پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کئی بار سابق صدور اور وزرائے اعظم کو گرفتاریوں، قید اور سزاؤں کا سامنا رہا جن میں ذوالفقار علی بھٹو، ان کی صاحبزادی بے نظیر بھٹو اور عمران خان جیسے اپنے وقت کے مقبول ترین سیاسی رہنما بھی شامل ہیں۔
گزشتہ روز سپریم کورٹ نے اڈیالہ جیل میں 3 سال سے قید سابق وزیر اعظم عمران خان کو علاج کی غرض سے 48 گھنٹوں کے اندر اسلام آباد کے نجی اسپتال شفا انٹرنیشنل منتقل کرنے کا حکم دیا، جس کے بعد ملک کے اعلیٰ سیاسی حلقوں میں قیدیوں کو دستیاب سہولتوں اور ان کے حقوق پر برسوں سے دفن بحث نے دوبارہ انگڑائی لی۔
مسلم لیگ ن کی حکومت نے نہ صرف اسپتال منتقلی کے فیصلے پر نظر ثانی اپیل دائر کی بلکہ اس کے دو وزرا نے پریس کانفرنس کر کے “قیدی کے ماضی کے رویے” اور صحت کے موجودہ مسائل پر عمران خان اور ان کی پارٹی قیادت اور کارکنوں کو کھل کر تنقید کا نشانہ بنایا۔
اسی بحث کے بیچ مختلف قیاس آرائیوں نے بھی سر اٹھایا مگر اس موضوع کو کسی اور وقت کے لیے اٹھا رکھتے ہیں۔ ابھی کے لیے ہم یہ جاننے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں کہ ماضی میں قید کا سامنا کرنے والے سابق صدور اور وزرائے اعظم کا جیل میں حال کیسا تھا۔
سابق وزیراعظم و صدر ذوالفقار علی بھٹو
ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے وزیراعظم بھی رہے اور صدر بھی۔ 1974 کے ایک قتل کے مقدمے میں انہیں لاہور ہائی کورٹ نے سزائے موت سنائی۔ سپریم کورٹ نے فروری 1979 میں تین چار کے اکثریتی فیصلے سے سزا برقرار رکھی اور اپیل مسترد ہونے کے بعد انہیں 4 اپریل 1979 کو راولپنڈی سینٹرل جیل میں پھانسی دے دی گئی۔.

یہ مقدمہ آج بھی پاکستان کے متنازع ترین سیاسی و عدالتی مقدمات میں شمار ہوتا ہے، مارچ 2024 میں سپریم کورٹ نے صدارتی ریفرنس میں رائے دی کہ بھٹو کے مقدمے میں منصفانہ ٹرائل اور قانونی تقاضوں سے متعلق سنگین نقائص موجود تھے تاہم کورٹ نے پرانا فیصلہ باقاعدہ کالعدم قرار نہیں دیا۔
بھٹو سے بستر بھی چھین لیا گیا تھا
بھٹو کو عام قیدی کی طرح نہیں بلکہ انتہائی حساس سیاسی قیدی کی حیثیت سے رکھا گیا۔ نیوریارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق راولپنڈی جیل میں جیلر نے ان کی پھانسی سے محض 8 دن قبل ان کے سیل سے تمام سہولتیں بشمول بستر بھی ہٹا لیں تھیں۔
بھٹو کا سیل صرف 7 فٹ چوڑا اور 10 فٹ لمبا تھا جس میں حکومتی دعوؤں کے مطابق ایک عارضی ٹوائلٹ بھی بنایا گیا تھا، اس کے علاوہ اس سیل میں ایک پلنگ، گدا، ایک چھوٹی میز اور کتابوں کی الماری رکھی گئی تھی۔
تاہم قید کے آخری ایام میں جیلر نے اس سیل میں قید بھٹو سے ان کا بستر، شیونگ کِٹ اور دوائیوں سمیت ہر سہولت چھین لی تھی۔
نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی قید کے حالات کو آرام دہ یا مراعات یافتہ کہنا ہر گز درست نہیں ہوگا۔ بھٹو کو راولپنڈی جیل میں ہی پھانسی دی گئی تھی۔
عالم اسلامی کی پہلی خاتون وزیراعظم بے نظیر بھٹو
بے نظیر بھٹو کو وزیراعظم بننے سے پہلے اور بعد کے مختلف ادوار میں گرفتار، نظر بند اور مقدمات کا سامنا کرنا پڑا۔ 1979 میں جب ان کے والد اور سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی تو اس وقت بھی بے نظیر اور ان کی والدہ ضاءالحق کی قید میں تھیں۔ اپریل 1979 میں گرفتاری کے بعد انھیں 6 مہینے جیل اور 6 مہینے گھر پر نظر بند رکھا گیا تھا۔
مارچ 1981 میں جب الذوالفقار تنظیم نے طیارہ اغوا کیا تو بے نظیر اور نصرت بھٹو کو دوبارہ گرفتار کیا گیا۔ اس بار بے نظیر بھٹو کو پہلے کراچی اور پھر سکھر جیل میں رکھا گیا جہاں سے وہ ستمبر 1981 میں رہا ہوئیں لیکن پھر تقریبا 3 سال تک گھر میں نظر بند رکھا گیا۔ جنوری 1984 میں انہیں طبی بنیادوں پر رہا کیا گیا اور وہ علاج کے لیے کراچی سے یورپ روانہ ہوئیں۔

واپس آنے کے بعد اگست 1985 میں انہیں 90 دن کے لیے گھر میں نظر بند کیا گیا اور ٹھیک ایک سال بعد یعنی اگست 1986 میں کراچی میں ایک جلسے میں ضیا حکومت کے خلاف تقریر کرنے پر دوبارہ گرفتار کر کے کراچی کی لانڈھی جیل میں رکھا گیا۔
اس کے بعد 1999 میں احتساب عدالت نے انہیں ایک مقدمے میں 5 سال قید اور عوامی عہدہ رکھنے سے نااہلی کی سزا سنائی لیکن وہ اس وقت ملک سے باہر تھیں اور بعد میں یہ سزا اعلیٰ عدالت میں ختم ہوگئی۔
سخت سردی، ہوادار سیل، اور کمبل بھی غائب
مارچ 1981 میں سکھر جیل میں قید کے بارے اپنی بائیو گرافی ’مشرق کی بیٹی‘ میں بے نظیر بھٹو لکھتی ہیں کہ ’ان کی کوٹھڑی کی سلاخوں سے صحرا کی سرد ترین ہوا اندر آتی ہے، کوٹھڑی ایک عظیم پنجرے کی مانند ہے اس میں صرف ایک چارپائی ہے، میں چارپائی پر سکڑتی ہوں کروٹ بدلتی ہوں جبکہ میرے دانت بج رہے ہوتے ہیں۔ میرے پاس کوئی سوئیٹر ہے نہ ہی کمبل، صرف شلوار قمیض میں ملبوس ہوں جو اس وقت پہنے ہوئے تھے، جب پانچ روز قبل کراچی میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ایک خاتون جیلر کو ترس آیا اور اس نے جرابوں کا ایک جوڑا مجھے لاکر دیا لیکن وہ اس قدر خوفزدہ تھی کہ اگلی صبح واپس لے لیا۔‘
اسی دوران انہیں کان میں شدید انفیکشن ہوا اور کئی ماہ درخواستں دینے کے بعد انھیں ایک نجی اسپتال لایا گیا تھا جہاں ان کا آپریشن ہوا تھا۔
سیل لال بیگوں اور مکھیوں سے بھرا تھا
سکھر جیل کی مشکلات بارے انہوں نے مزید لکھا کہ’جس کوٹھڑی میں رکھا گیا وہ چھوٹی اور گندی تھی۔ بیت الخلا میں فلیش سسٹم نہیں، وہ ہر وقت لال بیگوں اور مکھیوں سے بھرا رہتا۔ اس کی بدبو کوٹھڑی کے باہر صحن میں بہتی ہوئی اور گندی نالی کی بدبو سے مل کر فضا کو متعفن رکھتی ہے۔ پانی کی بالٹی میں مردہ کیڑوں کی بھر مار ہوتی۔‘
کھانے میں کیا ملتا تھا؟
سکھر جیل میں دیے جانے والے کھانے کے بارے بے نظیر اپنی کتاب میں لکھتی ہیں کہ ’صبح سویرے پنجرے کا دروازہ کھولتے اور ایک برائے نام کالی چائے ، ڈبل روٹی، برائے نام دال کا سوپ، ابلا ہوا کدو اور ہفتے میں دو بار مچھلی دوپہر و شام کے کھانے کے ساتھ لاتے ہیں۔‘
تین بار وزیراعظم رہنے والے نواز شریف
سابق وزیراعظم نواز شریف کو 1999 میں جنرل مشرف کی جانب سے مارشل لا لگانے کے بعد گرفتار کیا گیا۔ 2000 میں انہیں طیارہ اغوا اور دہشت گردی سے متعلق مقدمے میں عمر قید سنائی گئی، اسی دور میں انہیں ایک دوسرے مقدمے میں 14 سال قید کی سزا بھی ہوئی۔

دسمبر 2000 میں ان کی سزا تبدیل کرکے انہیں 425 دن بعد جیل سے رہا کیا گیا اور وہ سعودی عرب جلا وطن ہوگئے۔ بعد کے دور میں پاناما کیس سے متعلق ایون فیلڈ ریفرنس اور العزیزیہ ریفرنس میں بھی انہیں سزائیں ہوئیں، تاہم ان مقدمات کی قانونی حیثیت اور بعد کی عدالتی پیش رفت الگ الگ ہے۔ اس دوران انہوں نے تقریباً 2 ماہ جیل میں گزارے۔
نواز شریف کی جیل میں حیثیت عام قیدی سے مختلف رہی اور انہیں بہتر کلاس/خصوصی سہولیات کے حصول کے لیے قانونی و انتظامی راستے میسر رہے۔
نواز شریف کو ملنے والی سہولیات
نواز شریف کی جیل کے مختلف ادوار میں صورت حال ایک جیسی نہیں رہی، ان کے بارے میں سب سے اہم بات انہیں اے بی کلاس کی سہولیات میسر رہیں اور بعد میں طبی بنیادوں پر انہیں بہتر سہولتیں حاصل ہوئیں۔
پاکستان کے جیل قواعد کے تحت اے بی کلاس کے قیدیوں کو عام سی کلاس کے قیدیوں کے مقابلے میں بہتر بستر اور گدا میسر ہوتا ہے، میز اور کرسی کی سہولت دستیاب ہوتی ہے۔
نواز شریف کو بھی ذاتی کپڑے رکھنے کے علاوہ کتابوں اور اخبارات کی سہولت میسر رہی، اس کے علاوہ ان کو ٹی وی بھی دیا گیا تھا۔
انہیں خصوصی اجازت سے بہتر اضافی خوراک کی سہولت میسر تھی، اس کے علاوہ انہیں خاندان کی طرف سے بعض ضروری اشیا وصول کرنے کی رعایت بھی حاصل تھی۔
صدر آصف علی زرداری
صدر آصف علی زرداری کا معاملہ سب سے مختلف ہے کیونکہ ان کی قید بہت طویل رہی اور مختلف مقدمات اور مختلف ادوار میں انہوں نے جیل اور طبی حراست دونوں کا سامنا کیا۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صدر زرداری نے مجموعی طور پر تقریباً 11 سال جیل میں گزارے اور ان پر کرپشن کے الزامات کے مقدمات چلتے رہے، وہ اور ان کی جماعت ان مقدمات کو سیاسی طور پر محرک قرار دیتے رہے۔
2003 کی ایک رپورٹ میں پیپلز پارٹی کی جانب سے کہا گیا کہ زرداری نومبر 1996 سے حراست میں تھے اور بعض اوقات انہیں پمز اسلام آباد میں قید تنہائی میں رکھا جاتا تھا، جبکہ لاہور لے جائے جانے پر کوٹ لکھپت جیل میں رکھا جاتا تھا، اسی بیان میں ان کی خراب صحت کا بھی ذکر تھا۔ یہ بات پیپلز پارٹی کا مؤقف تھی، یہ سرکاری جیل رپورٹ نہیں تھی۔
آصف علی زرداری کو ملنے والی خصوصی سہولیات
صدر بننے کے بعد دوبارہ قید ہونے کے 2019 کے دور میں صورتحال بہت مختلف تھی۔ اسلام آباد کی احتساب عدالت نے جیل حکام کو ہدایت کی کہ زرداری کو قانون اور ڈاکٹرز کی ہدایات کے مطابق سہولیات دی جائیں۔
عدالت کے کہنے پر انہیں ائیر کنڈیشنر، ریفریجریٹر، انٹرنیٹ اور ذاتی ملازم اپنے خرچ پر رکھنے کی اجازت دی گئی تھی، اے سی کے بارے میں عدالت نے خاص طور پر کہا کہ ڈاکٹر تجویز کریں تو فراہم کیا جائے۔
یعنی زرداری کے معاملے میں عدالت نے بعض ایسی سہولیات کی اجازت دی جو عام قیدی کے لیے معمول کی سہولت نہیں سمجھی جاتیں۔
سابق صدر پرویز مشرف
پرویز مشرف پاکستان کے واحد سابق صدر ہیں جنہیں ہائی ٹریزن (سنگین غداری) کے مقدمے میں خصوصی عدالت نے 17 دسمبر 2019 کو سزائے موت سنائی، مقدمہ 2007 میں آئین معطل کرنے اور ایمرجنسی نافذ کرنے کے اقدامات سے متعلق تھا۔
جنوری 2020 میں لاہور ہائی کورٹ نے خصوصی عدالت اور اس کے فیصلے کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے سزا ختم کردی لیکن جنوری 2024 میں سپریم کورٹ نے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ ختم کردیا اور خصوصی عدالت کی سزا کو برقرار رکھا چونکہ مشرف 2023 میں انتقال کرچکے تھے، اس لیے معاملہ ان کی وفات کے بعد عدالتی سطح پر جاری رہا۔
سابق صدر پرویز مشرف کے بارے میں اہم نکتہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنی سزا جیل میں قید رہ کر نہیں کاٹی، مقدمے کے دوران وہ بیرونِ ملک تھے اور بیماری کے باعث عدالت میں پیش نہیں ہوئے اور اسی دوران ان کا انتقال ہو گیا۔
سابق وزیراعظم عمران خان
عمران خان کا معاملہ موجودہ دور کی سب سے اہم مثال ہے، وہ اگست 2023 سے جیل میں ہیں اور انہیں متعدد مقدمات میں سزائیں سنائی گئیں۔
اہم سزاؤں میں توشہ خانہ کیس میں انہیں 2023 میں تین سال قید سنائی گئی، سائفر کیس میں 2024 میں 10 سال قید کی سزا ہوئی تاہم یہ سزا بعد میں اپیل پر ختم ہوگئی۔
عمران خان کو غیر قانونی نکاح کیس میں 7 سال قید کی سزا سنائی گئی اور بعد ازاں انہیں اس کیس میں جولائی 2024 میں بری کر دیا گیا۔
القادر ٹرسٹ کیس میں جنوری 2025 میں عمران خان کو 14 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ ان کے خلاف 100 سے زیادہ قانونی مقدمات کا ذکر بھی کیا گیا ہے، اگرچہ ہر مقدمہ سزا پر منتج نہیں ہوا۔ عمران خان اور ان کی جماعت متعدد مقدمات کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہیں۔
18 اگست 2026 کو سپریم کورٹ نے ان کی بگڑتی ہوئی صحت کے پیش نظر انہیں جیل سے شفا انٹرنیشنل اسپتال اسلام آباد منتقل کرنے کا حکم دیا اور طبی ماہرین کی نگرانی میں علاج کی ہدایت کی۔
قیدِ تنہائی اور بیماری
2026 میں سپریم کورٹ میں جمع ہونے والی رپورٹس کے مطابق عمران خان کو بی کلاس سہولیات دی جا رہی تھیں، ان کے لیے عام قیدیوں سے الگ رہائشی کمپاؤنڈموجود تھا جو نسبتاً دوسرے قیدیوں کو میسر جگہ سے کشادہ تھا۔

انہیں چہل قدمی کے لیے مخصوص جگہ کی سہولت بھی میسر ہے، عمران خان کو ورزش کی سائیکل، ڈمبلز اور دیگر ورزش کا سامان بھی میسر ہے، پڑھنے کے لیے ان کے پاس تقریباً سو کتابیں موجود ہیں جبکہ اخبارات کی سہولت بھی میسر ہے۔
سابق وزیراعظم کو ایل ای ڈی ٹی وی، مطالعے کے لیے ٹیبل، کرسی، روم کولر، سردیوں میں ہیٹر کی سہولت، گرم اور ٹھنڈے پانی کی سہولت بھی دستیاب ہے، اس کے علاوہ الگ کچن، کھانا کھانا تیار کرنے کی سہولت بھی میسر ہے۔
اس کے علاوہ انہیں خصوصی طور پر اپنی پسند کھانا بھی میسر ہے، کپڑے اور کمرے کی صفائی کے لیے مخصوص عملہ دیا گیا ہے، انہیں ذاتی اشیا، مثلاً تولیے، جوتے وغیرہ رکھنے کی اجازت حاصل ہے۔ اس کے علاوہ انہیں قدرتی روشنی اور تازہ ہوا تک رسائی حاصل ہے۔ ان کی سیکیورٹی کے لیے متعدد سی سی ٹی وی کیمرے نصب ہیں۔
2026 کی جیل سپرنٹنڈنٹ کی رپورٹ کے مطابق ان کے کھانے میں کافی، دلیہ، کھجور، اخروٹ، شہد، لسی، دودھ، چیا سیڈز، جوس، دیسی مرغی، مٹن، دال، سلاد، انڈے، پھل اور خشک میوہ جات وغیرہ شامل تھے۔ رپورٹ کے مطابق کھانے کا انتظام خاندان کی طرف سے بھی کیا گیا تھا۔
تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ عمران خان کی جانب سے شکایت کی گئی کہ گرمی، حبس، مچھروں، مناسب ٹھنڈک نہ ہونے اور محدود وقت کے لیے سیل سے باہر نکالنے کی وجہ سے حالات مشکل تھے۔ عمران خان کی جانب سے کہا گیا کہ انہیں ریفریجریٹر کی جگہ کول باکس دیا گیا تھا۔
اس کے علاوہ ان کی پارٹی اور وکلا کا کہنا ہے کہ انہیں قید تنہائی میں رکھا گیا ہے جبکہ فیملی، وکلا اور پارٹی رہنماؤں سے بھی ملاقات نہیں کرنے دی جا رہی۔
18 اگست 2026 کو سپریم کورٹ نے صحت کے خدشات کے باعث انہیں شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا، ساتھ ہی طبی ماہرین اور ان کے ذاتی ڈاکٹر کی نگرانی اور ہفتہ وار خاندانی رابطے کی اجازت دی۔
