ٹنڈوالہ یار، شیخوپورہ(وقاص رئیس ، عدنان غفار): بچوں کے خلاف جرائم کے 2 الگ الگ واقعات میں پولیس نے بچیوں کو زیادتی کا نشانہ بنانے والے ملزمان کو سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا۔
پہلا اندوہناک واقعہ ٹنڈوالہ یار میں پیش آیا جس میں 2 ملزمان کو 10 سالہ بچی کو اغوا کر کے ریپ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔
پولیس کے مطابق ٹنڈو الہ یار میں گزشتہ شب لاپتا ہونے والی 10 سالہ بچی شہباز کالونی کے ایک مکان سے بازیاب کرالی گئی، پولیس کا کہنا ہے کہ بچی کو مبینہ طور پر نشہ آور چیز کھلا کر زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔
پولیس کے مطابق اہل محلہ نے مکان سے بچی کی چیخ وپکار کی آوازیں سن کر پولیس کو اطلاع دی، جس پر پولیس فوری طور پر موقع پر پہنچی اور بچی کو بازیاب کرا لیا۔
اہل محلہ کا کہنا ہے کہ ملزمان بچی کو کسی دوسری جگہ منتقل کرنے کی کوشش کررہے تھے تاہم بچی کے ہوش میں آنے کے بعد چیخ وپکار سے اہل محلہ جمع ہوگئے۔
پولیس نے مکان میں موجود دو نوجوانوں کو گرفتار کرکے مزید تفتیش کا آغاز کر دیا ہے، ایس ایس پی ٹنڈو الہ یار سلیم شاہ کے مطابق واقعے میں ملوث ملزمان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
وومن تھانے میں بچی کے والد کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جس میں 2 ملزمان نامزد جبکہ ایک نامعلوم خاتون بھی شامل کی گئی ہے۔ مقدمہ اغواء، تشدد اور زیادتی کی دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے۔
شیخوپورہ میں 11 سالہ بچی کا مبینہ ریپ
دوسری جانب شیخوپورہ کے نواحی علاقے میں مبینہ طور پر 11 سالہ بچی سے زیادتی کی کوشش کی گئی ہے، بچی کے والد نے پولیس کو دی گئی درخواست میں بتایا کہ 15 اگست کو تقریبا دن 2 بجےمیری بیٹی گھر سے اپنے تایا ابو کے گھر گئی تھی، کافی دیر گزرنے کے باوجود گھر نہ آئی۔
اس کے والد نے درخواست میں کہا کہ جب میں اپنے بھائی کے گھر اس کا پتہ کرنے گیا تو بھائی نے بتایا کہ وہ تو ان کے گھر آئی ہی نہیں ہے، جس پر میں نے اپنے بھائی ارشد علی اور ہمسائے حسنین احمد کے ہمراہ اپنی بیٹی کو ڈھونڈنا شروع کر دیا۔
اس موقع پر کھیتوں میں کام کرتے ہوئے شخص نے بتایا کہ ادھر ایک آدمی ایک بچی کو جوار کی فصل کی طرف لے کر جارہا تھا جس پر ہم لوگوں نے جوار کی فصل میں اسے ڈھونڈ نا شروع کر دیا، تلاش کرنے پر ہم موقع پر پہنچ گئے مگر ملزم ہمیں دیکھ کر فرار ہو گیا۔
لاہور: بیوی، ساس، سسر اور سالے کو قتل کرنے کے بعد ملزم نے خودکشی کر لی
قریب جا کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ ملزم نے میری بیٹی کے ساتھ زیادتی کرنے کی کوشش کی جس پر میں نے 15 پر کال کرکے پولیس کو اطلاع دی اور پولیس کو ملزم کے بارے میں بتایا۔ بچی کے والد نے پولیس نے سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
پولیس نے ایف آئی آر درج کر کے ملزم کو گرفتار کر لیا۔
یاد رہے کہ بچوں کے حقوق پر کام کرنے والی تنظیم ‘ساحل’ کی ایک رپورٹ کے مطابق امسال جون تک پاکستان میں ایک ہزار 15 بچے زیادتی کا شکار ہوئے جن میں سے 598 کی عمریں 11 سے 15 سال کے درمیان تھیں۔
ساحل کے مطابق موجودہ سال کے پہلے 6 مہینوں میں بچوں سے زیادتی کے 80 فیصد واقعات صوبہ پنجاب میں پیش آئے۔
