آزاد جموں و کشمیر الیکشن کمیشن نے وزیر اعظم فیصل ممتاز راٹھور کے آبائی حلقے ایل اے 17 حویلی کے انتخابی نتائج میں مبینہ دھاندلی اور ری کاؤنٹنگ کی درخواست پر سماعت مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا۔
مسلم لیگ (ن) کے امیدوار چودھری محسن عزیز کی جانب سے دائر ری کاؤنٹنگ درخواست پر چیف الیکشن کمشنر آزاد کشمیر کے روبرو سماعت ہوئی۔
درخواست میں فارم 24 میں مبینہ ٹمپرنگ اور انتخابی نتائج پر اعتراضات اٹھائے گئے، جبکہ فریقین کے وکلا نے دوبارہ گنتی سے متعلق اپنے دلائل پیش کیے۔
مقامی صحافی کاشف میر کے مطابق آزاد کشمیر الیکشن کمیشن نے گزشتہ روز حویلی کے انتخابی نتائج سے متعلق ریٹرننگ افسر کی جانب سے 11 اگست کو جاری کیے گئے متنازع فارم 26 کو منسوخ کردیا تھا، جبکہ فیصل راٹھور اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کیے گئے فارم 27 کو بھی جعلی قرار دیا گیا تھا۔
الیکشن کمیشن نے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار چودھری محسن عزیز کی درخواست کو قابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے فیصل راٹھور اور چودھری محسن عزیز کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا تھا۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی میرپور ڈویژن میں ہونے والے انتخابات کے پہلے مرحلے سے ہی پاکستان مسلم لیگ (ن) پر دھاندلی کے الزامات عائد کرتی رہی ہے جبکہ اس ضمن میں الیکشن کمیشن کو تحریری شکایات بھی جمع کرائی گئی ہیں۔
تاہم لیگی رہنما بشمول رانا ثنا اللہ، عطا تارڑ اور طارق فضل چوہدری میڈیا کو دیے گئے بیانات میں انتخابات کو مکمل طور پر “فری، فیئر، اور شفاف قرار دیتے رہے ہیں۔
اب حلقہ ایل اے 17 میں مسلم لیگ (ن) کے اپنے امیدوار نے پیپلز پارٹی کے امیدوار اور وزیر اعظم فیصل راٹھور پر انتخابی دھاندلی کے سنگین الزامات لگاتے ہوئے الیکشن کمیشن سے رجوع کیا ہے تاہم مسلم لیگ (ن) کی جانب سے اس معاملے میں تاحال کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔
یاد رہے کہ تین مرحلوں میں ہونے والے انتخابات میں اب تک ن لیگ نے سب سے زیادہ نسشتیں حاصل کی ہیں جبکہ پیپلز پارٹی دوسرے نمبر پر ہے۔
