وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ شعبہ توانائی کے فیصلے قومی مفاد اور ملکی ضروریات کے مطابق کیے جا رہے ہیں، موجودہ صورتحال میں عوام کو ریلیف دینے کیلئے ہر ممکن اقدام کیا جا رہا ہے۔
لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ فی الحال ملک میں پیٹرول کی کوئی قلت نہیں تاہم اگر قلت پیدا ہوگئی تو فی لیٹر قیمت ایک ہزار روپے تک بھی جاسکتی ہے۔
علی پرویز ملک نے کہا کہ عالمی تیل منڈیوں میں بھونچال آیا ہوا ہے، کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں اور سپلائی پر اثر پڑ رہا ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں 90 فیصد جبکہ پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 50 فیصد اضافہ ہوا۔
انہوں نے کہا کہ امریکا میں بھی ڈیزل کا گیلن 6 ڈالر سے بڑھ چکا ہے۔ جبکہ فرانس میں پمپس پر پیٹرول کی قلت ہو گئی ہے۔ایران جنگ شروع ہونے سے پہلے پاکستان میں پٹرول کی قیمت 260 اور ڈیزل کی قیمت 280 روپے فی لیٹر تھی، جبکہ دبئی کے خام تیل کی قیمت 71 ڈالر فی بیرل تھی، اس وقت قیمت 118 ڈالر فی بیرل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی دستیابی یقینی بنانے کیلئے اقدامات جاری ہیں، بحران کے تناظر میں تیل کی قیمتوں اور دستیابی کو مانیٹر کیا جا رہا ہے، پیٹرولیم مصنوعات کی بلاتعطل فراہمی حکومت کی ترجیح ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایات پر پیٹرولیم شعبے میں عوامی مفاد کو ترجیح دی جا رہی ہے، ڈیزل تاریخ کی بلند ترین سطح پر جا چکا ہے ، حکومت کو عوام کی تکلیف کا مکمل احساس ہے۔ ریاست کے مفادات کے تحفظ کے لیے جو کچھ کرنا پڑا کریں گے،عوام کے لیے تیل سستا کرنا میری ذمہ داری ہے۔
انہوں نے تحریک انصاف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی نے اپنے دور میں سستی شہرت کیلئے ملک کو دیوالیہ پن کے دہانے تک پہنچایا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ خطہ نہایت نازک دور سے گزر رہا ہے، سعودی عرب پر حوثی ملیشیا کے حملے قابل مذمت ہیں۔



