تہران: ایران نے امریکا سے جنگ بندی میں توسیع سے متعلق خبروں کی تردید کر دی۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق ایرانی عہدیدار نے جنگ بندی میں توسیع کی خبروں کی ترید کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اور ایران جنگ بندی میں توسیع سے متعلق کوئی مذاکرات نہیں ہورہے۔
انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کے آغاز کی کوئی تاریخ طے نہیں ہوئی اس لیے توسیع کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ امریکا نے عبوری معاہدہ طے پانے کے 48 گھنٹے بعد اس کی خلاف ورزی کی جبکہ امریکا عبوری معاہدہ طے پانے کے چند روز بعد معاہدے سے دستبردار ہو گیا تھا۔
اس سے قبل ترک نیوز ایجنسی نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکا اور ایران نے پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والی 60 روزہ جنگ بندی میں توسیع پر اتفاق کر لیا۔
ترک نیوز ایجنسی انادولو کی رپورٹ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی مدت 17 اگست کو ختم ہو رہی ہے۔ جنگ بندی میں توسیع پر اتفاق اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت ہوا۔
نیوز ایجنسی کا رپورٹ میں کہنا تھا کہ ایران اور امریکا نے ثالثوں کو توسیع پر اتفاق سے آگاہ کر دیا ہے۔ اور توسیع کی مدت طے کرنے کے لیے امریکا ایران کے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان کی ثالثی میں امریکا اور ایران نے اپریل میں جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا، جس کے بعد 17 جون کو مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے اور حتمی معاہدے کے لیے مذاکرات کا آغاز ہوا۔ تاہم بعد میں سیکیورٹی ضمانتوں اور آبنائے ہرمز میں آزادانہ بحری آمدورفت سمیت بعض اہم معاملات پر اختلافات کے باعث مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے۔
رپورٹ کے مطابق 8 سے 24 جولائی کے دوران امریکا اور ایران نے ایک دوسرے پر حملے بھی کیے۔ امریکا نے ایران کے اندر مختلف اہداف کو نشانہ بنایا، جبکہ ایران نے جواب میں اردن، بحرین اور کویت سمیت متعدد عرب ممالک میں موجود امریکی فوجی تنصیبات اور سازوسامان کو نشانہ بنایا۔
یہ بھی پڑھیں: دوبارہ خطرات کا سامنا ہوا تو توانائی اور انٹرنیٹ سے جڑا عالمی انفرا اسٹرکچر تباہ کر دینگے، پاسداران انقلاب
ذرائع کے مطابق جنگ بندی میں توسیع پر بنیادی اتفاق ہو گیا ہے، تاہم اس کی حتمی مدت ابھی طے نہیں ہوئی اور اس حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان رابطے جاری ہیں۔
