مصری شاہی خاندان کا ایک قیمتی ہار ویانا کے ایک عجائب گھر سے چوری ہوگیا جس کے بعد آسٹریا کی پولیس نے 2 مشتبہ چوروں کی تصاویر جاری کرتے ہوئے ان کی تلاش شروع کردی ہے۔
دی گارڈین کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ قیمتی ہار میوزیم آف اپلائیڈ آرٹس میں جاری زیورات کی نمائش میں رکھا گیا تھا، اسی دوران دونوں مشتبہ چور ٹکٹ لے کر عجائب گھر میں داخل ہوئے اور ہتھوڑے کی مدد سے شیشے کا شوکیس توڑ کر ہار لے کر فرار ہوگئے۔
پولیس کے مطابق واردات کے وقت میوزیم میں دیگر افراد بھی موجود تھے تاہم کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔
پولیس نے شہریوں سے مشتبہ افراد کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔ حکام کے مطابق واردات کے بعد ملزمان زیورات لے کر نامعلوم سمت میں فرار ہوگئے۔ پولیس نے ان کی تلاش کے لیے شہر کے مرکزی علاقوں میں کارروائی کی اور سراغ رساں کتوں کی مدد بھی لی۔
آسٹریا کے اخبار ’کرونن‘ کے مطابق تفتیش کاروں کو شبہ ہے کہ یہ واردات کسی جرائم پیشہ گروہ کے کہنے پر کی گئی۔
چوری ہونے والا ہار جون سے میوزیم میں جاری وان کلیف اینڈ آرپلز کے زیورات کی نمائش میں رکھا گیا تھا۔ نمائش میں فرانسیسی زیورات ساز ادارے کی 120 سالہ تاریخ سے متعلق 300 سے زائد اشیا شامل تھیں۔
نمائش کی دستاویزات کے مطابق یہ ہار مصر کی ملکہ نازلی کا تھا، جنہوں نے 1939 میں اپنی بیٹی فوزیہ کی ایران کے ولی عہد محمد رضا پہلوی سے شادی کے موقع پر اسے پہنا تھا۔ محمد رضا پہلوی بعد میں ایران کے شاہ بنے۔
یہ 200 قیراط پلاٹینم کا ہار تھا جس میں 673 ہیرے جڑے تھے اور یہ 2015 میں نیویارک میں ہونے والی سوتھبیز کی نیلامی میں 43 لاکھ ڈالر میں فروخت ہوا تھا۔
واردات کے بعد میوزیم نے نمائش عارضی طور پر بند کردی ہے، جبکہ جمعے کو ہونے والا گائیڈڈ ٹور بھی منسوخ کردیا گیا۔ نمائش 27 ستمبر تک جاری رہنا تھی۔
یورپ کے مختلف عجائب گھروں میں حالیہ عرصے کے دوران قیمتی نوادرات کی چوری کے کئی واقعات سامنے آچکے ہیں۔
گزشتہ اکتوبر میں پیرس کے لوور میوزیم میں دن دہاڑے چوری کی واردات ہوئی تھی، جس میں چور 8 کروڑ 80 لاکھ یورو مالیت کے شاہی زیورات لے گئے تھے۔
رواں ماہ اٹلی کے شہر میسینا کے ایک عجائب گھر سے نشاۃ ثانیہ کے معروف مصور انٹونیلو دا میسینا کے چار اہم فن پارے بھی چوری ہوگئے تھے۔ اس سے قبل اطالوی پولیس نے پال سیزان، پیئر اوگست رینواغ اور ہنری ماتیس کی چوری شدہ تین پینٹنگز برآمد کرنے کا اعلان کیا تھا۔
یوروپول کی رواں ماہ جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یورپی عجائب گھروں میں چوری کی وارداتیں پہلے سے زیادہ پرتشدد ہوتی جارہی ہیں، جہاں ملزمان عملے پر حملوں کے علاوہ بھاری ہتھوڑوں، کلہاڑیوں اور بعض اوقات دھماکا خیز مواد تک استعمال کر رہے ہیں۔
