پاکستان مسلم لیگ (ن) نے منتخب عوامی نمائندوں کو چھوڑ کر الیکشن میں اپنی سیٹ ہارنے کے بعد مخصوص نشست پر اسمبلی ممبر منتخب ہونے والے بیرسٹر افتخار گیلانی کو آزاد جموں و کشمیر کا وزیراعظم نامزد کرنے کا فیصلہ کیا، جس پر ذرائع کے مطابق سینیئر پارٹی رہنما تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں آزاد کشمیر میں حکومت سازی سے متعلق اہم مشاورتی اجلاس میں ہوا۔ اجلاس میں رانا ثناء اللہ، خواجہ سعد رفیق، مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر، سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر، نو منتخب اسپیکر چوہدری طارق فاروق، ڈپٹی اسپیکر احمد رضا قادری اور بیرسٹر افتخار گیلانی شریک ہوئے۔
یاد رہے کہ وزارت عظمیٰ کی دوڑ میں سابق وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر اور مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر بھی شامل ہیں، تاہم شاہ غلام قادر کو موزوں ترین امیدوار قرار دیا جا رہا تھا۔
شاہ غلام قادر کے قریبی ذرائع کے مطابق وہ افتخار گیلانی کی نامزدگی پر دلبرداشتہ ہیں۔ اس بات کا اشارہ ان کی پارٹی اجلاس کے بعد ایکس پر کی گئی پوسٹ میں بھی ملتا ہے۔
انہوں نے “نواز شریف کے نعرہ ‘ووٹ کو عزت دو’ کو یقینی” بنانے کا عہد کرتے ہوئے کہا کہ “آزاد جموں و کشمیر کے غیور عوام کو یقین دلاتا ہوں کہ ان کے عزت و وقار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرونگا ۔”
آزاد جموں و کشمیر کے غیور عوام کو یقین دلاتا ہوں کہ ان کے عزت و وقار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرونگا
نواز شریف کے نعرہ ” ووٹ کو عزت دو ” کو یقینی بناینگے— Shah Ghulam Qadir (@sgqadir) August 26, 2026
ذرائع نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ ن لیگ آزاد کشمیر کے متعدد دیگر سینیئر رہنما بھی بیرسٹر افتخار گیلانی کی نامزدگی پر شاہ غلام قادر کی طرح ناخوش ہیں۔ اس کے علاوہ عوامی حلقوں میں بھی اس ممکنہ فیصلے پر تنقید کی جارہی ہے کہ عام انتخابات میں اپنی نشست ہارنے کا واضح مطلب ہے کہ عوام انہیں مسترد کر چکے ہیں، اور ایک مسترد شدہ امیدوار کو پہلے مخصوص نشست پر اسمبلی میں لانا اور پھر انہی کو وزیراعظم بنانے کی کوشش کرنا عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے امیدواروں کے ساتھ زیادتی ہے۔ ٫
دوسری جانب حکومت سازی کے عمل سے واقف ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت میں ریاست کی تینوں ڈویژنز کو نمائندگی دینے پر مشاورت جاری ہے۔ میرپور ڈویژن سے اسپیکر چن لیا گیا، وزیراعظم مظفرآباد ڈویژن سے، جبکہ صدر کا انتخاب پونچھ ڈویژن سے کیے جانے کا امکان ہے جہاں امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر تاحال الیکشن نہیں ہو سکے۔
بیرسٹر افتخار گیلانی کون ہیں؟
بیرسٹر افتخار گیلانی آزاد کشمیر کی سیاست میں مسلم لیگ (ن) کے تجربہ کار رہنما ہیں۔ وہ 2011 اور 2016 میں آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 2016 کے انتخابات کے بعد انہیں آزاد کشمیر کابینہ میں وزیر تعلیم کی ذمہ داری بھی سونپی گئی تھی۔
2026 کے حالیہ عام انتخابات میں افتخار گیلانی نے ایل اے 29 مظفرآباد تھری کی نشست سے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کی حیثیت سے حصہ لیا، تاہم وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار مختار احمد عباسی سے شکست کھا گئے تھے۔
بعد ازاں مخصوص نشستوں کے انتخابات میں انہیں ٹیکنوکریٹ نشست پر مسلم لیگ (ن) کا امیدوار بنایا گیا۔ 24 اگست کو ہونے والے انتخاب میں افتخار گیلانی نے 26 ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی جبکہ پیپلز پارٹی کے امیدوار صاحبزادہ ذوالفقار علی کو 12 ووٹ ملے۔
یوں عام انتخابات میں شکست کے چند ہفتے بعد افتخار گیلانی دوبارہ قانون ساز اسمبلی کا حصہ بنے اور اب انہیں مسلم لیگ (ن) کی جانب سے وزارت عظمیٰ کا امیدوار نامزد کردیا گیا ہے۔تاہم وزیراعظم کا انتخاب حتمی طور پر آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کرے گی جس کا اجلاس 28 اگست کو طلب کیا گیا ہے۔


