اسلام آباد، پاکستان پیپلزپارٹی کی نائب صدر شیری رحمان اور پیپلزپارٹی رہنما نیئر بخاری نے پمزاسپتال کی نرسری میں 14 نومولود بچوں کے جاں بحق ہونے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی شفاف اور مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
پمزکے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیری رحمان نے کہا کہ بچوں کو کھونے والے والدین کا غم الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا، نومولود بچوں کی جانوں کا ضائع ہونا انتہائی تکلیف دہ اورناقابلِ برداشت ہے۔
شیری رحمان نے کہا کہ پمزاسپتال کی نرسری میں پیش آنے والے ایسے المناک واقعے کو محض حادثہ قرار دے کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
نومولود بچوں کی حفاظت کے لیے مقررہ حفاظتی انتظامات کہاں تھے، اس سوال کا جواب ملنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے سانحات کی روک تھام کے لیے احتساب ناگزیر ہے اور اس واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر ذمہ داروں کا تعین کیا جانا چاہیے۔
نائب صدرپیپلزپارٹی نے کہا کہ آصفہ بھٹو نے بھی پمز واقعے پرافسوس کا اظہار کیا ہے، ہمیں تاحال کئی اہم سوالات کے جوابات نہیں ملے، وزیراعظم نے سیکریٹری صحت کو معطل کردیا ہے تاہم صرف ایک افسر کی معطلی سے معاملہ ختم نہیں ہونا چاہیے۔
شیری رحمان نے سوال اٹھایا کہ پمز کا گیٹ کیوں بند تھا اور ڈاکٹرز کہاں تھے؟ انہوں نے کہا کہ ان سوالات کے جوابات سامنے آنا ضروری ہیں تاکہ اصل حقائق قوم کے سامنے آسکیں۔
شیری رحمان نے واضح کیا کہ پیپلزپارٹی سانحہ پمز پر سیاست نہیں کر رہی، تاہم یہ ضرور پوچھنا چاہتی ہے کہ اسپتال کس طرح چل رہے ہیں اور وہاں نومولود بچوں کی حفاظت کے لیے ضروری انتظامات کیوں مؤثر ثابت نہیں ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ انسانی جانوں کے تحفظ میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جا سکتی اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔
اس موقع پر پیپلزپارٹی رہنما نیئر بخاری نے بھی پمز سانحے پر شدید تشویش کا اظہار کیا، انہوں نے سوال کیا کہ پمز کا ایمرجنسی گیٹ کیوں بند تھا؟
ان کا کہنا تھا کہ نومولود بچوں کی جانیں گئیں، یہ سراسر کوتاہی ہے، اس لیے واقعے کی شفاف انکوائری ہونی چاہیے تاکہ ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔
نیئر بخاری نے کہا کہ وفاقی وزیر کو بھی جوابدہ ہونا چاہیے، وزارت صحت کو پمزانتظامیہ کی کارکردگی پر نظر رکھنی چاہیے تھی۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں گورننس چلتی نظر نہیں آ رہی۔ اگر اسلام آباد میں صرف دو اسپتال بھی مناسب طریقے سے نہیں سنبھالے جا سکتے تو یہ انتظامی کارکردگی پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔
پیپلزپارٹی رہنما نے کہا کہ صرف سیکریٹری صحت کی معطلی کافی نہیں، ذمہ دار وفاقی وزیر ہوں، پمزانتظامیہ ہو یا کوئی اور متعلقہ فرد، ہرذمہ دارکا احتساب ضروری ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ تحقیقات شفاف انداز میں مکمل کی جائیں، حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں اورغفلت کے مرتکب افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔



