ایران کے پاسدارانِ انقلاب کے سابق سربراہ محسن رضائی کو ملک کی اعلیٰ ترین قومی سلامتی کونسل میں سپریم لیڈر کا نمائندہ مقرر کر دیا گیا ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے ترجمان مہدی طباطبائی کے مطابق یہ تقرری محمد باقر ذوالقدر کے استعفے کے بعد عمل میں لائی گئی، جنہیں نئی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔
71 سالہ محسن رضائی 1981 سے 1997 تک پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر انچیف رہے اور اس دوران انہوں نے ایران۔عراق جنگ کے بیشتر عرصے میں قیادت کی۔ بعد ازاں وہ مختلف اعلیٰ سیاسی عہدوں پر بھی فائز رہے اور سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے عسکری مشیر کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔
ایران کے سپریم لیڈر سید مجتبی خامنہ ای کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفیکیشن میں لکھا گیا کہ “آپ کے قیمتی تجربات اور آٹھ سالہ مقدس دفاع کے دوران آپ کے باعثِ افتخار کارناموں کے پیش نظر، آپ کو قومی سلامتی کونسل میں اپنے نمائندے کے طور پر منصوب کرتا ہوں۔ امید ہے کہ اس اہم ذمہ داری میں مکمل کامیابی حاصل کرسکیں۔”
یاد رہے کہ حالیہ مہینوں میں محسن رضائی نے آبنائے ہرمز کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا کنٹرول “درجنوں ایٹم بموں سے بھی زیادہ اہم” ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
سابق سربراہ محمد باقر ذوالقدر، جو خود بھی پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ رہے ہیں، اب سپریم لیڈر کے سیاسی مشیر کے طور پر ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔
