اسلام آباد پمز اسپتال میں آتشزدگی سے 14 نومولود بچوں کی ہلاکت پر مختلف سیاسی رہنماؤں کا ردعمل سامنے آیا ہے، فواد چودھری نے وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔
سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے پمز اسپتال کے بچوں کے وارڈ میں آتشزدگی کے واقعے میں بچوں کی ہلاکت پر وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔
بچوں کی وارڈ میں آتشزدگی سے بچوں کی جان جانے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے وزیر صحت مصطفیٰ کمال کو استعفی دیں، اتنے بڑے اور اندوہناک واقعہ کی ذمہ دار انتظامیہ کے خلاف سخت کاروائ ہونی چاھئے، صرف معطلی اور ٹرانسفر کوئ سزا نہیں ہو گی۔۔ وفاقی وزیر اس انتہائ دردناک واقعہ پر بر الذمہ قرار… https://t.co/9eTDzVW8J0
— Ch Fawad Hussain (@fawadchaudhry) August 26, 2026
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے بیان میں فواد چوہدری نے کہا کہ وفاقی وزیر صحت کو بچوں کی جانوں کے ضیاع کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مستعفی ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اتنے بڑے اور افسوسناک واقعے کی ذمہ دار انتظامیہ کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے، محض معطلی اور تبادلہ کافی سزا نہیں ہوگی۔
فواد چوہدری نے کہا کہ اس انتہائی افسوسناک واقعے پر وفاقی وزیر صحت کو بری الذمہ قرار نہیں دیا جا سکتا، ذمہ داران کا احتساب ضروری ہے۔
پمز آتشزدگی میں 14 معصوم بچوں کی ہلاکت پر دل گرفتہ ہوں، نواز شریف
مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے پمز ہسپتال میں آتشزدگی کے افسوسناک واقعے میں 14 معصوم بچوں کے جاں بحق ہونے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
اپنے بیان میں نواز شریف نے کہا کہ 14 معصوم بچوں کی آتشزدگی کے المناک واقعے میں جانوں کے ضیاع کی خبر سن کر دل انتہائی رنجیدہ ہے۔ انہوں نے غمزدہ والدین کے دکھ میں برابر کے شریک ہونے کا اظہار کیا۔
پمز ہسپتال میں آتشزدگی کے سانحے میں 14 معصوم بچوں کے جاں بحق ہونے کی خبر سن کر دل رنجیدہ ہے۔ میں غمزدہ والدین کے غم میں برابر کا شریک ہوں۔ اللہ تعالیٰ لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ حکومت کو ذمہ داروں کا تعین کر کے سخت کارروائی کرنی چاہئے اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کو…
— Nawaz Sharif (@NawazSharifMNS) August 26, 2026
نواز شریف نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ متاثرہ خاندانوں کو صبر اور حوصلہ عطا فرمائے۔
انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ واقعے کے ذمہ داران کا تعین کرکے ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور مستقبل میں ایسے دلخراش واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر حفاظتی اقدامات یقینی بنائے جائیں۔
شیریں مزاری کا حکومتی غفلت اور بدانتظامی پر اظہار تشویش
سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری نے پمز نرسری میں آتشزدگی کے افسوسناک واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں ایسے واقعات کے ذمہ داروں کا احتساب شاذ و نادر ہی ہوتا ہے، ماضی کے ٹرین حادثات اس کی مثال ہیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے بیان میں شیریں مزاری نے کہا کہ پمز اور چلڈرن اسپتال مبینہ طور پر شدید غفلت اور بدانتظامی کا شکار ہیں، جو انتہائی تشویشناک صورتحال ہے۔
Absolutely but sadly here that rarely happens – recall past train accidents. But this is so horrifying – PIMS & the Children’s Hospital are suffering from sheer neglect & disarray. There was a very active Friends of Children’s Hospital group that helped fill the void created by… https://t.co/cyAx59sGNc
— Shireen Mazari (@ShireenMazari1) August 26, 2026
شیریں مزاری نے کہا کہ ماضی میں Friends of Children’s Hospital کے نام سے ایک انتہائی فعال گروپ موجود تھا، جس نے حکومت کی جانب سے فنڈز کی عدم فراہمی کے باعث پیدا ہونے والے خلا کو پُر کرنے میں مدد کی۔ تاہم، انہیں معلوم نہیں کہ یہ گروپ اب بھی فعال ہے یا نہیں۔
انہوں نے کہا کہ پمز نرسری میں پیش آنے والا واقعہ انتہائی ہولناک ہے اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اسپتالوں میں انتظامی اور حفاظتی نظام کو بہتر بنانا ضروری ہے۔
نومولود بچوں کے جاں بحق ہونے پر علی محمد خان کا اظہار افسوس، غیرجانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما علی محمد خان نے پمز اسپتال کی گائنی وارڈ میں بچوں کی نرسری میں آتشزدگی کے واقعے میں نومولود بچوں کے جاں بحق ہونے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے بیان میں علی محمد خان نے کہا کہ پمز میں نرسری کے آتشزدگی کے واقعے میں نومولود بچوں کے جاں بحق ہونے کی خبر انتہائی افسوسناک ہے۔ انہوں نے انا للہ و انا الیہ راجعون پڑھتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کیا۔
Sad to know about the loss of infant babies in the PIMS fire incident in the children nursery in gynaecology ward.
انا للہ و انا الیہ راجعون
Impartial enquiry must be conducted into the incident. A very very sad occurrence indeed !
— Ali Muhammad Khan (@Ali_MuhammadPTI) August 26, 2026
علی محمد خان نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں تاکہ آتشزدگی کے اس افسوسناک واقعے کے تمام حقائق سامنے آسکیں۔
انہوں نے واقعے کو انتہائی افسوسناک اور دل دہلا دینے والا سانحہ قرار دیا۔
نومولود بچوں کے جاں بحق ہونے پر شرمیلا فاروقی کا اظہارِ افسوس، فوری احتساب کا مطالبہ
پیپلز پارٹی کی رہنما شرمیلا فاروقی نے پمز اسپتال میں آتشزدگی کے نتیجے میں نومولود بچوں کی ہلاکت پر شدید دکھ اور غم کا اظہار کرتے ہوئے فوری احتساب کا مطالبہ کیا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے بیان میں شرمیلا فاروقی نے کہا کہ پمز میں آتشزدگی کے باعث نومولود بچوں کی جانوں کا ضیاع ایسا درد ہے جسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا، یہ صورتحال ناقابلِ برداشت ہے۔
انہوں نے واقعے کو محض غفلت سے بڑھ کر قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ شرمناک اور ناقابلِ معافی ہے، ذمہ داران کا فوری احتساب ہونا چاہیے۔
Newborn babies losing their lives in a fire at PIMS is pain beyond words. Absolutely unbearable.
This is beyond negligence. It is shameful and unforgivable. Accountability must be immediate. Heads must roll. Please do not hide behind another inquiry committee. Enough of…
— Dr. Sharmila Sahibah Faruqui (Phd) s.i (@sharmilafaruqi) August 26, 2026
شرمیلا فاروقی نے مطالبہ کیا کہ ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور انہیں کسی صورت جواب دہی سے بچنے نہ دیا جائے۔
اسلام آباد کے پمز اسپتال کی نرسری میں آگ لگنے سے 14 نومولود بچے جاں بحق
انہوں نے مزید کہا کہ واقعے پر ایک اور انکوائری کمیٹی بنا کر معاملے کو دبانے کی کوشش نہیں ہونی چاہیے، اب صرف اظہارِ افسوس اور تعزیتی بیانات کافی نہیں، ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
واضح رہے کہ پمز اسپتال میں بچوں کی نرسری میں آگ لگنے سے چودہ نومولود بچے جاں بحق ہو گئے ہیں۔
واقعے کو محض حادثہ قرار دے کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، شیری رحمان
پاکستان پیپلز پارٹی کی نائب صدر شیری رحمان نے پمز اسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نومولود بچوں کے جاں بحق ہونے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
اپنے بیان میں شیری رحمان نے کہا کہ بچوں کو کھونے والے والدین کا غم الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا، نومولود بچوں کی جانوں کا ضیاع انتہائی تکلیف دہ اور ناقابلِ برداشت ہے۔
شیری رحمان نے کہا کہ پمز اسپتال کی نرسری میں پیش آنے والے ایسے دلخراش واقعے کو محض حادثہ قرار دے کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ سوال یہ ہے کہ نومولود بچوں کی حفاظت کے لیے مقررہ حفاظتی انتظامات کہاں تھے؟
نائب صدر پیپلز پارٹی نے کہا کہ اگر کسی قسم کی کوتاہی ثابت ہوتی ہے تو ذمہ داروں کو جواب دہی سے مستثنیٰ نہیں ہونا چاہیے۔ نومولود بچوں کے ضیاع کا کوئی ازالہ ممکن نہیں، تاہم ایسے سانحات کی روک تھام کے لیے مؤثر احتساب ناگزیر ہے۔
