چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے مطالبہ کیا ہے کہ عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کے حوالے سے توہین عدالت کرنے والوں کو سزا دی جائے۔
سپریم کورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کوئی ڈیل نہیں کریں گے، بانی نے ایک منٹ بھی اسپتال نہیں رہنا، صرف ٹیسٹ کرانے ہیں، ڈیل کرنا ہوتی تو تین سال قید نہ کاٹتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کو اسپتال منتقل کیا جائے، ہم نے اس پر سیاست نہیں کرنی، انہیں اسپتال منتقل کرنا ان کا آئینی حق ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کا حکم نامہ قابل عمل ہے، خدارا بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی صحت کو سنجیدہ لیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس سے ملاقات کے لیے آئے تھے لیکن مصروفیت کی وجہ سے ملاقات نہ ہو سکی، رجسٹرار سپریم کورٹ سے میری اور لطیف کھوسہ کی ملاقات ہوئی، رجسٹرار نے بینچ کی تشکیل کے حوالے سے یقین دہانی کرائی ہے، آن لائن بھی بینچ کی تشکیل ہو سکتی ہے، امید ہے سپریم کورٹ جلد سماعت مقرر کرے گی۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ سہیل آفریدی کا بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق بیان درست ہے، جس نے بھی روکا سہیل آفریدی نے ان سے متعلق بات کی ہے، سہیل آفریدی کے ایک جملے کو لے کر اصل مدعا سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
یرسٹر گوہر نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کسی کے قریبی نہیں، وہ 4 کروڑ عوام کے چیف ایگزیکٹو ہیں، سہیل آفریدی بانی کے منتخب کردہ اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ ہیں۔
قبل ازیں بیرسٹر گوہر نے نورین نیازی کی عمران خان سے ہونے والی ملاقات کے بعد شیر افضل مروت کی باتوں کی تردید کر دی۔
ایک انٹرویو میں رکن قومی اسمبلی شیر افضل خان مروت نے دعویٰ کیا کہ عمران خان نے اپنی بہن علیمہ خان کے حوالے سے سخت پیغام دیا ہے جس کے بعد وہ گزشتہ تین روز سے منظر عام سے غائب ہیں۔ جس پر بیرسٹر گوہر نے شیر افضل مروت کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے اسے من گھڑت قرار دیا۔



