لاہور کے تھانہ ہنجروال کی حدود میں 8 سالہ بچہ گٹر میں گر کر جاں بحق ہو گیا، جس پر پولیس نے گٹر کا ڈھکن ہٹانے والے افراد کو حراست میں لے لیا۔
لاہور کی ضلعی انتظامیہ نے بچے کے گٹر میں گرنے کا نوٹس لیتے ہوئے پٹواری کی مدعیت میں ذمہ داران کے خلاف ایف آئی آر کٹوائی تھی۔
پولیس کے مطابق گزشتہ روز ہنجروال کے علاقے حمزہ پارک میں ایک 8 سالہ بچہ گلی میں کھیلتے ہوئے گٹر میں گر گیا تھا۔ بچے کی شناخت حکیم اللہ کے نام سے ہوئی، اہل محلہ نے اپنے طور پر بچے کو نکالنے کی کوشش کی مگر کامیابی نہ ہوئی، ریسکیو 1122 نے آ کر مین ہول سے نکال کر اسپتال منتقل کیا، مگر بچہ جانبر نہ ہو سکا۔
غفلت کے مرتکب افراد کے خلاف درج مقدمے کے متن کے مطابق ملزمان نے کسی مجاز اتھارٹی کو اطلاع دیے بغیر اپنی مرضی سے گلی کے گٹر صاف کرا رہے تھے۔ گٹروں کے ڈھکن کھلے تھے، جس کے باعث 8 سالہ بچہ گٹر میں گر گیا، جب بچہ گرا تو ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، “ان کی اس حرکت کی وجہ سے دیر ہونے کی وجہ سے بچہ کو نکالنے میں دیر ہو گئی اور بچہ فوت ہو گیا۔”
غفلت کا مظاہرہ کر کے بچے کی موت کا سبب بننے پر ملزمان کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 322 کے تحت قتل بالسبب کا مقدمہ درج کیا گیا، جس کے بعد پولیس نے انہیں گرفتار کر لیا۔
یاد رہے کہ گزشتہ برس دسمبر میں کراچی میں تین سالہ بچے کی کھلے گٹر میں گر کر موت کے واقعے پر ملک کے تمام حصوں سے عوام کا شدید ردعمل آیا تھا جس پر نہ صرف شہر کے میئر کی جانب سے بچے کے اہلخانہ سے معافی مانگی گئی تھی بلکہ غفلت کے مرتکب متعدد سینیئر افسران کو معطل بھی کیا گیا تھا۔
واقعے کے بعد ملک کے بیشتر علاقوں میں انتظامیہ کی جانب سے کھلے گٹروں کے خلاف مہم کا آغاز ہوا تھا۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے تو گٹر کے ڈھکن چوری کرنے والوں کے بارے میں کہا تھا کہ ” انکو موقع واردات پہ لا کر گولی ماریں۔ یہ معصوم بچوں کے قاتل ھیں۔”
