اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ ڈاکٹر آسمہ کی میت کی واپسی کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں گے۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کوہ پیما ڈاکٹر آسمہ کی اسپانتک ماؤنٹین سے میت کی واپسی سے متعلق بیان میں کہا کہ امید ہے ریسکیو ٹیم بلند پہاڑی علاقے میں میت واپس لانے کے لیے کیمپ تھری تک پہنچے گی۔
انہوں نے کہا کہ ریسکیو ٹیم کیمپ تھری کے قریب پہنچ گئی تھی تاہم شدید موسم، برف باری اور تیز ہواؤں کے باعث ٹیم کو واپس کیمپ ٹو آنا پڑا۔
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ میت کی واپسی کے لیے ہیلی کاپٹر کے استعمال کی اجازت دے دی گئی ہے جبکہ گلگت بلتستان حکومت اور ایف سی این اے کے درمیان رابطہ کاری مکمل ہے۔
انہوں نے کہا کہ متبادل انتظامات بھی مکمل ہیں اور ان حالات میں جو کچھ ممکن ہوا، ڈاکٹر آسمہ کی میت کی واپسی کے لیے کیا جائے گا۔
Update on retrieval of Dr Asma’s body from Spantik Mountain in the Karakoram range:
High Altitude Porters were expected to reach Camp-3 for retrieval of the body of Dr.Asma and bring it down to base camp by tomorrow.
The rescue team reached almost near Camp 3, but due to… https://t.co/ptpuCOcFQp
— Attaullah Tarar (@TararAttaullah) August 23, 2026
واضح رہے کہ پاکستانی کوہ پیما ڈاکٹر اسما مشتاق جمعرات کو اسپانتک، جسے گولڈن پیک بھی کہا جاتا ہے، کی چوٹی سے واپسی کے دوران تقریباً 6250 میٹر کی بلندی پر ہائی ایلٹیٹیوڈ سکنیس کے باعث جان کی بازی ہار گئی تھیں۔
ڈاکٹر اسما مشتاق کا تعلق لاہور سے تھا اور وہ برطانیہ میں زچگی اور امراضِ نسواں کی ڈاکٹر کے طور پر کام کر رہی تھیں۔ وہ کوہ پیمائی اور سفر کی شوقین تھیں اور اپنی مہمات کو سوشل میڈیا پر بھی دستاویزی شکل دیتی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: کابینہ کمیٹی برائے نجکاری نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی تنظیم نو کے منصوبے کی منظوری دیدی
الپائن کلب آف پاکستان کے جنرل سیکرٹری ایاز شگری نے ہفتے کو جاری بیان میں بتایا تھا کہ مختلف ٹیموں سے تعلق رکھنے والے کوہ پیما ڈاکٹر اسما کی لاش نکالنے کے لیے آپریشن میں شریک ہیں اور یہ کارروائی ان کی اپنی ایکسپیڈیشن کمپنی کی نگرانی میں متعلقہ حکومتی اداروں اور الپائن کلب کے تعاون سے جاری ہے۔
