صومالیہ کے ساحل کے قریب ہائی جیک کیے گئے آئل ٹینکر ایم ٹی آنر 25 کی بازیابی کے دوران جاں بحق ہونے والے 3 پاکستانیوں کی میتیں اور 4 زخمی پاکستانی عملے کے ارکان کراچی پہنچ گئے۔
دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان کے سفیروں نے چاروں زخمی پاکستانیوں اور تینوں میتوں کو ادیس ابابا سے روانہ کیا، جو ایتھوپین ایئرلائنز کی پرواز ای ٹی 694 کے ذریعے کراچی پہنچے۔
کراچی ایئرپورٹ پہنچنے والے زخمی پاکستانیوں میں عثمان غنی، عقیل خان، امین بن شمس اور یاسر خان شامل ہیں، جبکہ جاں بحق ہونے والوں میں رفیع اللہ خان، سید کاشف عمر اور محمود احمد انصاری شامل ہیں۔
Pakistan’s Ambassadors to Djibouti and Ethiopia saw off the four injured Pakistani crew members of MT Honour 25, Usman Ghani, Aqeel Khan, Ameen bin Shams and Yasir Khan, along with the mortal remains of Rafi Ullah Khan, Syed Kashif Umer and Mahmood Ahmad Ansari, from Addis Ababa.
They are arriving in Karachi today aboard Ethiopian Airlines flight ET 694.
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) October 4, 2026
جاں بحق پاکستانیوں کی میتیں ایئرپورٹ کے کارگو ٹرمینل جبکہ زخمی عملے کے ارکان کو جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ٹرمینل سے منتقل کیا گیا۔ گورنر سندھ نہال ہاشمی، صوبائی وزیر ناصر حسین شاہ اور ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار بھی زخمیوں اور میتوں کو وصول کرنے کے لیے ایئرپورٹ پہنچے، جہاں متاثرہ خاندانوں کے افراد بھی موجود تھے۔
ایم ٹی آنر 25 کی بازیابی
ایم ٹی آنر 25 پر 10 پاکستانی شہریوں سمیت مختلف ممالک کے عملے کے ارکان سوار تھے۔ آئل ٹینکر کو اپریل میں صومالی قزاقوں نے ہائی جیک کرلیا تھا۔ اور تقریباً 5 ماہ تک عملہ یرغمال رہا، اس دوران تاوان کی ادائیگی کے لیے مذاکرات میں کوئی نمایاں پیش رفت نہ ہوسکی۔
یرغمال عملے نے متعدد ویڈیو اور آڈیو پیغامات کے ذریعے مدد کی اپیل کی اور خوراک، صاف پانی اور ادویات کی قلت سے بھی آگاہ کیا تھا۔
29 ستمبر کو پنٹ لینڈ میری ٹائم پولیس نے دعویٰ کیا کہ بندر بیلا کے علاقے میں کارروائی کرکے ایم ٹی آنر 25 کو قزاقوں سے بازیاب کرا لیا گیا ہے۔ اور دفتر خارجہ نے تصدیق کی تھی کہ کارروائی کے دوران 5 افراد ہلاک ہوئے، جن میں 3 پاکستانی شامل تھے، جبکہ 3 پاکستانی زخمی ہوئے۔ تاہم ہلاکتوں اور زخمیوں کے حالات کے حوالے سے مختلف دعوے سامنے آئے۔
پنٹ لینڈ حکام کے مطابق کارروائی جہاز کو قزاقوں سے بازیاب کرانے کے لیے کی گئی، جبکہ انصار برنی ٹرسٹ کی وکیل قرۃ العین کے مطابق قزاقوں نے کارروائی کے دوران یرغمالیوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کیا اور فائرنگ میں 3 پاکستانی، ایک بھارتی اور ایک میانمار کا شہری مارا گیا۔
قرۃ العین کے مطابق قزاقوں نے ابتدائی 30 لاکھ ڈالر کے تاوان کا مطالبہ کم کرکے 10 لاکھ ڈالر کردیا تھا، تاہم اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔


