۔
آگ پمز اسپتال کی تیسری منزل پر واقعہ نیونیٹل وارڈ (نومولود کی انتہائی نگہداشت کا شعبہ) میں صبح 6 بج کر 54 منٹ پر لگی تھی۔
ضلعی انتظامیہ کا کہنا تھا کہ پمز نرسری میں لگی آگ بجھا لی گئی، ضلعی انتظامیہ کے مطابق فائر فائٹرز اور 6 ایمبولینسز نے امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا اور خواتین سمیت 19 افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا۔
چیف کمشنر اسلام آباد سہیل اشرف اور آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی نے پمز اسپتال پہنچ کر امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ آئی جی اسلام آباد نے چیف کمشنر کو امدادی کارروائیوں کے حوالے سے بریفنگ بھی دی۔
پمز اسپتال میں آتشزدگی کے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل کی سربراہی میں 8 رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔

