امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے فوجی اخبار ’اسٹارز اینڈ اسٹرائپس‘ کے ایڈیٹر ان چیف ایرک سلاون، پبلشر میکس لیڈرر اور مشرق وسطیٰ کی رپورٹر لارا کورٹے کو برطرف کر دیا ہے۔
تینوں کو برطرفی کے نوٹس میں ’’نافرمانی‘‘ کو وجہ قرار دیا گیا، انہیں فیصلے کے خلاف اپیل کے لیے پانچ دن کی مہلت بھی دی گئی ہے۔
برطرفیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب اخبار کی انتظامیہ اور صحافتی عملے نے ادارتی پالیسی میں پینٹاگون کی ممکنہ مداخلت اور سنسرشپ کے خلاف کھل کر اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔
ایڈیٹر ان چیف ایرک سلاون کے مطابق انہیں ایک انٹرویو میں یہ مؤقف اختیار کرنے پر ’’نافرمانی‘‘ کا مرتکب قرار دیا گیا کہ فوجیوں کے لیے خبروں پر کسی بھی قسم کی فرضی یا ممکنہ سنسرشپ ناقابل قبول ہو گی۔
سلاون نے کہا کہ ’اسٹارز اینڈ اسٹرائپس‘ کو قانون اور محکمہ دفاع کی اپنی پالیسیوں کے مطابق ادارتی طور پر آزاد رہنا چاہیے۔ مشرق وسطیٰ کی رپورٹر لارا کورٹے نے بھی واضح کیا کہ وہ پینٹاگون یا کسی حکومتی شخصیت کی نہیں بلکہ ’اسٹارز اینڈ اسٹرائپس‘ اور اس کے قارئین کی نمائندہ صحافی ہیں۔
The editor-in-chief of Stars and Stripes says the Pentagon fired him, along with the military newspaper’s publisher and a reporter.
Erik Slavin told The Associated Press on Friday that he was dismissed for insubordination after saying in an interview that any form of censorship… pic.twitter.com/dsHNaWMCFx
— PBS News (@NewsHour) August 22, 2026
1861 میں امریکی خانہ جنگی کے دوران قائم ہونے والا ’اسٹارز اینڈ اسٹرائپس‘ امریکی فوجیوں کے لیے ایک اہم خبر رساں ادارہ ہے۔ اگرچہ اسے پینٹاگون سے جزوی مالی معاونت حاصل ہے، تاہم اسے طویل عرصے سے ادارتی آزادی حاصل رہی ہے۔ حالیہ مہینوں میں پینٹاگون کی جانب سے اخبار کے کردار اور ادارتی پالیسی پر دباؤ کے باعث یہ آزادی ایک اہم تنازع بن گئی ہے۔
پبلشر میکس لیڈرر نے برطرفی سے چند روز قبل ستمبر کے آخر میں ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تھا۔ رپورٹس کے مطابق وہ پینٹاگون کی جانب سے اخبار میں ایک نئے ڈپٹی پبلشر کی تعیناتی سمیت بعض فیصلوں پر اختلاف رکھتے تھے۔
’اسٹارز اینڈ اسٹرائپس‘ نے حالیہ عرصے میں امریکی فوج کو درپیش مختلف مسائل پر رپورٹس شائع کی تھیں، جن میں ایران کے خلاف جنگ کے دوران فوجیوں کے مسائل، کمزور مورال، اسلحے کی قلت اور طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن پر طویل تعیناتی کے دوران اہلکاروں کو درپیش مشکلات شامل ہیں۔ اخبار کی ان رپورٹس نے پینٹاگون کی قیادت کے ساتھ پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید نمایاں کیا۔
امریکی صحافتی تنظیموں نے بھی برطرفیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ نیشنل پریس کلب کے صدر مارک شوف جونیئر نے سلاون کی برطرفی کو پینٹاگون کی جانب سے فوج سے متعلق کوریج کو کنٹرول کرنے کی تشویشناک کوشش قرار دیتے ہوئے فیصلے پر نظرثانی کا مطالبہ کیا۔
پینٹاگون کے ترجمانوں کی جانب سے برطرفیوں کی تفصیلی وجوہات پر فوری طور پر کوئی واضح ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم یہ اقدام امریکی حکومت اور میڈیا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں سامنے آیا ہے اور اس نے فوجی صحافت کی آزادی اور حکومتی اداروں کی جانب سے ادارتی معاملات میں مداخلت کے خدشات کو ایک بار پھر اجاگر کر دیا ہے۔



