پاکستان اسپیس اینڈ اپر ایٹموسفیئر ریسرچ کمیشن (سپارکو) نے پاکستان کی پہلی چاند گاڑی کے سرکاری نام کا اعلان کردیا۔
سپارکو کے مطابق پاکستان کے پہلے قمری روور کا نام ’’جناح-1‘‘ رکھا گیا ہے، نام کا انتخاب ملک گیرمقابلے میں موصول ہونے والی تجاویزکے جامع جائزے کے بعد جیوری نے کیا۔
سپارکو کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق چاند گاڑی کے نام کیلئے ملک کے مختلف حصوں سے 4 ہزار سے زائد تجاویزموصول ہوئیں، جوپاکستانی عوام کی خلائی تحقیق اور ملک کے خلائی سفرمیں بھرپوردلچسپی کی عکاسی کرتی ہیں۔
جیوری نے تمام تجاویز کا جائزہ لینے کے بعد ’’جناح-1‘‘ نام منتخب کیا، جو پاکستان کے بانی قائداعظم محمد علی جناح کو خراج عقیدت پیش کرتا ہے۔
سپارکو کے مطابق ’’جناح-1‘‘ نام قائداعظم کے ترقی پسند، مستقبل شناس اورجدید پاکستان کے وژن کی بھی عکاسی کرتا ہے۔
مجموعی طور پر 7 شرکاء نے یہی نام تجویز کیا تھا، جس کے بعد فاتح کے منصفانہ انتخاب کے لیے خصوصی تقریب میں قرعہ اندازی کی گئی، قرعہ اندازی میں بہاول نگر سے تعلق رکھنے والے 17 سالہ طیب کریم کو فاتح قرار دیا گیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین سپارکو محمد یوسف خان نے مقابلے میں شہریوں کی بھرپور شرکت کو سراہا اور پہلے پاکستانی قمری روور کے نام کی قومی اہمیت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ ’’جناح-1‘‘ محض ایک نام نہیں بلکہ لچک، عزم اور ترقی کی جستجو کی علامت ہے، پہلے قمری روور کا نام قائداعظم کے نام پر رکھنا دنیا کے سامنے اس عزم کا اظہار ہے کہ پاکستان خلاء سمیت نئے افق میں اپنے ورثے، محنت اور قیادت کی روایت کو آگے بڑھانے کے لیے تیار ہے۔
سپارکو کے مطابق پاکستان کی پہلی چاند گاڑی ’’جناح-1‘‘ 2029 میں چین کے چانگ ای-8 مشن کے ذریعے چاند کے جنوبی قطب کی جانب روانہ ہوگی، مقامی طور پر تیار کردہ یہ روور جدید سائنسی آلات سے لیس ہوگا اور چاند پر اہم سائنسی تحقیق کرے گا۔
نایاب سورج گرہن 27 سال بعد آج دیکھا جائے گا
’’جناح-1‘‘ قمری پلازما اور تابکاری کا مطالعہ کرنے کے علاوہ چاند کی سطح کے جغرافیائی خدوخال کا نقشہ تیار کرے گا۔
روور مستقبل میں قمری تحقیق اور چاند پرانسانوں کی پائیدار موجودگی کے امکانات سے متعلق اہم تجربات بھی انجام دے گا، یہ منصوبہ پاکستان کے خلائی تحقیق کے سفر میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔
