لاہور پولیس نے شاد باغ میں ایک خاتون کو اغوا کے بعد اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے، تشدد کرنے اور حبسِ بے جا میں رکھنے کے واقعے میں ملوث مرکزی ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔
ترجمان ڈی آئی جی آپریشنز لاہور کے مطابق گرفتار ملزمان کو مزید تفتیش کیلئے انویسٹی گیشن ونگ کے حوالے کر دیا گیا۔
متاثرہ خاتون نے 15 پر پولیس کو واقعے کی اطلاع دی تھی جس پر درج ایف آئی آر کے مطابق ملزمان نے انہیں گجرپورہ سے گاڑی میں بٹھایا۔
خاتون کا کہنا ہے کہ وہ ملزمان کو جانتی تھیں، اس لیے گاڑی میں بیٹھ گئیں، تاہم ملزمان انہیں نشہ آور جوس پلا کر نامعلوم جگہ پر ایک کمرے میں لے گئے، جہاں ان کے 3 اور ساتھی پہلے سے موجود تھے۔
شاد باغ پولیس کی کارروائی، خاتون سے مبینہ زیادتی کے مقدمے میں 2 مرکزی ملزمان گرفتار،
خاتون کی درخواست پر شاد باغ پولیس نے فوری مقدمہ درج کرتے ہوئے ملزمان کی گرفتاری کیلئے کارروائی شروع کی۔ پولیس ٹیموں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے 2 مرکزی ملزمان کو گرفتار کر لیا۔
گرفتار ملزمان کو… pic.twitter.com/Z8x0QKuhrB— Lahore Police Official (@Lahorepoliceops) August 22, 2026
خاتون نے الزام لگایا کہ ان 5 ملزمان نے ان کو نیم بے ہوشی کی حالت میں زیادتی کا نشانہ بنایا اور شور کرنے پر بیلٹ اور ڈنڈے سے تششد کیا۔ ایف آئی آر میں مزید کہا گیا کہ ملزمان نے اگلی صبح بھی خاتون کے ساتھ زیادتی کی اور شام کو گاڑی میں بٹھا کر جنگل اسٹیڈیم شاد باغ کے پاس اتار کر دھمکیاں دیتے ہوئے فرار ہو گئے۔
خاتون نے ملزمان پر انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے کا الزام بھی لگایا۔
پولیس کے مطابق مرکزی ملزمان کے علاوہ مقدمہ میں نامزد دیگر ملزمان کی گرفتاری کیلئے چھاپے جاری ہیں۔ واقعے کی تمام پہلوؤں سے تفتیش جاری ہے اور شواہد کی بنیاد پر مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔
دوسری جانب ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران نے اقبال ٹاؤن ڈویژن کی اینٹی کرائم میٹنگ کے دوران خواتین کے احترام اور ان کے مسائل کے حل کے حوالے سے سخت احکامات جاری کیے ہیں۔
یہ احکامات گزشتہ دنوں لاہور میں پیش آنے والے دو متنازع واقعات کے پس منظر میں سامنے آئے ہیں جن میں لاہور کے 2 مختلف تھانے زیر بحث ہیں۔
پہلا واقعہ تھانہ غازی آباد سے متعلق ہے جہاں ایک معذور لڑکی سے مبینہ زیادتی کے واقعے کے بعد پولیس حکام نے تھانے کا سارا عملہ معطل کر دیا تھا۔ جبکہ دوسرے واقعے میں 17 اور 22 سال کی دو خواتین کی لاہور کے تھانہ ٹاؤن شپ میں دوران حراست پراسرار طور پر موت واقع ہو گئی تھی۔
میٹنگ کے دوران ڈی آئی جی آپریشنز کا کہنا تھا کہ “کوئی بھی پولیس افسر خاتون شہری کو مغرب کے بعد شنوائی یا تفتیش کی غرض سے تھانے ہرگز نہ بلائے۔ خواتین کی سہولت اور شکایات کے ازالے کے لیے لیڈیز پولیس اہلکار 24 گھنٹے تھانوں میں موجود رہیں گی۔”



