قومی اسمبلی نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) اسلام آباد کی نرسری میں آتشزدگی سے 14 بچوں کی جان جانے کے سانحے پر متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کر لی۔
قرارداد چیئرمین پارلیمانی کاکس برائے حقوق اطفال بیرسٹر دانیال نے پیش کی جس میں کہا گیا کہ یہ ایوان پمز میں آتشزدگی کے حالیہ واقعہ میں معصوم بچوں کی جانوں کے المناک نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتا ہے۔
قرارداد میں مزید کہا گیا کہ ایوان اس سانحے کی بھرپور مذمت کرتا ہے اور اس کا باعث بننے والی لاپرواہی پر شدید تشویش کا اظہار کرتا ہے۔
قرارداد میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ اس لاپرواہی کا جو بھی ذمہ دار ہے اس کے خلاف قانون کے مطابق سنگین کارروائی عمل میں لائی جائے۔
اس کے علاوہ حکومت سے وفاقی حکومت کے زیر نگرانی اسپتالوں، خاص طور پر ان کی نرسری اور بچوں کے وارڈز میں، فائر سیفٹی کے سخت انتظامات اور ایمرجنسی صورتحال سے نمٹنے کے بہترین انتظامات کو یقینی بنانے کا مطالبہ بھی کیا گیا تاکہ مستقبل میں ایسے اندوہناک واقعات کا تدارک کیا جا سکے۔
قرارداد میں سوگوار خاندانون کیساتھ اظہار ہمدردی کیا گیا اور اس دکھ کی گھڑی میں ان کے لیے صبر اور حوصلے کی دعا کی گئی۔
دوسری جانب ایوان نے قومی اسمبلی اور سینیٹ کی خصوصی پارلیمانی کمیٹی برائے سانحہ پمز بنانے کی تحریک بھی منظور کرلی۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اپوزیشن کو بھی اس پارلیمانی کمیٹی میں شمولیت کی تجویز دی۔
اجلاس کے دوران حکومتی اور اپوزیشن ارکان کی جانب سے میں پمز سانحے پر شدید بحث ہوئی جس دوران سانحے کی آزادانہ تحقیقات اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کے ساتھ ساتھ مستقبل میں ایسے سانحات کے تدارک کے لیے اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
اس دوران ارکانِ اسمبلی نے اسپتال میں حفاظتی انتظامات اور سانحے سے نمٹنے کے لیے حکومتی ردعمل پر سوالات بھی اٹھائے۔
‘وزیر اعظم استعفیٰ دیں’
پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے بچوں کی اموات پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے دارالحکومت کے سب سے بڑے اسپتال میں طبی سہولیات کی صورتحال پر سوال اٹھایا۔
انہوں نے کہا کہ اگر اسلام آباد کے مرکز میں واقع سب سے بڑے اسپتال کی یہ حالت ہے تو پھر ملک کے باقی حصوں کا تو اللہ ہی مددگار ہے۔
اسد قیصر نے وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس عہدے پر برقرار رہنے کا کوئی جواز نہیں رہا۔ انہوں نے اسلام آباد میں حکومت کی کارکردگی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور وزیراعظم شہباز شریف سے بھی مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔
اسد قیصر نے پمز انتظامیہ کے خلاف مقدمہ درج کرنے اور سانحے کی تحقیقات کے لیے پارلیمانی کمیٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پارلیمانی دباؤ کے بغیر حکومت اس معاملے میں بامعنی کارروائی نہیں کرے گی۔
انہی کی پارٹی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے شفاف اور غیر جانب دار تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کوشش ہونی چاہیے کہ آئندہ ایسا واقعہ دوبارہ پیش نہ آئے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ آگ لگنے کے وقت اسپتال میں ڈاکٹرز اور نرسیں موجود نہیں تھیں اور نومولود بچوں کو وارڈ کے اندر بند چھوڑ دیا گیا تھا۔
بیرسٹر گوہر نے سانحے میں اپنے بچوں سے محروم ہونے والے خاندانوں کے لیے خاطر خواہ مالی امداد فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔
بچوں کے لواحقین کیلئے مالی امداد
بیرسٹر گوہر کے سوگوار خاندانوں کے لیے معاوضے کے مطالنے پر وزیر دفاع خواجہ آصف نے اجلاس کو بتایا کہ وفاقی حکومت نے جاں بحق بچوں کے لواحقین کے لیے 50 لاکھ روپے فی خاندان مالی امداد کا اعلان کیا ہے۔
انہوں نے ایوان کو بتایا کہ واقعے سے متعلق قائمہ کمیٹی کا اجلاس پیر کو طلب کیا گیا ہے جس میں وزیر مملکت برائے داخلہ رپورٹ پیش کریں گے۔ خواجہ آصف نے ارکانِ اسمبلی پر زور دیا کہ وہ اجلاس میں شرکت کریں اور اپنی سفارشات پیش کریں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ پارلیمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ جوابدہی یقینی بنائے، خصوصاً ایسے معاملات میں جہاں غفلت کا عنصر موجود ہو۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں پیش آنے والے کئی سانحات کی تحقیقات برسوں سے زیر التوا ہیں، جس کے باعث عوام کی توجہ وقت گزرنے کے ساتھ واقعے سے ہٹ سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ تحقیقات شروع ہونے کے بعد دانستہ طور پر اس کی مدت بڑھائی جاتی ہے تاکہ واقعہ لوگوں کے ذہنوں سے محو ہو جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ پمز کے سانحے کو محض وقتاً فوقتاً افسوس کے اظہار تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس کے بعد جوابدہی بھی ہونی چاہیے۔ خواجہ آصف نے یہ تجویز بھی دی کہ کمیٹی کی کارروائی کھلے عام کی جائے تاکہ عوام دیکھ سکیں کہ پارلیمان ذمہ داروں کا احتساب کر رہی ہے۔
دریں اثنا پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کے چیئرمین ڈاکٹر مہیش کمار نے کہا کہ کمیٹی نے ایک روز قبل پمز کا دورہ کیا تھا اور ڈاکٹروں، نرسوں اور اسپتال کے دیگر عملے کے بیانات میں تضادات پائے گئے۔
ان کے مطابق ایک ڈاکٹر نے کمیٹی کو بتایا کہ آگ ایئر کنڈیشنر سے نکلنے والی چنگاری کے باعث لگی، تاہم نرسوں نے بتایا کہ انہوں نے ایسی کوئی چنگاری نہیں دیکھی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسپتال انتظامیہ کے بیانات میں بھی تضادات موجود تھے۔
‘روز 13 سو بچے مر رہے، انہیں بچانا ہوگا’
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کی اموات کا واقعہ بہت بڑا سانحہ ہے اور نہ معصوم جانوں کا کوئی نعمل بدل ہو سکتا ہے اور نہ ان 14 بچوں کی شہادت پر کوئی وضاحت دی جا سکتی ہے۔
سانحے کی بعد بطور وزیر صحت کی جانے والی کارروائی پر ان کا کہنا تھا کہ اس پر میں نے بہت کام کیا ہے اور جو کچھ کیا کوئی اس کے قریب بھی نہیں پہنچ سکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کی جانب سے سانحے پر کمیٹی قائم کی گئی ہے، جو آج اپنی رپورٹ پیش کرے گیا۔ انہوں نے ایوان کو یقین دلایا کہ جو فیصلے ہونگے، شواہد کی بناپر ہونگے اور جو بھی ذمہ دار ہوگا اسے نہیں چھوڑا جائیگا۔
اس کے علاوہ انہوں نے سینیٹ اور قومی اسمبلی کی مشترکہ کمیٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی کو ٹائم باونڈ نہ کیا جائے۔
وزیر صحت کا مزید کہنا تھا صرف یہ 14 بچے نہیں ہیں، ہر سال ایک سے 5 سال کے 4 لاکھ بچے جان سے جاتے ہیں۔ “آج جب شام ختم ہوگی تو 13 سو بچے جان سے چلے گئے ہونگے۔”
انہوں نے ارکان اسمبلی سے اپیل کی کہ آئیں مل کر اگلے بچے کو بچانے کا سوچیں، “ہم روز 13سو بچے مار دیتے ہیں، یہ بچے بچائے جا سکتے ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ پمز سانحے پر وزیر صحت سے استعفی دینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے جس پر وہ کچھ نہیں کہنا چاہتے۔ “میں وہ کچھ کرچکا ہوں جو آپ کے علم میں بھی نہیں۔”
اس سے قبل انہوں نے سینیٹ کے اجلاس سے خطاب کے دوران ان کا کہنا تھا کہ “یہ وزارتیں کچھ نہیں بیچتی، ان کے لیے میں اپنی قبر خراب نہیں کر سکتا۔”
